2018کے انتخابات میں حصہ لینے والے 4ہزار امیدواروں کے سر پر خطرے کی تلوار

2018کے انتخابات میں حصہ لینے والے 4ہزار امیدواروں کے سر پر خطرے کی تلوار

اسلام آباد( آن لائن ) 2018کے عام انتخابات میں حصہ لینے والے ان 4ہزار امیدواروں کے سر پر خطرے کی تلوار لٹک رہی ہے جنہوں نے انتخابات میں حصہ لیا لیکن مہلت دیے جانے کے باوجود متعلقہ ریٹرننگ افسران کو انتخابی اخراجات کی تفصیلات فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن نے متعلقہ ڈسٹرکٹ کمشنرز کو بحیثیت مجازی افسران ایسے تمام امیدواروں کیخلاف مجرمانہ مقدما ت کے اختیارات دیدیے ہیں۔ذرائع کا مزید کہنا تھا غیر قانونی کام کرنے کی صورت میں زیادہ سے زیادہ 2 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے، الیکشن ایکٹ کی دفعہ 134 کے تحت انتخابات میں کامیاب ہونیوالے امیدوار کے علاوہ دیگر امیدواروں کو بھی فارم سی پر اپنے انتخابی اخراجات کی تفصیلات ریٹرننگ افسران کے پاس جمع کروانا لازمی ہے،اس کے علاوہ دفعہ 175 کے مطابق اگر کوئی انتخابی اخراجات کے حوالے سے عمل کرنے میں ناکام ہوجاتا ہے تو اسے جرم کا مرتکب قرار دیا جائے گا۔الیکشن ایکٹ 136 کے تحت ریٹر ننگ افسر مقررہ مدت کے دوران انتخابی اخراجات کی تفصیلات فراہم نہ کرنیوالے امیدواروں کو نوٹس بھیجنے کا پابند ہوگا جس میں ان سے ہدا یات کے مطابق عمل نہ کرنے کے حوالے سے پوچھا جائے گا اور اگر وہ نوٹس پر عمل نہیں کرتے تو ریٹرننگ افسر اس حوالے سے الیکشن کمیشن کو آگاہ کریں گے۔مذکورہ رپورٹ ملنے پر الیکشن کمیشن ایسے امیدواروں کو نوٹسز بھیجے گا اور ان سے عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ کے بارے میں پوچھے گا۔قانون کے مطابق امیدوار ایسی صورتحال میں کہ جب معاملات اس کے اختیار سے باہر ہوں، انتخابی اخراجات کی تفصیلات جمع کروانے میں تاخیر کی درخواست دے سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے اس سلسلے میں 3 نوٹسز جاری کرنے کے بعد ملک بھر میں انتخابی اخراجات کی تفصیلات جمع نہ کروانیوالے امیدواروں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا، اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنرز کو اپنے اور ریٹر ننگ افسران کے پاس موجود ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد ایسے تمام امیدواروں کیخلاف شکایات درج کروانے کیلئے مرا سلہ ارسال کردیا گیا ہے۔اس کے علاوہ الیکشن کمیشن نے ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنرز کو یہ بھی ہدایت کی کہ جو امیدوار شکایات دائر کیے جانے سے قبل اپنی دستاویزات جمع کروادے تو ان کیخلاف کارروائی عمل میں نہ لائی جائے۔

خطرہ تلوار

مزید : صفحہ آخر