طوفانی ہواؤں ،بارشو ں نے تباہی مچادی، سینکڑوں مکانات مہندم ، ہلاکتوں کی تعداد 39ہو گئی، 135زخمی

طوفانی ہواؤں ،بارشو ں نے تباہی مچادی، سینکڑوں مکانات مہندم ، ہلاکتوں کی ...

  

لاہور ،کوئٹہ ،پشاور (فلم رپورٹر ،صباح نیوز)ملک کے مختلف علاقوں میں دو روز سے جاری بارشوں اور طوفانی ہواں اور بارشوں نے تباہی مچا دی ہے۔ سیلابی صورتحال اور پھسلن کے سبب ٹریفک حادثات میں اب تک 39افراد جاں بحق اور 135زخمی ہوگئے ہیں۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)نے حالیہ بارشوں میں ہونیوالے نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی۔رپورٹ کے مطابق ملک بھرمیں 39افراد جاں بحق جبکہ 135زخمی ہوئے۔این ڈی ایم اے کے مطابق ملک بھر میں 80مکان تباہ ہوئے، پنجاب میں بارشوں کے باعث 10 افراد جاں بحق، 56 زخمی ہوئے جبکہ تین گھر تباہ ہوئے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ بلوچستان میں گیارہ افراد جاں بحق جبکہ پانچ زخمی ہوئے اور 52 گھر تباہ ہوئے۔ اسی طرح سندھ میں پانچ افراد جاں بحق اور 50 زخمی ہوئے۔ خیبر پختونخوا(کے پی) میں ایک جاں بحق، تین زخمی ہوئے اور چار مکان تباہ ہوئے۔این ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق فاٹا میں 12 افراد جاں بحق اور 21 گھر تباہ ہوئے۔بلوچستان کے ضلع لورالائی کی تحصیل دکی میں بارشوں کے سبب 15 سے زائد مکانات منہدم ہوئے اور تین افراد بھی زخمی ہوئے ہیں۔بولان میں رات بھر جاری رہنے والی موسلادھار بارش کے کچے مکانوں کی چھتیں گرنے سے دو بچے جاں بحق اور چار افراد زخمی ہوگئے ہیں۔مستونگ میں سڑک پر پھسلن کے سبب ٹریفک حادثہ پیش آیا ہے جس میں 11 افراد جاں بحق اور نو زخمی ہوگئے ہیں۔ جاں بحق افراد میں تین بچے، دو خواتین اور ایک مرد بھی شامل ہیں۔ بلوچستان کے ضلع جعفرآباد کی سب ڈویژن اوستا محمد میں ایک وین سیلابی ریلے میں بہہ گئی جس سے اسماعیل لاشاری نامی شخص جاں بحق ہوگیا ہے۔بلوچستان کے اضلاع پنجگور، ہرنائی ، ٹانک ، پشین اور کوہلو میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ ہرنائی کا پل بہہ جانے سے علاقے کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔پنجاب میں بھی حالیہ بارشوں کے سبب 6 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔ خیبرپختونخوا میں بارش کے سبب سیلابی ریلے اور دیگرحادثات نے9 افراد جاں بحق ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں طوفانی ہواں اور بارشوں نے تباہی مچادی ہے۔ منصورہ کے مین بازار میں عمارت گرنے سے چھ افراد ملبے تلے دب کر زخمی ہوئے۔ عامر روڈ پر مکان کی دیوار گرنے سے ایک شخص جاں بحق جبکہ سات زخمی ہوگئے ہیں۔خانیوال میں بھی مکانوں کی چھتیں گرنے کے مختلف واقعات میں چار افراد ملبے تلے دب کر دم توڑ گئے۔ایری گیشن حکام کے مطابق بلوچستان میں موسلادھار بارش کے باعث سے مانکئی ڈیم میں پانی کی سطح مقررہ حد سے تجاوز کرگئی ہے، ڈیم بھرنے کے باعث کسی ہنگامی صورتحال نمٹنے کیلئے ڈیم سے پانی کا اخراج اسپیل وے سے شروع کردیا ہے۔صوبائی ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی(پی ڈی ایم اے) نے کوئٹہ سمیت بلوچستان میں شدید بارشوں کے باعث ہائی الرٹ جاری کردیا ہے۔ حکام نے احتیاطی تدابیراختیار کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے عوام غیرضروری سفرسے گریز کریں اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کے حوالے سے متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنر سے رابطہ قائم کریں۔لوگ ایسے کچے مکانات میں رہائش سے گریز کریں جن کا جنکا گرنے کا خدشہ ہو۔ عوام پانی سے بھرے ہوئے ڈیموں کے قریب جانے یہاں وہاں نہانے سے گریز کریں۔کوہ سلمان کے پہاڑی سلسلے میں بارش سے راجن پور کے ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے۔ کاہا سلطان سے 71ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا گزرنے لگا۔فلڈ کنٹرول روم کے مطابق برساتی نالے کاہا سلطان سے 71 ہزار کیوسک کا سیلابی پانی گزرہا ہے۔ بڑا سیلابی ریلا لنڈی سیدان، میراں پور، حاجی پور سے گزر رہا ہے۔ سوموار سے حاجی پور کا راجن پور سے زمینی راستہ منقطع ہے۔فلڈ کنٹرول روم خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سیلابی ریلے سے کچھ علاقے متاثرہوسکتے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ، ریسکیو اور دیگر عملہ موقع پرموجود ہے اور تما حفاظتی بندوں پر محکمہ انہار کا عملہ بھی موجود ہے۔محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ موسلادھار بارش کی وجہ سے منگل کو مکران، کوئٹہ، ژوب، ڈی جی خان ڈویژن میں مقامی ندی نالوں ییں طغیانی کا امکان ہے جبکہ منگل اور بدھ کے دوران مالاکنڈ، ہزارہ ڈویژن، گلگت بلتستان اور کشمیر میں لینڈ سلائیڈ کا بھی خدشہ ہے۔

بارش،تباہی

مزید :

صفحہ اول -