انتہاپسندی اور کرپشن کا خاتمہ موسیقی کی تعلیم سے ممکن نہیں ،محمد حسین محنتی

انتہاپسندی اور کرپشن کا خاتمہ موسیقی کی تعلیم سے ممکن نہیں ،محمد حسین محنتی

کراچی (اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی سندھ کے امیر وسابق ایم این اے محمد حسین محنتی نے کہا ہے کہ ملک میں انتہاپسندی، بدعنوانی اور کرپشن کا خاتمہ موسیقی کی تعلیم اور ثقافت کے نام پرمادرپدرآزادی پرمبنی سرگرمیوں کے انعقاد سے نہیں بلکہ تعلیمی اداروں میں قرآن وسنت کو بطور لازمی مضامین کے طور پر پڑھانے سے ہی ممکن ہے،تعلیمی اداروں میں خرابیوں اور بگاڑ میں ملوث اکثریتی افراد کا تعلق ان لوگوں سے ہے جو اللہ اور اس کے رسولؐ کی تعلیمات سے دور ہیں۔ نافع سندھ کے اساتذہ تک اللہ کے دین کی دعوت کو پہنچانے کیلئے مؤثر کردار ادا کرے گا، جماعت اسلامی سندھ کا شعبہ تعلیم ہر لحاظ سے نافع کے ساتھ مکمل تعاون اور رہنمائی کرتا رہے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے قباء آڈیٹوریم میں نیشنل ایسوسی ایشن فارایجوکشن (نافع ) سندھ کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔اجلاس میں حکومت سندھ کی جانب سے تعلیمی اداروں میں موسیقی کو بطور لازمی مضمون پڑھانے اور فروغ دینے کے اقدام پر تشویش کا اظہاراوراسے عذاب الہٰی کودعوت دینے کے مترادف قراردیا گیا۔ جماعت اسلامی سندھ کے جنرل سیکرٹری کاشف سعید شیخ،صدر شعبہ تعلیم سندھ پروفیسر اسحاق منصوری، ڈارائریکٹر نافع فیض احمد فیض،ڈپٹی ڈاریکٹر حنیف جدون اور جوائنٹ ڈاریکٹر سیف ظفر بھی اسموقع پر موجود تھے۔صوبائی امیر نے مزید کہا کہ نافع سمیت تمام تعلیمی ادارے سندھ حکومت کے اس فیصلے کو سختی سے رد اور اس کو واپس لینے کیلئے لائحہ عمل اختیار کریں، تعلیمی اداروں میں نوجوان نسل کو موسیقی اور ڈانس جیسے بیہودہ کلاسز کی شروعات سے معاشرہ تباہ اور نوجوان نسل میں موجود بے راہ روی میں مزید اضافہ ہوگا، سندھ حکومت ہوش کے ناخن لے اور متنازعہ فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے، کراچی سمیت سندھ بھر میں تعلیمی اداروں کی خستہ حالی، ہزاروں اسکولوں میں بچوں کیلئے صاف پانی، واش روم سمیت دیگر سہولیات موجود نہیں اور مختلف اضلاع میں اسکولوں کی بلڈنگ موجود نہ ہونے کی وجہ سے بچے درختوں کی چھاؤں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں جس پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر