ڈاکٹرنے مریض سے 71 ہزار بٹور لیے ‘ آپریشن فلاپ ‘ ورثا کا احتجاج

ڈاکٹرنے مریض سے 71 ہزار بٹور لیے ‘ آپریشن فلاپ ‘ ورثا کا احتجاج

  

خان پور ( نامہ نگار ) مسیحا جلاد بن گیا, ہیڈ آف یورالوجی وارڈ نے غریب محنت کش کے بچے کے گردہ سے پتھری نکالنے کے لئے ہزاروں روپے بٹور لئے, دوبارہ تکلیف ہونے پر پتہ چلا پتھری موجود ہے, پیسوں کی واپسی کے مطالبے پر دھکے دیکر نکال دیا, بچے کے والد نے ہیلتھ کئیر کمیشن کو درخواست دیدی, تفصیل کے مطابق ججہ عباسیاں کے رہائشی غلام احمد نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے (بقیہ نمبر38صفحہ12پر )

بتایا کہ تقریبا 8 ماہ قبل ان کے بچے محمد اسحاق کو گردہ میں تکلیف ہوئی تو وہ بچے کو علاج کے لئے شیخ زید اسپتال رحیم یارخان کے یورالوجی وارڈ لے گئے جہاں یورالوجی وارڈ کے سربراہ داکٹر خالد سعید پنسوتہ نے مریض کو چیک کرنے کے بعد اسے اپنے پرائیوٹ کلینک پر آنے کا کہا کہ تمہارا علاج وہیں ہو گا جب ہم وہاں پہنچے تو اس نے داخل کرکے مریض کے گردہ سے پتھری نکالنے کا کہہ کر 40 ہزار روپے بطور فیس وصول کر لئے اور دوائی دیکر کر گھر بھجوا دیا کہ پتھری نکال دی ہے مگر ایک ہفتہ بعد مریض کو دوبارہ درد ہوا تو ہم دوبارہ ڈاکٹر خالد سعید پنسوتہ کے پرائیوٹ کلینک گئے تو اس نے دوبارہ فیس کی مد میں 31 ہزار روپے لیکر کہا کہ آپکا علاج میں شیخ زید اسپتال میں کروں گا اور ہمیں شیخ زید اسپتال رحیم یارخان میں داخل کرکے بچے کا آپریشن کیا اور گردہ میں ٹیوب لگا کر کہا پتھری نکل گئی اب بچہ ٹھیک ہے, متاثرہ اسحاق احمد کے والد نے بتایا کہ اس کے بعد بھی بچے کی تکلیف کم نا ہوئی تو مجبوراً ہم نے کراچی جاکر چیک کرانے پہ پتہ چلا کہ گردہ میں تاحال پتھری موجود ہے اور ٹیوب بھی غلط لگائی گئی ہے جس کے باعث گردہ ضائع ہو سکتا ہے, کراچی میں آپریشن کے لئے ایک ماہ کا وقت دیا گیا جس پر ہم نے صادق آباد سے اسپتال سے بھاری فیس ادا کرکے آپریشن کروا کر پتھری اور ٹیوب نکلوائی اور بچے کی جان بچ سکی, انہوں نے کہا کہ ہم اس معاملہ کے بارے بات کرنے کے لئے دوبارہ ڈاکٹر خالد پنسوتہ کے پاس گئے تو انہوں نے بات سننا تک گوارا نا کیا اور ہمیں دھکے دیکر اسپتال سے نکال دیا, اس تمام تر معاملہ پر انہوں نے پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن کو تحریری درخواست بھجوا دی, انہوں نے وزیر اعلی پنجاب سے نوٹس لیکر انصاف کی اپیل کی ہے۔

آپریشن فلاپَ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -