بھارت مقبوضہ وادی میں شکست کھا چکا، مودی طاقت کی بنیاد پر کشمیریوں کوغلام نہیں رکھ سکتا: سراج الحق

بھارت مقبوضہ وادی میں شکست کھا چکا، مودی طاقت کی بنیاد پر کشمیریوں کوغلام ...

اسلام آباد(آئی این پی) جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ 22کروڑ پاکستانی عوام کشمیریوں کے شانہ بشانہ ہیں نریندر مودی طاقت کی بنیاد پر کشمیریوں کو غلام نہیں رکھ سکتا،اقوام متحدہ اور عالمی برادری کشمیریوں کو ان کا بنیادی اور پیدائشی حق فراہم کروانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے ،ہندوستان کشمیر میں شکست کھا چکا ہے ،نریند ر مودی کی انتہا پسند پالیسیوں کی وجہ سے ہندوستان کے اندر ایک اور پاکستان معروض وجود میں آئے گا ،وفاقی حکومت آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کو آئینی اور سیاسی حقوق صوبوں سے بڑھ کر دے ،عالمی استعمار اسلامی تحریکوں کو اپنے لیے چیلنج سمجھتا ہے اسلامی تحریکیں پر امن تبدیلی اور رائے عامہ کو منظم کر کے حقیقی تبدیلی کی جدوجہد کررہی ہے دنیا کی بد امنی کی بڑی وجہ سپر طاقتوں کی جارحانہ اور انتہا پسندانہ پالیسیاں ہیں اسلام امن اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے پاکستان اور آزادکشمیر کے تمام مسائل کا واحد حل اللہ کے دئیے ہوئے نظام کو قائم کرنے اور اس کے نفاذ میں ہے ،ان خیالات کااظہار انہوں نے جماعت اسلامی آزادکشمیر کے مرکزی نائب امیر راجہ جہانگیر خان کی قیادت میں ملنے والے وفد جس میں سیکرٹری جنرل راجہ فاضل تبسم،ڈپٹی سیکرٹری جنرل آفتاب عالم ایڈووکیٹ،سیکرٹری اطلاعات راجہ ذاکر خان شامل تھے گفتگو کرتے ہوئے کیا ،اس موقع پر سینیٹر سراج الحق کو مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورت حال سے آگاہ کیا ،وفد سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ کشمیر ہمارے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے کشمیری تقسیم برصغیر کے نامکمل ایجنڈے کی تکمیل کی جدوجہد کررہے ہیں کشمیریوں کی جدوجہد اقوام متحدہ کے چارٹر کے عین مطابق ہے کشمیریوں کو اپنے حق کے لیے بھارتی قبضے کے خلاف جدوجہد کرنے کا حق اقوام متحدہ کا چارٹر فراہم کرتا ہے انہوں نے کہاکہ ہندوستان کی قیادت نے خود اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں جا کر ساری دنیا کے سامنے عہد کیا کہ وہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دے گی ،ہندوستان نے اپنے عہد سے انخراف کیا ہے اب عالمی برادری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ہندوستان کو کٹہرے میں لائے اور کشمیریوں کو ان کا حق دلوانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

سراج الحق

مزید : صفحہ آخر