آٹھ ماہ میں چوتھا آئی جی

آٹھ ماہ میں چوتھا آئی جی
 آٹھ ماہ میں چوتھا آئی جی

  

پنجاب میں آٹھ ماہ کے عرصے میں چوتھا آئی جی پولیس تعینات ہوا ہے، یعنی اوسطً دو ماہ لگے ہیں آئی جی کی تبدیلی میں۔ پولیس ایک ایسا محکمہ ہے جس کی کارکردگی پر حکومت کا انحصار ہوتا ہے۔ پولیس نااہلی کا مظاہرہ کرے تو جرائم بڑھ جاتے ہیں۔کرپشن میں لپٹ جائے تو ناانصافی بڑھ جاتی ہے اور ظلم کرنے لگے تو معاشرے میں خوف بڑھتا ہے،اس لئے ہر حکومت کی توجہ پولیس پر ہوتی ہے، لیکن یہ ایک ایسا گھوڑا ہے جس پر کاٹھی تو ڈالی جا سکتی ہے، سواری نہیں کی جا سکتی۔ کسی وقت بھی یہ سوار کو چاروں شانے چت کر سکتا ہے۔ پنجاب پولیس تو پورے ملک میں مشہور ہے،کارکردگی دکھانے پر آئے تو کوئی کسر نہیں چھوڑتی اور ظلم ڈھانے پر آئے تو اُس کا ثانی دور دور تک نظر نہیں آتا۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن جیسا واقعہ اس کے ماتھے پر ظلم کے کلنک کا بدنما داغ ہے،اسی طرح سانحۂ ساہیوال نے اس کے پروفیشنلزم کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ ایک بگڑے ہوئے محکمے کو سیدھا کرنے کے لئے حکومت کے پاس صرف ایک ہی راستہ ہوتا ہے کہ آئی جی تبدیل کر دیا جائے۔ آئی جی تبدیل کرنے سے کیا ہوتا ہے؟۔۔۔ نیچے پورا نظام، سیاسی اشرافیہ کا دباؤ اور مافیاز کا پولیس کے ساتھ گٹھ جوڑ تو وہیں کا وہیں رہتاہے، وہ تو ایک انچ اِدھر اُدھر نہیں ہوتا۔ نیا آئی جی بھی کیا کر سکتا ہے۔

وہ بھی زیادہ سے زیادہ اتنا ہی کرتا ہے کہ افسروں کو تبدیل کر دیا جائے،یعنی ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں بھیج دیا جائے، اس سے آئی جی کو کیا فائدہ مل سکتا ہے؟ وہ تو پورے صوبے کا آئی جی ہوتا ہے اور پورے صوبے میں پولیس کی کارکردگی بہتر نہ ہو تو اسے اچھا آئی جی کیسے کہا جا سکتا ہے،وہ افسروں کو ملتان سے لاہور بھیج دے یا لاہور سے پنڈی یا کہیں اور، اگر وہ نااہل افسر ہیں، اُن کا رویہ عوام دشمنی پر مبنی ہے، وہ کرپٹ ہیں اور تھانے بیچتے ہیں تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ یہ کام اوکاڑہ میں بیٹھ کے کرتے ہیں یا ڈیرہ غازی خان میں،بدنامی تو آئی جی کے حصے میں ہی آتی ہے۔

بیورو کریسی، پولیس اور حکومت۔ یہ ایک ایسی تکون ہے،جب تک اس میں انڈر سٹینڈنگ اور ہم آہنگی نہ ہو اچھا نتیجہ آ ہی نہیں سکتا۔ اس وقت تو یوں لگتا ہے کہ یہ ایک دوسرے کی مخالف سمت کھڑے ہیں۔کہیں سے نہیں لگ رہا کہ حکومت اور یہ دو بڑے ریاستی ادارے ایک صفحہ پر ہیں۔ بات چونکہ آج پولیس کی ہو رہی ہے، اِس لئے یہی دیکھئے کہ حکومت پولیس میں ایک فیصد بھی اصلاح نہیں کر سکی، اس کے برعکس یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ خود پولیس افسران کے اندر یہ سوچ جنم لے رہی ہے کہ انہیں پولیس کو بہتر کرنا ہے۔

