ڈاکٹر قدیر کی نقل و حرکت محدود کرنے کیخلاف کیس کی سماعت بند کمرے میں ہوگی

ڈاکٹر قدیر کی نقل و حرکت محدود کرنے کیخلاف کیس کی سماعت بند کمرے میں ہوگی

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائیکورٹ نے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر کی نقل حرکت محدود کرنے کیخلاف درخواست پر وفاقی حکومت کو جواب داخل کرانے کیلئے مہلت دیتے ہوئے اس کیس کی بند کمرے میں سماعت سے متعلق حکومت کی استدعا بھی منظور کرلی ۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹرجسٹس سردار شمیم احمد خان نے اس کیس کی ان کیمرہ سماعت کے لئے 26 اپریل کی تاریخ مقرر کر دی۔چیف جسٹس نے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی درخواست پر سماعت شروع کی تو حکومت کے وکلاء نے درخواست کا جواب داخل کرنے کے لئے مہلت مانگی ، جس پر ڈاکٹر قدیر خان کے وکیل ڈاکٹر خالد رانجھا نے جواب داخل نہ کرنے پر افسوس ظاہر کیا اور موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کی عمر84 برس ہوچکی ہے اور سیکیورٹی کے نام پر ان کی زندگی عذاب بن گئی ہے،حکومت کے وکیل احمربلال صوفی نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان قومی ہیرو ہیں، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی زندگی کو کل بھی خطرہ تھا، آج بھی خطرات لاحق ہیں۔سرکاری وکیل نے استدعا کی کہ جواب بند کمرے کی کارروائی میں پیش کرنا چاہتے ہیں ،معاملہ حساس نوعیت کا ہے اوپن کورٹ میں جواب جمع نہیں کرواسکتے ، درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سکیورٹی کے نام پر ڈاکٹرقدیرکی نقل و حرکت پر مکمل پابندی عائد ہے،گھر کے باہر تعینات سیکیورٹی اہلکار اور رکاوٹوں کو ہٹایا جائے،ڈاکٹر قدیر کو تعلیمی اداروں کی تقریبات میں شرکت کی اجازت نہیں دی جاتی، ملاقات کے لئے آنے والے سرکاری افسران اور میڈیا کے لوگوں سے ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی،کے آر ایل کے سربراہ کے طور پر جو سیکیورٹی مہیا کی گئی تھی ،وہ واپس کی جائے، نقل و حرکت اور نظر بندی سمیت تمام پابندیوں کو ختم کیا جائے۔

ڈاکٹر قدیر

مزید : صفحہ آخر