سندھ اسمبلی : ایوان کی کارروائی سے قبل ہی اپوزیشن کی جانب سے شور شرابہ

سندھ اسمبلی : ایوان کی کارروائی سے قبل ہی اپوزیشن کی جانب سے شور شرابہ

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی میں منگل کو ایوان کی کارروائی سے قبل ہی اپوزیشن کی جانب سے نعرے بازی اور شور شرابہ کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔اجلاس شروع ہونے میں تاخیر ہوئی تو پی ٹی آئی سمیت اپوزیشن جماعتوں کے بعض ارکان نے اسپیکرکی نشست کے سامنے جمع ہوکر احتجاج شروع کردیا، حلیم عادل شیخ سمیت دیگرارکان نے نیب زرہ خوف زدہ اور اجلاس شروع کرو کے نعرے لگائے ارکان کی تھوڑی دیر کی نعرے بازی کام آگئی اور کچھ ہی دیر بعد اسپیکر آغا سراج درانی ایوان میں آگئے اور انہوں نے اجلاس کی کارروائی کا آغازکر دیا اجلاس ڈیڑھ گھنٹے تاخیر سے شروع ہوا۔ تلاوت کلام پاک اور فاتحہ خوانی کے بعد پی ٹی آئی ارکان نشستوں پر کھڑے ہوگئے۔ اپوزیشن ارکان نے بعض معاملات پر اسپیکر سے بولنے کی اجازت چاہی شروع میں اسپیکر نے اجازت نہیں دی تاہم اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی کی درخواست پر انہیں دس منٹ بولنے کی اجازت دیدی گئی جس پر حکومتی بنچوں سے اعتراض بھی کیا گیا۔ اسی دوران پیپلزپارٹی کے فیاض ب ٹ اور پی ٹی آئی کے راجہ اظہر میں تلخ کلامی ہوئی۔ پی ٹی آئی کے راجہ اظہر کی جانب سے پیپلزپارٹی قیادت کے خلاف شیم کے الفاظ استعمال کئے گئے جس پر بات تلخ کلامی تک جاپہنچی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر مکیش چاولہ بھی شدید برہم ہوگئے انہوں نے اپوزیشن رکن سے انکے ریمارکس پر معذرت کا مطالبہ کیا۔فردوس شمیم نقوی کا کہنا تھا کہ ہم کافی دیر سے اجلاس شروع ہونے کے منتظر تھے جس پر اسپیکر نے جواب میں کہا کہ آپ لوگ بائیکاٹ کردیتے ہیں ،مجھے تو کچھ پتہ نہیں آپ لوگوں نے اندربٹھادیاہے لگتاہے کہ میں ہندوستان سے نکل کرنئے پاکستان میں آیا ہوں آغاسراج نے کہا کہ میرانیب ریمانڈ اب ختم ہوگیا ہے۔جس وقت اسپیکر اور قائد حزب اختلاف کے درمیان مکالمہ جاری تھا حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان زبردست گرما گرمی دیکھنے میں آئی ۔ اپوزیشن رکن نے پیپلزپارٹی کی قیادت کے خلاف شیم کا نعرہ لگادیا جس پر صوبائی وزرابرہم ہوگئے۔اس موقع پر پیپلزپارٹی کے فیاض ب ٹ اور پی ٹی آئی کے ارسلان تاج گھمن میں تلخ کلامی بھی ہوئی۔وزیر پارلیمانی امور مکیش چالہ نے کہا کہ انکی جرات کیسے ہوئی کہ میری قیادت کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کریں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ارسلان تاج معافی مانگیں۔وقفہ سوال سے قبل جب لیڈر آف دی اپوزیشن فردوس شمیم نقوی کو بات کرنے کی اجازت دی گئی تو پیپلز پارٹی نے انہیں اجازت دیئے جانے پر اعتراض بھی کیا تاہم اسپیکر نے دس منٹ بات کرنے کی اجازت دے دی ۔اس موقع پرحکومتی اراکین نے شور شرابہ بھی کیا۔ ایوان میں نظمی کے دوران پیپلزپارٹی اراکین اور تحریک انصاف کے ارکین نے آپس میں دست وگریبان ہونے کی بھی کوشش کی اور دونوں طرف کے ارکان طیش کے عالم میں ایک دوسرے کی طرف لپکے لیکن دونوں جانب کے سنجیدہ ارکان کی مداخلت سے معاملہ ہاتھ پائی تک پہنچنے سے بچ گیا۔ فردوس شمیم نقوی نے اسپیکر سے شکوہ کیا کہ آپ اسمبلی وقت پر آتے ہیں تو پھراجلاس شروع کیوں نہیں ہوتا،اور جب کبھی کورم پورا نہیں ہوتا توآپ اجلاس ملتوی کردیتے ہیں۔فردوس شمیم نقوی نے کہا ایوان میں اپوزیشن کو برداشت نہیں کیا جارہا ۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ قائمہ کمیٹیاں اپوزیشن اپوزیشن کے بغیر چل سکتی ہیں تو چلالیں ،پبلک اکاونٹس کمیٹی میں اپوزیشن کوشامل نہیں کیاگیاجس پر آغا سراج درانی نے کہا کہ میں یکطرفہ طور پر کسی کی حمایت نہیں کرتا ، آپ لوگ آئے دن ایوان سے واک آوٹ کرتے ہیں میرے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں،میری شکل شاید آپکو اچھی نہیں لگتی ، میں سب کوچیلنج کرتاہوں کہ مجھ سے باہر آکر بات کریں،اگرمیں غلط کررہاہوں تو میرے خلاف تحریک عدم اعتماد لائیں لیکن آپ لوگ میرے چیمبر آنے سے ڈرتے ہیں آغاسراج نے کہا کہ آپ میرے گھر پر آجائیں،جب میں گھرجاونگاتو پہلے آپکو بلاونگا۔آپکو میں جنگلات کابہترین شہد کھلاوں گا،کھانا کھلاونگا اور بہت کچھ پلاونگا لیکن یہ اسمبلی ہے کوئی جلسہ گاہ نہیں کہ روز شور شرابہ کیا جائے۔ فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ آپ پبلک اکاونٹس کمیٹیوں میں دوسری جماعتوں کوبھی حصہ دے دیتے جس پر اسپیکر نے کہا کہ آپ لوگوں کو میٹنگ کے لئے بلایا گیا تھالیکن کوئی بھی نہیں آیا۔ جس پر فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں پیپلزپارٹی کے پانچ اور اپوزیشن جماعتوں کا ایک رکن ہے ،ایک دن بھی پرائیوٹ ممبر ڈے کاایجنڈا پورا نہیں ہوا،بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں سب کو برابر کی نمائندگی دی جائے۔انہوں نے کہا کہ بات سننے کی ہمت رکھو شاید اس سے صوبے کافائدہ ہوجائے ۔انہوں نے کہا کہ تنقید کاموقع چھین لیں گے تو جمہوریت پروان نہیں چڑھیگی۔ اسپیکرنے کہا کہ آپ نے ہائی کورٹ میں میرے خلاف درخواست دی ،مجھے پتہ ہے عدالت نے آپکو کہا یہ مسئلہ اسپیکر حل کریں گے اسپیکرنے کہا کہ میں تو وہاں تھا آپ کبھی جائیں گے تو آپ کوخود پتا چل جائے گا،میں تو کہتا ہوں اللہ آپ کو بچائے میں اندر تھا مگر ملک سے باہر نہیں تھا اسپیکرنے کہا کہ میں بند تھا مگر بھارت میں نہیں تھا اسپیکرنے قائد حزب اختلاف کو پیشکش کی کہ آپ متفق ہوں بجٹ پر ساتھ بیٹھا جاسکتا ہے ۔جس پر وزیر پارلیمانی امور مکیش کمار چالہ نے بتایا کہ بات ہوئی ہے پری بجٹ ڈسکشن پر پیر سے جمعہ تک بیٹھیں گے اگر زیادہ طوالت ہوئی تو مزید دن بھی بیٹھا جاسکتا ہے جاتی بجٹ اور پری بجٹ پر بھی بات ہوگی ۔ فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ اجلاس شام کو ہوتا ہے تو مشکلات ہوتی ہیں اور ہم حلقوں میں نہیں جاسکتے ہیں ۔ اسپیکر نے کہا کہ مجھے تو نیب سے آنا پڑتا ہے دیر تو ویسے بھی ہوتی ہے اس موقع پراپوزیشن اور حکومت کے مابین اجلاس بارہ بجے طلب کرنے پر اتفاق ہوا اور پری بجٹ پر بحث میں حصہ لینے کے لیئے اپوزیشن ارکان بھی راضی ہوگئے۔ مکیش کمار چالہ نے کہا کہ پانچ روز بحث کے لیے مختص ہیں، ضرورت پڑنے پر اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔آئندہ مالی سال کی بجٹ تجاویز پر پیر سے بحث ہوگ

مزید : صفحہ اول