سنسان میدان جنگ (1)

سنسان میدان جنگ (1)
 سنسان میدان جنگ (1)

  

بظاہر آپ کو یہ عنوان عجیب سا لگتا ہو گا کہ آیا کبھی میدان جنگ بھی سنسان ہو سکتا ہے۔ جنگ کے ہنگامے تو ضرب المثل ہیں۔ پرانے زمانے سے لے کر آج کے دور تک ساری کی ساری جنگیں جس گھن گرج اور شور و غل سے لڑی گئیں ان سے ایک دنیا واقف ہے اور اب اگر کوئی شخص کسی میدان جنگ کو سنسان اور ویران کہہ کر پکارتا ہے تو یا تو اسے جنگی الف، ب کا پتہ نہیں یا پھر وہ عسکری تاریخ سے واقف نہیں۔یہ تو ہم سب کو معلوم ہے کہ قرون وسطیٰ اور اس سے بھی قبل جتنی جنگیں لڑی گئیں ان کی گہما گہمی اتنی زیادہ ہوتی تھی کہ بڑے بڑے سورماؤں کے دل دہل جایا کرتے تھے۔

دور کیوں جائیں برصغیر میں مغلیہ خاندان کے زوال تک جنگ کا یہی انداز رہا کہ کوئی ایک میدان جنگ منتخب کرکے اس میں فریقین صف آرا ہو جاتے تھے اور پھر مقررہ وقت پر گھمسان کا رن پڑتا اور کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔

بیسیوں صدی کا آغاز ہوا تو اس کے دوسرے عشرے میں پہلی عالمی جنگ شروع ہو گئی۔ اس کے بیس اکیس سال بعد دوسری عالمی جنگ نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس کے بعد اگرچہ کوئی عالمی جنگ تو نہیں ہوئی، لیکن کوریا کی جنگ، ویت نام کی جنگ، عرب اسرائیلی جنگیں، پاک بھارت جنگیں، فاک لینڈ کی جنگ، ایران عراق کی جنگ، جنگ افغانستان اور خلیج کی پہلی جنگ، عراق، لیبیا اور شام کی جنگ، ایسی جنگیں ہیں جنہیں عالمی جنگ کے مقابلے میں محض لوکل جنگیں کہا جا سکتا ہے۔

تاہم ان تمام جنگوں میں اتنے وسیع پیمانے پر انسان اور ہتھیار استعمال کئے گئے کہ کتنی ہی بار قیامتیں آئیں اور دنیا نے گویا نئے سرے سے جنم لیا۔ اب اس تمام ہماہمی اور غل غپاڑے کو اگر میدان جنگ کی سنسانی کا نام دے دیا جائے تو اس میں حیرانی والی بات تو ہے۔دراصل یہ سنسانی یا خالی پن والی بات میدان جنگ کے رقبے اور پھر رقبے پر لڑنے والی فورس کے تناسب پر منحصر تھا۔ مطلب یہ ہے کہ ماضی میں محدود رقبے پر کثیر فوجوں کا اجتماع ہوا کرتا تھا لیکن بعد میں یہ بات آہستہ آہستہ ختم ہوتی گئی۔

مثلاً غزوہ بدر میں بدر کا میدان گویا ایک ایسی مخصوص و محدود جگہ تھی جہاں تقریباً ڈیڑھ ہزار (1313افراد کے لگ بھگ) افراد برسرپیکار ہوئے۔ پھر آگے چلیں تو تمام اسلامی جنگوں کا یہی حال رہا۔ خلافت راشدہ، خلافت بنو امیہ اور خلافت عباسیہ میں بھی یہی انداز رہا کہ ایک مخصوص جگہ کو میدان جنگ مان کر اس پر فریقین اپنی ’’طبع آزمائی‘‘ کیا کرتے تھے اور آبادیوں سے دور یہ فیصلہ ہو جایا کرتا تھا کہ کون فاتح ہے اور کون مفتوح۔

منگولوں کی تاخت و تاراج ایک عالمی سانحہ تھا لیکن اس کے لئے بھی روایتی میدان جنگ موجود تھے۔ جن کے رقبے محدود تھے۔ ان میں زیادہ سے زیادہ افواج جمع کرکے ان کو لڑایا گیا اور شکست و فتح کا فیصلہ کیا گیا۔ منگول مہمات کے بعد منگولوں کی اولاد کم و بیس چار پانچ سو سال تک وسط یورپ اور برصغیر میں پرانے اصول ہائے جنگ کو اپنا کر جنگیں لڑتی رہی اور کامیابیاں حاصل کرتی رہی۔

