زندہ قوم اور اس کے تقاضے

زندہ قوم اور اس کے تقاضے
زندہ قوم اور اس کے تقاضے

  

قوموں کی زندگی میں اونچ نیچ ، اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں ۔ قومیں وہی زندہ رہتی ہیں جو ان سب تکالیف کا مردانہ وار مقابلہ کرتی ہیں۔ قیام پاکستان سے پہلے قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی قیادت میں ہم ایک قوم تھے اور ملک کی تشکیل کے لئے جدوجہد کررہے تھے جب یہ جدوجہد کامیابی سے ہمکنار ہوئی اور پاکستان وجود میں آگیا تو بانی پاکستان کی رحلت کے بعد ایسے حالات رونما ہوئے کہ ملک کے حصول کے بعد ہم فرقوں اور ذاتوں میں بٹ گئے اور وہ قوم نہ رہے جو قیام پاکستان سے پہلے تھی۔

آج بھی ہمیں انہیں حالات کا سامنا ہے ۔ کوئی پنجابی ہے تو کوئی سندھی کوئی پختون ہے تو کوئی بلوچ ، اگر آپ بھارت کی طرف دیکھیں تو وہاں مسلمان کسمپرسی کی حالت میں ہیں ان کے ساتھ انتہائی معاندانہ اور متعصبانہ رویہ روا رکھا جارہا ہے۔ مساجد گرائی جارہی ہیں ، گھر جلائے جارہے ہیں، مسلمان خواتین کی بے حرمتی کی جارہی ہے ۔ یہ سب دیکھ کر بابائے قوم اور ان کے رفقاء کی فہم و فراست پر بے اختیار دعائیں نکلتی ہیں کہ انہوں نے دو قومی نظریہ کی بنیاد پر پاکستان قائم کیاجس میں ہم آج سکھ کا سانس لے رہے ہیں۔

اگر پاکستان نہ بنتا تو ہم بھی آج اسی ہندو گردی کا شکار ہوتے۔ الحمد للہ! اب ہم ایک زندہ قوم ہیں اور ہمیں اس کا ثبوت بھی دینا ہوگا اور ہمیں وہی وطیرہ اختیار کرنا ہوگا جو زندہ قوموں کا شیوہ ہوتا ہے۔آج وطن عزیز ہم سے اس بات کا متقاضی ہے کہ ہمیں معاشی مشکلات کا ثابت قدمی کے ساتھ مقابلہ کریں ملک میں ہر آدمی مہنگائی کی شکایت کررہا ہے ، پٹرول مہنگا ہے ، بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، گیس مہنگی ہے ، دوائیوں کے دام بڑھ گئے ہیں جس کے باعث غریب آدمی کی حالت دگرگوں ہے اور ان آوازوں کا شور پورے ملک میں سنا جارہا ہے۔

یہ سب کچھ اپنی جگہ درست مگر تحریک جدوجہد آزادی اور اس میں ہمارے بزرگوں کی دی جانے والی فقید المثال قربانیوں کے مقابلے میں یہ مہنگائی کیا حیثیت رکھتی ہے اگر ہمیں پھر سے قیام پاکستان والی قوم بنناہے تو جذبہ بھی وہی پیدا کرنا ہوگا۔ بجلی، پٹرول ، گیس یہ سب آپ کے ہاتھ میں ہے ان کا ضرورت کے وقت اور کم استعمال کریں تو آپ کے اخراجات میں کمی ہوگی یہ ایک عبوری وقت ہے اور گزر جائے گا۔ اور یہ بھی ایک مسلمہ امر ہے کہ کوئی بھی حکومت جو عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوئی ہو تو اس کا کبھی یہ مطمح نظر نہیں ہوتا کہ وہ اپنی قوم اور ووٹروں کے لئے مشکلات پیدا کرے لیکن حالات اور واقعات کے پیش نظر با امر مجبوری اسے یہ اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کوئی حکومت اکیلے کچھ نہیں کر سکتی عوام کو اس کا ساتھ دینا ایک لازمی امر ہے کہ حکومت بھی تو عوام کی ہی ہوتی ہے۔

ہاں اس حوالے سے حکمرانوں کا رویہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آیا ان میں جذبہ اخلاص موجود ہے اور اگر ایسا ہے تو پھر حالات یقیناًبدل جاتے ہیں اور پھر موجودہ حکومت کو آئے ہوئے بھی کوئی زیادہ عرصہ نہیں گزرا وقت کے ساتھ ساتھ وہ حالات پر قابو پا لے گی ادھر حکومت سے بھی ہماری گزارش ہے کہ وہ مہنگائی کو اپنی پہلی ترجیح کے طور پر لے اور ایسے اقدامات کرے جس سے عوام کو مہنگائی سے جلد از جلد چھٹکارا حاصل ہو اور حکومت خصوصاً وزیر اعظم عمران خان کو چاہیے کہ وہ اس اہم مسئلے پر عوام کو اعتماد میں لیں اس ضمن میں ان کے پاس کئی ذرائع موجود ہیں جن میں میڈیا ، ذرائع ابلاغ یا پھر شہر شہر جلسوں کا اہتمام کیا جائے اور عوام کو مہنگائی کی وجوہات اور اس کے حل کے لئے حکومتی اقدامات سے آگاہ کیاجائے اور اس سلسلے میں بہتر ہوگا کہ حکومت مخالف سیاستدانوں کو بھی اعتماد میں لیا جائے پاکستانی قوم اب با شعور ہے وہ نیک وبد میں تفریق کرنے کی صلاحیتوں کی حامل ہے اگر حکومتی جواز واقعی قابل اعتماد ہوئے تو حکومت عوام کو شانہ بشانہ اپنے ساتھ پائے گی۔

مزید :

رائے -کالم -