مٹی کی مجبوری

مٹی کی مجبوری
 مٹی کی مجبوری

  

وزیراعظم عمران خان کا عزم ہے کہ وہ ملک سے کرپشن کا خاتمہ کرکے دم لیں گے ، یہ عزم اور استقلال جنرل مشرف کو بھی تھا ، ان پر بھی عوام کے ایک طبقے کو ایسا ہی اعتبار تھا،مگر پھر ان کا سات نکاتی ایجنڈا ہوا ہوگیا، پیچھے صرف نیب زادے رہ گئے اور کرپشن کا کوڑا صرف سیاسی مخالفین پر ہی برسنے لگا۔ نون لیگ سے قاف لیگ اور پیپلز پارٹی سے پیٹریاٹ نے جنم لے لیا۔ اس سارے عمل میں اکانومی کو ٹھیک کرنے کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ قاف لیگ اور پیٹریاٹ نے جنرل مشرف کا وقت تو نکلوا دیا مگر جن کے خلاف کرپشن کی تلوار چل رہی تھی ، انہیں این آراو پیش کردیا گیا ۔

اب وزیراعظم عمران خان بھی ملک سے کرپشن کا خاتمہ چاہتے ہیں، مگر وہ بھی جاتی عمرہ سے شروع ہو کر لاڑکانہ پر ختم ہوجاتے ہیں ، ان کو آسانی یہ ہے کہ ان کے قاف لیگئے اور پیٹریاٹس انتخابات سے قبل ہی وجود میں آگئے تھے ۔ جہانگیر ترین کا لودھراں جنونیوں کا جی ایچ کیو بنا رہا ۔ ان دنوں وزیراعظم کے کرپشن کے خلاف عزم نے نیب کو ہلکان کیا ہوا ہے ، وہ کرپشن کے خلاف کارروائی کے نام پر وزیراعظم عمران خان کے سیاسی مخالفین کا جلوس نکالے ہوئے ہے، جبکہ عوام اشارے کے منتظر ہیں ۔

دیکھا جائے تو کرپشن کا خاتمہ عمران خان کا پرانا ایجنڈا ہے ، وہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نون کی قیادت کو کرپشن کے بت ثابت کرنے پر تلے رہے ہیں ، ان دونوں کو پچھاڑ کر اقتدار میں آنا آسان نہ تھا اور انتخابی نتائج نے بتادیا کہ وہ آسانی سے اقتدار میں نہیں آئے ہیں،بلکہ یوں کہئے کہ آسانی سے لائے بھی نہیں جا سکے ہیں ۔ اب آتے ہی انہوں نے اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیا ہے،جبکہ عوام کو آٹے دال کا بھاؤ معلوم پڑ رہا ہے،مگر وزیراعظم عمران خان اپنے ایجنڈے سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں، سوال یہ ہے کہ اگر جنرل مشرف جیسا طاقتور آمر ملک سے کرپشن کے نام پر دو بڑی سیاسی جماعتوں کو ختم نہ کر سکا ، ان کی قیادت کو غیر مقبول نہ کر سکا تو عمران خان جیسا کمزور جمہوری حاکم کیا کرسکتا ہے ۔

سوال یہ بھی ہے کہ آخر عمران خان کا ایجنڈا سیاسی مخالفین کی بیخ کنی کیوں ہے ، ان سے انہیں ایسی کیا پرخاش ہے یا پھر ایسا کیا خطرہ ہے کہ وہ ان کے وجود کو ہی ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ جمہوریت میں اختلاف رائے کو برداشت کیا جائے تو جمہوریت پھلتی پھولتی ہے، مگر جہاں انتقام کی آگ جلتی ہے وہاں غیر جمہوری قوتوں کو کھل کھیلنے کا موقع مل جاتا ہے ۔ نون لیگ اور پیپلز پارٹی نے نوے کی پوری دہائی ضائع کرکے یہ سبق سیکھا تھا اور میثاقِ جمہوریت کا ڈاکومنٹ تیار کیا تھا کہ ہم ایک دوسرے کو اقتدار سے باہر کرنے کے لئے غیر جمہوری ہتھکنڈے استعمال نہیں کریں گے ۔

ان دونوں کے درمیان ہونے والا میثاق اپنی جگہ رہا اور پاکستان تحریک انصاف اسے دو برائیوں کا گٹھ جوڑ قرار دے کر عوام کی محبوب ٹھہری۔ ہماری عوام بھی خوب ہے ، سسٹم چلنے نہیں دیتی اور سسٹم کی خرابیوں پر کڑھتی رہتی ہے۔ 2018ء کے انتخابات میں عوام نے جو امیدیں پی ٹی آئی سے باندھی تھیں وہ ختم بھی ہو جائیں تو کیا غم، عوام نئی امیدیں باندھ لیں گے، امید تو کبھی دم نہیں توڑتی ہے۔ عوام یہی امید کسی اور سے باندھ لیں گے ، اللہ اللہ خیر سلہ!

دیکھا جائے تو کرپشن اس ملک کے حکمرانوں کا مسئلہ تو ہوسکتا ہے، مگر عوام کا مسئلہ نہیں رہا ہے ۔ عوام نے کرپشن سے نباہ کرلیاہے،پی ٹی آئی کی دلدادہ ایک خاتون کے بیٹے نے کسی کے ساتھ کاروبار میں شراکت کی تو وہ پیسے لے کر ہوا ہوگیا۔ اس کے خلاف پرچہ کروایا گیا تو اس خاتون کو پیسے دینے پڑے ، اس کی ضمانت نہ ہونے دینے پر پیسے دینے پڑے اور آخر میں آدھے پیسے چھوڑ کر باقی کے آدھے پیسوں کی ریکوری کی۔ اب ان کا اصرار ہے کہ جہنمی صرف وہی ہوں گے، جنہوں نے ان سے پیسے لئے ، دینے والے کی مجبوری بھی ہو سکتی ہے ۔

یہ ہے نیا پاکستان کہ کام اسی طرح ہو رہے ہیں ، جو لوگ پہلے کرپشن پر کڑھتے تھے اب کرپشن کرکے کہتے ہیں کہ یہ ان کی مجبوری تھی ۔ کل کو وزیراعظم عمران خان بھی کہیں گے کہ اگر وہ ملک سے کرپشن ختم نہیں کرسکے تو ان کی کوئی مجبوری تھی ۔

روک سکو تو پہلے بارش کی بوندوں کو تم روکو

کچی مٹی تو مہکے گی ، یہ مٹی کی مجبوری

مزید :

رائے -کالم -