قومی ہاکی کا زوال اور اسباب

قومی ہاکی کا زوال اور اسباب
 قومی ہاکی کا زوال اور اسباب

  

وہ قومیں کبھی ترقی نہیں کرتیں جو اپنے ہیروز کو بھول جاتی ہیں ۔کسی بھی ملک کی بنیادی ترقی کے پیچھے اس کے وہ ہیروز منظر عام پر ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے وطن کی عزت و عظمت کی سربلندی کو ہمیشہ ترجیح دی ہو اور اس پر کوئی سمجھوتہ نا کیا ہو ،ایسے ہیروز چاہے سرحدی محاذوں پر پائے جائیں یا دنیا کے کسی بھی کونے میں ہونے والے کھیلوں کے میدانوں میںیا پھر تعلیمی سطح پر ہمیں اپنے ہیروز کو ان کے اعلیٰ کارناموں پر اعزازات سے نوازنا چاہئے،لیکن اعزاز تو دور کی بات ہم انہیں ان کی کارکردگی پر سراہنے سے بھی گریزاں ہیں ۔بات ہیروز کی ہے تو جس کے سبب ہمارے ایسے ہیروز جنم لیتے ہیں ان پر تھوڑی بات ہو جائے ۔

کسی دور میں ہاکی ہمارا قومی کھیل تھا جیسے چنبیلی ہمارا قومی پھول ہے، مگر گستاخی معاف نا تو ہمارا ہاکی سے واسطہ رہا نہ ہی چنبیلی ہمارا قومی پھول رہا۔ اب دیکھا جائے تو کرکٹ ہمارا قومی کھیل اور گلاب ہمارا قومی پھول بن چکا ہے۔ ہاکی کی طرف دیکھیں تو ہمیں ایسا لگتا ہے جیسے کسی بچے کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ جاتا ہے اور اس پر یتیم ہونے کا لیبل لگ جاتا ہے ویسی ہی صورتِ حال اس وقت ہاکی کے ساتھ ہے جس کو اعلیٰ پائے کا سربراہ نہ ملنے کے باعث اس پر سے قومی کھیل کا لیبل ہٹا دیا گیا ہے یا ہٹا دیا جائے گا ۔

ہاکی کے زوال کی جانب اگر نظر دوڑائی جائے تو ہمیں یہ بات صاف ظاہر ہو گی کہ 1994ء کے عالمی کپ کے بعد پاکستان ہاکی ٹیم نے کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کی جس طرح ماضی میں کرتے رہے ہیں اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ ہاکی کے کرتا دھرتا ؤں نے اس کی جانب توجہ مبذول کرنے کی بجائے ٹی وی ٹاک شوز کی جانب کر لی جہاں سے انہیں اچھے خاصے ملنے والے پیسے ہاکی کوچ بن کر یا منیجر بن کر بھی نہ مل پاتے ۔

دوسری جانب ہمارے ٹائٹل ہولڈر کھلاڑیوں ،کلیم اللہ،اختر رسول،شہناز شیخ جیسے دیگر کھلاڑیوں نے بھی اس طرف توجہ نہ دی اور اگر کوئی اس کی بہتری کی جانب بڑھا تو یہاں موجود پی ایچ ایف کے عہدے لینے کے لئے بڑھا کسی نے یہ نہ سوچا کہ یوں زوال پذیر ہاکی کی بہتری کے لئے اقدامات کیے جائیں اس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے، لیکن ایک بات جب تک ہمارے بہت سینئر ہاکی پلیئر میدان میں اترتے تھے تو بس ان کے ذہن میں ملک و قوم کی عزت ہوتی تھی ۔جیت کے بعد ان کی عزت میں بیش بہا اضافہ ہو جاتا تھا اور یوں ان کھلاڑیوں میں جیت کی لگن بڑھ جاتی تھی ۔

سہیل عباس قوم کا وہ سپوت ہے، جس نے ملک کے لئے کئی اعزازات حاصل کئے اور وہ دنیا کے سب سے تیز رفتا ر پش کرنے والے کھلاڑی کے طور پر جانے جاتے تھے دُنیا میں سب سے زیادہ گول کرنے کا اعزاز بھی موصوف کے ہی پاس ہے، مگر نہ جانے ہاکی فیڈریشن کی ناقص پالیسی کے باعث انہوں نے کھیل سے جلد کنارہ کشی اختیار کر لی اور ملک و قوم کا یہ نامور سپوت آج کل ہالینڈ کے لئے اپنی خدمات سر انجام دے رہا ہے اور ہونا بھی ایسا ہی چاہئے تھا، کیونکہ وہ ہالینڈ کے ہیرو ہیں ،تھے اور رہیں گے، کیونکہ انہیں یہ عزت ملی پاکستان کی جانب سے، مگر اس کاحق ہالینڈ نے ادا کیا ۔

کیا وجہ ہے کہ سہیل عباس جیسے دیگر اہم اور سینئر کھلاڑی اپنے ملک کے لئے خدمات دینے کی بجائے دوسرے ممالک کے لئے خدمات دینے میں مصروف عمل ہیں؟ شاید اس بات کا جواب ہماری ہاکی فیڈریشن کے پاس بھی نہ ہو، کیونکہ انہوں نے نہ کبھی اس جانب توجہ دی اور نہ دینے کی ضرورت محسوس کی ۔افسوس جس ملک کے کھلاڑیوں نے دُنیا بھر میں اپنی دھاک بٹھائے رکھی وہی کھلاڑی آج ہاکی فیڈریشن کی ناقص پالیسیوں کا شکا ر بنے بیٹھے ہیں، ان جیسے سینئرز کے ساتھ ہونا بھی یہی چاہئے اور انہیں اس ملک کے ساتھ یہی کرنا بھی چاہئے،کیونکہ آج تک ہم اپنے ملک کو نہ سنبھال سکے تو یہاں کے کھیلوں کے گراؤنڈ،تعلیمی سرگرمیاں کیسے سنبھالیں گے ۔ہم نے اپنے وقت میں تھوڑی بہت ہاکی دیکھ لی، آنے والی نسلوں کو قصے،کہانیوں میں شاید اس کا نام یاد رہ جائے۔

مزید :

رائے -کالم -