ایشیا میں امیر تیمور، بابر، اکبر اور اورنگ زیب اسی خانوادے کے افراد تھے۔ چین، جاپان اور مشرقی ایشیاء میں انہی کی نسلیں انہی کے انداز میں حربی معرکے بپا کرتی رہیں۔ دوسری طرف روس میں بھی صد ہا سال تک یہی انداز جاری و ساری رہا۔ بلکہ روسیوں کے ڈاکٹرین میں بے پناہ فائر پاور اور بے شمار نفری کو استعمال کرنے کا جو عنصر آج بھی موجود ہے وہ دراصل چنگیز اور ہلاکو ہی کی ٹیکٹیکس کا عکس ہے۔۔۔لیکن مغربی یورپ اور امریکہ دو ایسے براعظم تھے جو منگولوں کی یلغار سے نسبتاً محفوظ رہے۔

شاید اسی لئے ان کا اندازِ حرب و ضرب بھی مشرقی یورپ، شمالی افریقہ اور ایشیاء والوں سے کچھ الگ تھلگ رہا۔ ان کی سوچ اور ان کی فکر چونکہ باقی عالمی برادری سے انوکھی اور نرالی تھی اور اس پر کسی عالمگیر شکست خوردگی کا ایسا سایہ نہ تھا جیساکہ منگولوں کی شکست کا باقی دنیا پر تھا اس لئے ٹیکٹکس، سٹرٹیجی، ہتھیاروں اور دوسرے عسکری موضوعات پر اہل یورپ و امریکہ کا نقطہ ء نگاہ مختلف بھی تھا اور انقلاب انگیز بھی۔ اسی پس منظر میں جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے ساری دنیا کو عسکری رہنمائی دی۔

1857ء سے لے کر 1914ء تک کا دور فوجی اعتبار سے بڑا عہد آفریں دور ہے۔1827ء میں جرمنی کے ایک آفیسر میجر جان شیرف نے ایک کتاب لکھی جس کا نام اس نے انفنٹری کی جدید ٹیکٹیکس (The News Tactics of Infantry) رکھا۔ اس کتاب کا ایک باب اس نے ایک ایسے موضوع کے لئے مختص کیا جو اس وقت تک سب کی نگاہوں سے اوجھل تھا۔ اس میں اس نے تحریر کیا کہ 1857ء کے بعد کی جنگیں (جن میں فرانس اور جرمنی کی 1870-71ء کی جنگ بھی شامل تھی) ایک عجیب و غریب صداقت کا پتہ دیتی ہیں اور وہ یہ ہے کہ میدان جنگ میں ٹروپس کا بکھراؤ (Dispersion) اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ ماضی کے مقابلہ میں حال کا میدان جنگ سونا سونا اور خالی خالی نظر آنے لگا ہے۔۔۔ میدان جنگ کی سنسانی کی طرف یہ اس کا پہلا اشارہ تھا۔

اس عجیب و غریب ’’دریافت‘‘ کا ایک اور پہلو بھی تھا جو سنسانی والی بات سے بھی زیادہ حیرت انگیز تھا اور وہ یہ تھا کہ جدید ہتھیار جوں جوں زیادہ مہلک ہوتے جاتے ہیں میدان جنگ میں کام آنے والوں کی تعداد توں توں گھٹتی جاتی ہے۔۔۔ بظاہر یہ بہت عجیب انکشاف تھا کہ مہلک اور قاتل ہتھیاروں کی تو بھرمار ہو لیکن انسانی جانوں کا ضیاع کم ہو جائے۔ لیکن اس نے جو اعداد و شمار اور حوالہ جات اپنے نظریئے کی تائید میں درج کئے ان سے انکار ممکن نہ تھا۔

برطانیہ میں اس نئے نظریئے کی سُن گُن سب سے پہلے کیپٹن لڈل ہارٹ نے لی۔ اس نے 1960ء میں امریکہ کے مشہور عسکری مجلے ملٹری ریویو میں ایک مضمون لکھا اور اس میں اس موضوع پر کچھ کھل کر بات کی اور نتیجہ یہ نکالا کہ عسکری تاریخ اور عسکری واقعات کے بعض معمے ایسے ہیں جو اس نئے نظریئے کی صداقت کا سراغ دیتے ہیں۔ایک اور عسکری مورخ ٹی این ڈوپے (TN DUPUY)نے اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا کہ میدانِ جنگ میں ٹروپس کے بکھراؤ کی کثافت رفتہ رفتہ کم ہو رہی ہے۔

زمانہ قدم میں اگر دس مربع میٹر پر ایک سپاہی لڑتا تھا تو آج پچاس ہزار مربع میٹر پر ایک سپاہی صف آرا ہے اور قرون وسطیٰ میں جہاں 260 میٹر فی سپاہی کا حساب تھا تو پہلی عالمی جنگ میں وہ 2500میٹر فی سپاہی ہو گیا۔ دوسری جنگ عظیم ختم ہوئی تو ٹروپس کی کثافت گھٹ کر 27500میٹر فی سپاہی ہو گئی۔ اور اس کے بعد اکتوبر 1973ء کی عرب اسرائیلی جنگ میں یہ کثافت دس میٹر فی سپاہی تھی۔ جنگ افغانستان میں کم ہو کر پچاس ہزار میٹر فی سپاہی رہ گئی ۔اسی صداقت کو ’’سنسان میدان جنگ‘‘ یا (Empty Battlefield) کا نام دیا گیا۔