اس سلسلے میں بہت سے ایسے اقدامات اٹھائے گئے ہیں جن سے عوام کو فائدہ پہنچ رہا ہے، مگر جو کام حکومت نے کرنے تھے، پولیس میں اصلاحات لانی تھیں، پولیس کو عوامی خدمت کا ادارہ بنانا تھا، وہ کیا ہوئے؟آپ کسی آئی جی سے توقع رکھیں کہ وہ اس پولیس نظام کے اندر رہ کر کون معجزہ دکھادے تو یہ احمقانہ سوچ ہے۔مَیں نے پنجاب پولیس میں سردار محمد چودھری جیسا دبنگ اور وژنری آئی جی نہیں دیکھا، مگر مجھے 1991ء میں ایک انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے ہاتھ کھڑے کر دیئے تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہمارا معاشرہ اچھی پولیس قبول ہی نہیں کرتا۔ اُسے تو وہ پولیس چاہئے جو طاقتور مافیا کی آلۂ کار بن کر رہے اور جب کوئی ایسا وقت آئے جب پولیس نے قانون اور بااثر مافیا میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو تو مافیا کی طرف جھکاؤ ظاہر کرے۔

کیا یہ شرمناک حقیقت نہیں کہ پولیس آئے روز مظلوم کی بجائے ظالم کا ساتھ دیتی ہے اور میڈیا شور مچائے تو افسران کی آنکھ پر پڑا پردہ اُترتا ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ پولیس کی تربیت میں اِس امر کی کمی کیوں رکھ دی گئی ہے کہ وہ جانتے بوجھتے ظالموں کی آل�ۂ کار بن جاتی ہے۔ عوام کہیں سڑکوں پر لاشیں رکھ کر پولیس کی ناانصافی پر احتجاج کرتے ہیں اور کبھی سڑکیں بلاک کر کے پولیس کے ظلم کی دہائی دیتے ہیں۔

ایک راستہ تو یہ ہے کہ خود سیاسی اشرافیہ پولیس کو سیاسی دباؤ سے آزاد کر دے۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ پولیس خود ہمت کرے اور کسی بااثر ظالم کا ساتھ دینے سے انکار کر دے۔

میرٹ کو اپنا لے اور قانون کے مطابق اپنا کردار ادا کرے۔ یہ دوسرا راستہ سب سے پہلے آئی جی کو اپنانا پڑے گا۔ وہ اگر سیاسی دباؤ کو مسترد کرنے کی جرأت پیدا کر لیتا ہے تو پھر اس کے اثرات نیچے تک مرتب ہوں گے۔ بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوتا۔جو شخص سب سے زیادہ سیاسی دباؤ قبول کرتا ہے،وہ آئی جی ہے۔ ضلعوں میں پسندیدہ افسروں کی تقرری کے لئے ارکانِ اسمبلی گروپوں کی شکل میں جاتے ہیں، کوئی ایسا افسر تعینات ہے جو بہت ایماندار اور محنتی ہے، لیکن ارکانِ اسمبلی کے کہنے پر ایس ایچ او نہیں بدلتا، ناجائز پرچے نہیں ہونے دیتا تو یہ ارکان آئی جی پر دباؤ ڈال کر اُس کا تبادلہ کرا لیتے ہیں، کیونکہ آئی جی کو علم ہوتا ہے کہ ان کی بات نہ سنی گئی تو یہ سب چیف منسٹر کے پاس جائیں گے اور دہائی دیں گے کہ آئی جی حکومت مخالف ہے: اُسے تبدیل کیا جائے۔

کئی بار یہ کہا گیا کہ آئی جی کو تین سالہ مدت کے لئے تعینات کیا جائے، تاکہ وہ آزادانہ اور ٹرانسفر کے خوف سے آزاد ہو کر اپنے فرائض انجام دے سکے، مگر یہ بات سیاسی اشرافیہ کو گوارا نہیں، کیونکہ اس صورت حال میں آئی جی اُن کے دباؤ سے آزا ہو سکتا ہے اور آئی جی کا آزاد ہونا گویا پولیس کا سیاسی دباؤ سے آزاد ہونا ہے۔یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پولیس کو کھلی آزادی بھی نہیں دی جا سکتی، تاوقتیکہ وہ ایک منظم، قانون پسند اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا حامل ادارہ نہ بن جائے،اِس لئے گھوم پھر کر بات پھر وہیں آتی ہے کہ پولیس کو سیاسی دباؤ سے آزاد کرنا ہی سب سے بڑا مسئلہ نہیں،بلکہ پولیس کا ٹھیک ہونا بھی ضروری ہے،

ظاہر ہے یہ سب کچھ صرف آئی جی کی تبدیلی سے ممکن نہیں،اس کے لئے پولیس آرڈر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔جرأت مندانہ اصلاحات کے بغیر بات نہیں بنے گی۔ پولیس کو بے لگام اختیارات حاصل ہیں،اُس کی برائیوں کا علاج بھی اعلیٰ افسران کے ہاتھ میں دیا گیا ہے، جو ساری زندگی اس خبط سے نہیں نکلتے کہ سخت اقدامات اٹھائے گئے تو فورس کا مورال ڈاؤن ہو جائے گا۔

اب آپ سبکدوش ہونے والے آئی جی امجد سلیمی کی مثال ہی دیکھیں۔ انہوں نے عہدہ سنبھالا تو سانحۂ ساہیوال پیش آیا۔انہوں نے ایک جرأت مندانہ کردار ادا کرنے کی بجائے مصلحت پسندی کا راستہ اختیار کیا۔اُن کی طرف سے سانحہ کو مختلف رنگ دینے کے لئے جھوٹ پر جھوٹ بولا گیا۔قوم ایک طرف تھی اور پولیس دوسری طرف کھڑی جھوٹے راگ الاپ رہی تھی۔یہ سب کس لئے کیا؟ کیا اِس لئے کہ اپنی غلطی مان لی تو سی ٹی ڈی یا پولیس پر حرف آئے گا، حالانکہ اس واقعہ کے بعد پولیس کا رہا سہا امیج بھی عوام کی نظروں میں گر گیا تھا۔اگر امجد سلیمی میں قائدانہ صلاحیت ہوتی تو سامنے آتے،اپنے محکمے کی غلطی تسلیم کرتے اور قاتلوں، نیز پنجاب پولیس کو لواحقین اور قوم کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے۔ ورثا اور قوم اُن کے اس اقدام کو سراہتی، پولیس اتنی بے توقیر نہ ہوتی، جتنی جھوٹ بول بول کر ہوئی۔

اس کی وجہ سے حکومت کو شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ دباؤ تو اُسی وقت چاروں طرف سے بڑھ گیا تھا کہ آئی جی امجد سلیمی کو برطرف کیا جائے، تاہم کام چلتا رہا۔آج انہیں دو سطری نوٹیفکیشن کے ذریعے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن بھیج دیا گیا ہے تو انہیں سوچنا چاہئے کہ بطور آئی جی وہ پنجاب پولیس کو کیا دے گئے ہیں؟ دُنیا کے مہذب ممالک میں پولیس سے زیادتی ہو جائے تو جھوٹی تاویلیں نہیں گھڑتی، بلکہ سیدھا معافی مانگتی ہے۔ یہاں یہ ہوا کہ پولیس نے دن دیہاڑے سب کے سامنے بندے مارے اور پھر جھوٹی کہانیاں بھی گھڑیں۔

اب دیکھتے ہیں کیپٹن(ر) عارف نواز اس گھمبیر صورتِ حال میں پنجاب پولیس کی کمان کیسے کرتے ہیں۔اتنا ضرور ہے کہ عمران خان کی طرف سے انہیں کسی دباؤ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ شہباز شریف کے بہت قریب رہے ہیں، لیکن میرے نزدیک یہ فروعی باتیں ہیں۔ شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب تھے، سینئر افسر وزیراعلیٰ کے قریب ہی ہوتے ہیں۔اصل ٹاسک یہ ہے کہ وہ پنجاب میں پولیس کی کارکردگی بڑھانے اور اصلاح کے لئے کیا اقدامات اٹھاتے ہیں؟اللہ کرے وہ اچھی کارکردگی دکھائیں اور دو ماہ کی اوسط مدت کی بجائے اپنا تین سالہ ٹینور پورا کریں، تاکہ پنجاب پولیس میں بہتری کے آثار نظر آئیں۔

مزید :

رائے -کالم -