اگلے سال5400 ارب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف؟

اگلے سال5400 ارب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف؟
 اگلے سال5400 ارب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف؟

  

ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی سالانہ رپورٹ ’’آؤٹ لک 2019ء‘‘ ورلڈ بینک سالانہ رپورٹ میں پاکستانی معیشت بارے شکوک و شبہات کے اظہار کے بعد آئی ایم ایف نے بھی اپنے اندازے بیان کر دیئے ہیں جن کے مطابق جاری مالی سال کے دوران معاشی نمو کی شرح 2.9 فیصد کی سطح پر رہے گی۔ایشین ڈویلپمنٹ بینک، ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے مطابق خام قومی پیداوار کی شرح افزائش میں کمی ہو گی۔ ورلڈ بینک کے مطابق جی ڈی پی کی شرح افزائش 3.4 فیصد، ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے مطابق 3.9 فیصد ہو گی جبکہ آئی ایم ایف کے مطابق شرح نمو 2.9 فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔

یہ پیش گوئیاں دیکھ کر لگتا ہے کہ ہم دن بدن معاشی بحران میں دھنستے چلے جا رہے ہیں ہماری معاشی حالت پتلی ہی نہیں خاصی مخدوش ہو چکی ہے عمومی حالات بھی ایسے ہی نظر آ رہے ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ مکمل سچ نہیں ہے یہ ادارے عالمی سیاست میں مہرے کے طور پر کام کرتے ہیں ان اداروں میں امریکہ و دیگر سرمایہ دارانہ نظام کے حامل ممالک کا اثر و رسوخ ہے وہ اربوں کھربوں ڈالر ان اداروں کو دیتے ہیں تو یہ سب کچھ ’’ اللہ واسطے‘‘ اور ہمارے جیسے ممالک کی ’’ خیر اور بھلائی‘‘ کے لئے نہیں کرتے ان ممالک کے سیاسی اور کبھی کبھار مذہبی عزائم بھی ہوتے ہیں جن کی تکمیل کے لئے ان اداروں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ ان اداروں کی پبلیکیشنز، تحقیقاتی رپورٹوں کو مخصوص انداز کا ماحول پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ان اداروں میں دنیا کے بہترین اور ذہین افراد ملازمت کرتے ہیں انکی تحقیق اور تجربے کو پوری دنیا میں قدر و منزلت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

2013ء میں چین نے عظیم الشان ’’ ون بیلٹ۔ ون روڈ‘‘ منصوبہ شروع کیا 2015ء میں پاکستان اس منصوبے میں شامل ہوا اور ’’ چائنا پاکستان اکنامک کاریڈور‘‘ کی صورت میں چین نے یہاں 64 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تو پوری دنیا میں ایک زلزلہ سا آ گیا چین نے ون بیلٹ، ون روڈ کے تحت وسط ایشیاء جنوب ایشیا، افریقہ اور یورپی ممالک کو اس میں شامل ہونے کی دعوت دی تو عالمی چودھری امریکہ کو اپنی عالمی چودھراہٹ ڈولتی نظر آنے لگی۔

اس نے چین کے اس منصوبے کی مخالفت شروع کر دی۔ پاکستان پر بھی دباؤ بڑھایا جانے لگا کہ وہ سی پیک سے دستبردار ہو جائے انڈیا اور کچھ عرب ممالک کو شہہ بھی دی گئی کہ وہ اس منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں کریں چاہ بہار کی فعالیت ایسے ہی اقدامات کا حصہ ہے جس کا مقصد گوادر پورٹ کی اہمیت کو کم کرنا ہے۔

ورلڈ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ایسے ہی ادارے ہیں جنہیں امریکہ پاکستان کا بازو مروڑنے کے لئے استعمال کر رہا ہے یہ ادارے بڑے منظم اور سائنٹیفک انداز میں پاکستان کا ناطقہ بند کرنے میں لگے ہوئے ہیں کبھی پاکستان کو ’’ ایسا‘‘ اور کبھی ’’ ویسا‘‘ کرنے کی ہدایات دی جاتی ہیں کبھی مالیاتی نظام کی ری سٹرکچرنگ کا کہا جاتا ہے کبھی زرعی نظام کی تنظیم نو اور تطہیر کا حکم دیا جاتا ہے۔

آئی ایم ایف کے ساتھ ہمارے مذاکرات ایک عرصے سے چل رہے ہیں ہمارے معاشی حکمت کاروں کے مطابق جاری معاشی بحران سے بچنے کے لئے ہمیں آئی ایم ایف کا بیل آؤٹ پیکج درکار ہے اس لئے وہ ہم پر نئی نئی شرائط عاید کر رہا ہے ہمارے پاس کیونکہ دوسرا کوئی آپشن موجود ہی نہیں ہے اس لئے با امر مجبوری اس کے احکامات پر عمل درآمد کرتے چلے آ رہے ہیں اب آئی ایم ایف نے تجویز کیا ہے کہ 2019-20ء میں وصولیوں کا ہدف 5400 ارب روپے مقرر کیا جائے ایک طرف وہ بتا رہے ہیں کہ 2018-20ء میں اقتصادی شرح نمو 2.9 فیصد کی سطح پر رہے گی جاری مالیاتی سال میں وصولیوں کا ہدف 4398 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا لیکن جون 2019ء تک توقع ہے کہ 3800/3850 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا ہو پائے گا۔

گزشتہ سال یعنی 2017-18ء میں 3842 ارب کا ٹیکس اکٹھا کیا گیا تھا اس دفعہ اگر 3850 ارب روپے ہی جمع ہو پائے تو غنیمت ہوگا۔

عالمی ادارے کہہ رہے ہیں کہ 2018-19ء میں اقتصادی نمو کی شرح کم رہے گی ایسے میں طے شدہ اہداف پورے نہیں ہو پا رہے ہیں 2019-20ء میں وصولیوں کے اہداف میں 40 فیصد اضافہ کس طرح ممکن ہے۔ گویا آئی ایم ایف کے تجویز کردہ ٹارگٹس کسی طور بھی حقیقی نہیں ہیں ایک طرف عالمی ادارے پیش گوئیاں کر رہے ہیں کہ پاکستانی معیشت 2018-19ء میں طے کردہ شرح کے مطابق بڑھوتی ظاہر نہیں کر پائے گی اور اگلے سال 2019-20ء میں بھی نمو کی شرح ایسے ہی رہنے کی امید ہے وہ تو آئندہ پانچ سالوں کے دوران معاشی نمو کی شرح میں بڑھوتی/ بہتری نہیں دیکھ رہے ہیں ایسے میں 5400 ارپ روپے کے ٹیکس وصولیوں کا ہدف تجویز کرنا کیا احمقانہ نہیں ہے۔

مزید :

رائے -کالم -