بہرحال جب رقبے اور فاصلے پھیلے تو اسی نسبت سے افواج کی تعداد نہ پھیل سکی اور یوں زمین اور سپاہ کا تناسب وہ نہ رہ سکا جو انیسویں صدی کے وسط تک تھا۔انیسویں صدی کے وسط کے بعد اس تبدیلی کا سبب کیا تھا، اس موضوع پر ہم آگے چل کر بحث کریں گے۔ فی الحال یہ دیکھتے ہیں کہ جیسے جیسے جدید ہتھیار ایجاد ہوتے گئے ویسے ویسے اتلافات (Casualties) کی شرح کم کیوں ہوتی گئی یعنی پانی پت کی پہلی لڑائی میں شرح اتلاف 15.5 فیصد تھی تو اکتوبر 1973ء کی عرب اسرائیلی جنگ میں 1.8فیصد کیوں ہو گئی۔

گویا یہ ترقی معکوس تھی اور ایک اعتبار سے دیکھا جائے تو خوش آئند بھی تھی۔آیئے ذرا مختصراً یہ دیکھتے ہیں کہ شرح قتل یا شرح اتلافات بجائے بڑھنے کے کم کیوں ہو گئی اور اس تسلسل میں یہ بھی دیکھتے ہیں کہ میدان جنگ کی کثافت اور شرح اتلافات کی کمی کے برعکس دوسری طرف افواج کا حجم، جنگ کا دورانیہ اور میدان جنگ کی حدود محاذ (Frontages) بڑھ کیوں گئیں۔

ٹی این ڈوپے کے مطابق شرح اتلافات اس لئے کم ہوئی کہ ٹروپس زیادہ بکھر کر لڑنے لگے۔ لیکن اگر زیادہ بکھر کر لڑنے سے اموات/ اتلافات کم ہو سکتی تھیں تو پرانے زمانے میں ایسا کیوں نہ کیا گیا؟ اس کا سادہ سا جواب تو یہ ہے کہ پرانے زمانے میں ایسا ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ اس دور میں تو دوبدو اور دست بدست لڑائی ناگزیر تھی۔ تلوار، خنجر، بھالا پہلے ایجاد ہوا اور ان ہتھیاروں کے ساتھ لڑنے کے لئے آپس میں گتھم گتھا ہونا ضروری قرار پایا۔ اس کے بعد نیزہء بازی میں بھی دو متحارب سپاہیوں کا فاصلہ صرف چند فٹ یا چند گز ہو سکتا تھا۔ البتہ جب تیر کمان کی ایجاد ہوئی تو یہ فاصلہ کچھ بڑھا لیکن اس کی بھی ایک حد تھی۔

ہر جنگ میں ایکشن اور شاک دو ایسے عناصر ہوتے ہیں جن سے لڑائیاں جیتی جا سکتی ہے، لہٰذا ایکشن اور شاک کے حصول کے لئے فریقین زیادہ سے زیادہ ٹروپس کا اجتماع کیا کرتے تھے۔ظاہر ہے زیادہ اکٹھ اور ہجوم ہو گا تو زیادہ ایکشن اور زیادہ شاک کی تحصیل ممکن ہو سکے گی۔ لہٰذا زیادہ سے زیادہ آدمی کم سے کم علاقے میں اکٹھے کرکے ان سے بڑے پیمانے پر ہلاکت کا کام لیا گیا۔ اس نظریئے نے انفرادی ایکشن سے آگے بڑھ کر اجتماعی ایکشن کی صورت میں پلاٹونوں، بٹالینوں، بریگیڈوں اور ڈویژنوں کی شکل اختیار کر لی۔

جیسا کہ قبل ازیں کہا گیا 1857ء تک یہی صورت حال رہی۔ اگرچہ اس وقت تک توڑے دار بندوق ایجاد ہو چکی تھی، دور مار ہتھیار کے طور پر توپخانہ وجود میں آ چکا تھا اور برصغیر ہندو پاک میں بابر نے پانی پت کی پہلی لڑائی میں ابراہیم لودھی کے خلاف توپیں بھی استعمال کی تھیں لیکن 1857ء کے بعد تقریباً چالیس پچاس سالوں میں بارودی ہتھیاروں نے بہت ترقی کی، ان بارودی ہتھیاروں میں سپاہی کی انفرادی رائفل پیش پیش تھی۔ سپاہی کی اس انفرادی رائفل نے آگے چل کر میدان جنگ کا پورا نقشہ ہی بدل ڈالا۔ (جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -