راولپنڈی کیلئے سوا کھرب کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری

راولپنڈی کیلئے سوا کھرب کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری

  

خطہ پوٹھوہار کوقدیمی بدھ تہذیب کی وجہ سے انفرادیت حاصل ہے۔راولپنڈی کی تاریخ کی کڑیاں ہزاروں سال پرانی تاریخ سے جاملتی ہیں اس سے ملحقہ جہلم،ٹیکسلا اوردیگر علاقوں کے آثار قدیمہ یونیسکو کے عالمی ورثے میں شامل ہیں۔اس علاقے میں قلعہ راوات ،قلعہ اٹک، 55 سٹوپاز، 28بدھ یادگاریں،9مندرکے علاوہ ٹیکسلا میں دنیا کی پہلی باقاعدہ یونیورسٹی کے آثار بھی پائے جاتے ہیں ۔منگول فوج، گھکڑ دور حکومت،سکھ راج تک پوٹھو ہار کا یہ خطہ مختلف نشب فراد سے گزرتا رہا۔جھنڈا خان نے اس بستی کو ازسرنو آباد کر کے راول کا نام دیا۔

1851ء میں راولپنڈی برٹش انڈین آرمی کا سب سے بڑا گیریژن ٹاؤن تھااوراسے شمالی کمانڈ کے سرمائی دارلحکومت کا درجہ حاصل تھا۔جنگ عظیم اول میں خطہ پوٹھو ہار کے نوجوانوں نے اپنی شجاعت کی داد پائی، انگریز حکمرانوں نے ڈھوک کے نام سے مختلف بستیاں بسائیں جہاں سے مختلف پیشوں سے منسلک افرادی قوت حاصل کی جاتی تھی۔ ڈھوک کھبہ ،ڈھوک رتہ وغیرہ اس کی مثالیں ہیں۔1961ء میں اسلام آبادمیں وفاقی دارلحکومت کے قیام کے بعد متصل راولپنڈی بھی مزید اہمیت اختیار کرگیا۔

