خیبر پختونخوا اسمبلی اجلاس ، آپریشن میں شامل پولیس اہلکاروں کو انعامات دینے کا مطالبہ

خیبر پختونخوا اسمبلی اجلاس ، آپریشن میں شامل پولیس اہلکاروں کو انعامات دینے ...

  

پشاور(نیوز رپورٹر)خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر محمود خان کی صدارت میں تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا،پی پی پی کی خاتون رکن نگہت اور کزئی نے دھشت گردوں کے خلاف حیات آباد پشادر میں پولیس اہل اہلکاروں کو انعامات دینے کا مطالبہ کیا ۔ڈپٹی سپیکر کی ھدایت پر رکن اسمبلی عنائیت اللہ نے شہید پولیس اہلکار کے لئے دعائے مغفرت مانگی فاتحہ پڑ ھی انھوں نے کہا کہ دھشت گرد ی کے خلاف ہماری پولیس جاری فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جو قربانیاں دی ہیں وہ تحسین کے قابل ہے انہوں نے کہا کہ ان قربانیوں کی وجہ سے آجج دہشت گردی کے واقعات ختم ہو گئے ہیں اور امن آیا ہے انہوں نے کہا کہ پچھلے دور میں اسمبلی سے قانون نافذ ہوا تھا کہ اگر کوئی کرایہ دارر کی گھر میں رہائش اختیار کرے گا تو اس کی متعلقہ پولیس اسٹیشن میں رجسٹریشن کرے گا پھر کے حیات آباد جیسے پولیس اسٹیشن علاقے میں ایک گھر کرایہ پر لے کر اس میں اسلحہ اکٹھا کیا اور پولیس کے ساتھ اتنا مقابلہ کیا ۔انہوں نے کہا کہ قانون اسمبلی سے منظور ہوا ہے پھر اس پر عمل درامد کیوں نہیں ہوتا ۔انہوں نے ہوٹلوں میں کمرے لینے والوں کو بھی اس نظام سے مربوط کرنے پر زور دیا تاکہ امن کا ستحکام یقینی بنایا جاسکے۔اپوزیشن رکن لائق محمد خان نے بھی شہید پولیس افراد کو خراج عقیدت پیش کیا۔اے این پی کے خوش دل خان نے استغفار کیا کہ کب تک ایسے واقعات ہوتے رہیں گے انہوں نے واقع کی مزمت کی اور کہا کہ ہمیں سیاسی و وابستگی سے بالا تر ہو کر سب کو ایک پیج پر آنا ہو گا اور اداروں کے ساتھ بیٹھ کر اس ہال نکالنا ہو گا اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا کہ سرحدوں پر دہشت گردوں کو روکنے کے لئے تمام تر انتظامات موجود ہیں پھر دہشت گرد کیسے آتے ہیں انہوں نے کہا کہ پولیس کی بھی دہشتگردی کے خلاف سہولیات اور تربیت بڑھائی جائے پی پی کے احمد کنڈی نے کہا کہ پولیس فوج سمیت معاشرے کے تمام طبقات حتی کہ بچوں اور عورتوں تک نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دی انہوں نے کہا کہ گزشتہ چالیس سال سے یہ حالات چل رہے ہیں اے این پی کے وقار احمد خان نے توجہ دلا نوٹس پر مطالبہ کیا کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال سوات کی حثیت بحال کر کے 23 لاکھ آبادی والے ضلع کے عوام کی محرومیوں کو دور کیا جائے سینئر وزیر عاطف خان نے کہا کہ ٹیچنگ ہسپتال کی تعمیر مکمل ہونے پر ہسپتال کی ڈی ایچ کیو کی حثیت بحال کر دی جائے گی اپوزیشن کی خاتون رکن ریحانہ اسمعیل نے مجد مہابت خان کو تاریخی ورثے کو محفوظ بنانے کے فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے اس کے اطراف میں کھدائی روکی جائے اور اس تاریخی مذھبی عبادت گاہ کے طور پر محفوظ بنایا جائے سینئر صوبائی وزیر عاطف خان نے کہا کہ اس حوالے سے کوئی سیاسی دباؤ قبول نہیں کیاجائے گا اور اسے محفوظ بنایا جائے گا وزیراعلی کی جانب سے سینئر وزیر عاطف خان نے خیبر پختونخوا چیریز بل 2019 ایوان میں پیش کیا ۔ایوان نے سینئر وزیر برائے کھیل عاطف خان کی تحریک پر خیبر پختونخوا یوتھ ڈویلپمنٹ کمیشن بل 2019 زیر غور لا کر اس کی منظوری دے دی بعد ازاں بحث کے بعد ڈپٹی سپیکر محمود خان نے اجلاس جمعہ کے روز تک کے لئے ملتوی کر دیا۔

مزید :

صفحہ اول -