مقدر

مقدر

عجب سی کشمکش میں

مبتلا ہوں میں مہینوں سے

وہ میرے سامنے بھی ہو تو

میں کچھ کہہ نہیں سکتا

محبت کے کئی عنواں کئی چہرے

یہ ایسی کیفیت ہے جو کہ

لفظوں میں نہیں ڈھلتی

بہت سوچا

بہت سمجھا

بہت چاہا

محبت کو چھپا لوں میں

مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ درد ایسا ہے کہ آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

میری سوچوں کے محور کو یہ بتلانا ضروری ہے

کہ دریا کا کنارہ ہو

یا ہوں قوس قزح کے رنگ

بادل اور گھٹائیں ہوں

شناساؤں کا جھرمٹ ہو

میری آنکھوں میں آویزاں اسی کا روپ رہتا ہے

میرا وجدان کہتا ہے کہ بازی اب پلٹنی ہے

اگر ہو اِذن یزداں کا

جو کچھ پہلے نہیں پایا

مجھے وہ مل کے رہنا ہے

محبت جس سے کرتا ہوں

وہی میرا مقدر ہے

***

مزید : رائے /کالم