راولپنڈی ایک طرح سے صوبہ پنجاب کا نمائندہ شہر ہے جہاں ہر خطے سے ، ہر شہر اور ہر قصبے سے لوگ آباد ہیں۔ اس شہر میں پنجاب ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے ثقافتی رنگ جھلکتے ہیں۔راولپنڈی پنجاب کا ایسا منفرد شہر ہے جہاں آزادکشمیر اور چاروں صوبوں سے آئے ہوئے لوگ بسلسلہ روزگار قیام پذیر ہوتے ہیں۔ ان کے باہمی میل جول سے نہ صرف اخوت اور بھائی چارے کو فروغ ملتا ہے بلکہ قومی یکجہتی کا جذبہ بھی پروان چڑھتا ہے اور راولپنڈی کے لوگ کشادہ دلی کے ساتھ اپنے مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد بزدار نے اپنے عہدے کا منصب سنبھالنے کے بعد ڈویژن ہیڈ کوارٹرز کے دوروں کا سلسلہ شروع کیااورزمینی حقائق سے آگاہی کیلئے مختلف اداروں کا معائنہ کیا۔گزشتہ ہفتے کے دوران وزیراعلیٰ عثمان بزدار دو مرتبہ راولپنڈی آئے۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے 8اپریل کو راجہ بازار راولپنڈی پناہ گاہ کا دورہ کیا۔قیام پذیر مسافروں اورمزدوروں سے گپ شپ لگائی اوران کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا۔ بعدازاں وزیراعلیٰ پنجاب کو پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی راولپنڈی کے آفس میں خصوصی بریفنگ دی گئی۔وزیراعلیٰ نے راولپنڈی کی قدیمی اور تاریخی عمارتوں کی بحالی کیلئے خصوصی ٹاسک فورس بنانے کی اجازت دی۔انہوں نے چےئرمین پی ایچ اے کو راولپنڈی کی قدیمی مساجد ،مندر، دیگر اقلیتی عبادت گاہوں اورتاریخی بازاروں کو اصل حالت میں بحال کرنے کا حکم دیا۔ رات گئے وزیراعلیٰ راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پہنچ گئے جہاں انہوں نے مختلف شعبہ جات اوروارڈز کا دورہ کر کے حالات کا جائزہ لیا۔وزیراعلیٰ کو راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اگلے ہی روزوزیراعلیٰ عثمان بزداراچانک ضلع خوشاب کے علاقے پھلواڑی پہنچ گئے اوروادی سون سکیسر میں واقع منفرد اوچھالی جھیل کا جا ئزہ لیا۔وزیراعلیٰ نے اوچھالی جھیل کو سیاحتی مقام کے طورپر ڈویلپ کرنے کیلئے ضروری اقدامات کی ہدایت کی ۔اوچھالی جھیل میں واٹر سپورٹس ،پیرا گلائیڈنگ اورموٹر گلائیڈنگ شروع کی جائے گی۔ اوچھالی کے قریب امب شریف کے درگاہ اور 700قبل مسیح پرانے قدیمی مندرکو بحال کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ عثمان بزداراچانک جوہر آباد میں ڈی سی آفس پہنچ گئے۔جہاں انہوں نے موجود لوگوں سے مصافحہ کیا۔بعدازاں اعلی سطح کے اجلاس کی صدارت کی اورارکان اسمبلی کی درخواست پر سڑکوں کی تعمیر ومرمت سمیت 9 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی ،انہوں نے ڈگری کالج اورمحکمہ تعلیم میں خالی آسامیاں فوری طورپر پر کرنے کا حکم بھی دیا۔ وزیراعلیٰ نے شہر میں صفائی کی ناقص صورتحال کا سخت نوٹس لیا۔وزیراعلیٰ بعدازاں لاہور روانہ ہوگئے۔

وزیراعلیٰ سردار عثمان احمد خان بزدار نے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج ر یلوے سٹیشن کی تعمیر نو کی سنگ بنیاد کی تقریب میں شرکت کیلئے وزیرریلویز شیخ رشید احمدکی دعوت پر خصوصی طورپر راولپنڈی ایکسپریس پر سفر کیا۔وزیراعلیٰ نے ٹرین پر سفر کو خوشگوار تجربہ قراردیا۔وزیراعلیٰ کو ریلوے سٹیشن راولپنڈی پہنچنے پر ریلوے پولیس اورریلوے ٹریفک پولیس کے چاک و چوبند دستے نے گارڈ آف اونر پیش کیا۔ وزیراعلیٰ تقریب میں شرکت کے لئے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج ریلوے سٹیشن کے احاطے میں پہنچے ۔ان کا پرجوش استقبال کیا گیا۔وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ کی آمد کا شکریہ ادا کیا اورانہیں بزنس ٹرین کی بوگی کا ماڈل بطور سوونےئر پیش کیا۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے حوالے سے تعلیم کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔خواتین کو تعلیم کے مواقع فراہم کر کے ہم اپنی آئندہ نسل پر سودمند سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔بعدازاں وزیراعلیٰ عثمان بزدارنے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج سیٹلائٹ ٹاؤن کو نئی وویمن یونیورسٹی کے طورپراپ گریڈ کرنے کی تقریب میں شرکت کی۔تقریب میں طالبات اورحاضرین نے تالیاں بجا کر وزیراعلیٰ کے اعلان کا خیر مقدم کیا۔وزیراعلیٰ سردار عثمان احمد خان بزدار نے آڈیٹوریم میں تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ماضی میں10سال کے دوران جتنے فنڈز دئیے گئے اور میٹروبس کے منصوبے پر جتنی رقم صرف کی گئی اور اب اس سے 5گنا زیادہ رقم ہر سال پنڈی کے عوام کی فلاح وبہبود کے حقیقی منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔

یہ امر قابل ذکر ہے پنجاب میں 39پبلک سیکٹر یونیورسٹیاں ہیں اور25نجی یونیورسٹیاں ہیں، راولپنڈی پنجاب کا ایسا منفرد شہر ہے جہاں فاطمہ جناح وویمن یونیورسٹی کے بعد دوسری بڑی وویمن یونیورسٹی قائم کی جارہی ہے اور یہ اس شہر کا منفرد اعزاز ہے،جہاں پبلک سیکٹر میں خواتین کے لئے دو یونیورسٹیاں ہوں گی۔

نئی وویمن یونیورسٹی میں سائنس،سماجی علوم، انجینئرنگ،انفارمیشن ٹیکنالوجی، آرٹس، لسانیات اورعلوم انسانی میں گریجویشن،پوسٹ گریجویشن،ایم فل اورپی ایچ ڈی بھی کروائی جائے گی۔ہم اس یونیورسٹی میں ریسرچ کی سٹیٹ آف دی آرٹ (State of the Art) سہولت فراہم کریں گے اوردیگر ملکی اورغیر ملکی تعلیمی اداروں سے اشتراک بھی قائم کیا جائے گا۔ اس یونیورسٹی کی انفرادیت یہ بھی ہے کہ اس ادارے میں پروفیشنل ایجوکیشن (Professional Education)بھی فراہم کی جائے گی اورروزگار کے مواقع اورتعلیمی اداروں میں باہمی ربط کو ترجیح دی جائے گی۔

راولپنڈی میں صحت کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لئے ڈسپنسریوں کی بحالی پر کام کیا جارہا ہے۔ عوام کو علاج معالجے کی فوری اور بہترین سہولتوں کی فراہمی کے لئے صحت انصاف کارڈ بھی مہیاجارہے ہیں۔ راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (Rawalpindi Institute of Cardiology ) کو جدید ترین کارڈیک اینڈ ویسکولر ڈیزیز سینٹر(Cardiac and Vascular Diseases Center) کے طورپر اپ گریڈ کیا جارہا ہے۔ جہاں امراض قلب کے ساتھ ساتھ فالج کے شکارمریضوں کو جدید ترین علاج کے ذریعے بحالی کی سہولت فراہم کی جائے گی اور پنجاب میں پبلک سیکٹر میں یہ سہولت فراہم کرنے والاپہلا ہسپتال ہے۔

راولپنڈی کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر ٹریفک کے آمدورفت میں آسانی کیلئے ایشین انفراسٹرکچر انوسٹمنٹ بینک (Asian Infrastructure and Investment Bank )کی معاونت سے 45 ارب روپے کی لاگت سے رنگ روڈ کا منصوبہ بھی شروع کیا جائیگا۔

نالہ لئی ہر سال مون سون کے موسم میں راولپنڈی کے عوام کیلئے مصیبت کا باعث بنتا ہے لیکن نالہ لئی میں نکاسی آب کیساتھ ساتھ آمدورفت کی سہولت کیلئے 70 ارب روپے کی خطیر رقم سے سگنل فری ایکسپریس وے بنائیں گے۔ لئی ایکسپریس وے میں کٹاریاں سے کشمیر ہائی وے تک چھ کلومیٹر اضافی حصہ شامل کرنے سے اس کی افادیت مزید بڑھے گی۔

وزیراعلیٰ عثمان احمد خان بزدار نے راولپنڈی کیلئے تقریباً سوا کھرب روپے کے منصوبوں کی منظوری دی۔ان کا کہنا تھا کہ صرف یہی نہیں راولپنڈی کے لئے اوربھی ترقیاتی منصوبے لائے جائیں گے۔راولپنڈی میرا دوسرا گھر ہے اوراسے خوب بنائیں گے سنواریں گے۔

مزید :

ایڈیشن 2 -