برسر اقتدار جماعت اور اپوزیشن کی دو جماعتوں کے درمیان سیاسی جنگ تیز تر

برسر اقتدار جماعت اور اپوزیشن کی دو جماعتوں کے درمیان سیاسی جنگ تیز تر

حکمرانوں اور اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان محاذ آرائی کی شدت میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، شریف فیملی، آصف علی زرداری اور ان کے دوستوں، ساتھیوں کے خلاف نیب کی تحقیقات اور کارروائیاں جاری ہیں تو خود وزیراعظم اور ان کے وفاقی اور صوبائی وزرا کے علاوہ جماعتی عہدیداروں نے ہر دو کے خلاف ایک محاذ کھول دیا ہے اور ملک میں معاشی تنزلی، بے روزگاری، مہنگائی اور دوسرے تمام مسائل کی ذمہ داری شریف فیملی اور آصف علی زرداری پر منتقل کی جا رہی ہے اور ان کے خلاف کرپشن کے مسئلے پر مہم جوئی ہو رہی ہے۔ احتساب بیورو کی طرف سے تو بات تحقیقات کی ہوتی ہے،لیکن وزرا اور مشیر تو باقاعدہ اعداد و شمار بتا کر الزام لگاتے ہیں۔ شریف فیملی میں سے سابق وزیراعظم محمد نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن(ر) صفدر کے علاوہ سابق وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کے خلاف ریفرنس دائر کئے گئے، دو ریفرنسوں کے فیصلے ہوئے، ایک میں تینوں والد، صاحبزادی اور داماد کو سزا ہوئی، اس میں وہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت پر ہیں، جبکہ العزیزیہ میں ہونے والی محمد نواز شریف کی سزا بھی چیلنج کی گئی تاہم بعدازاں ان کی علالت کے حوالے سے ضمانت پر رہائی کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنا پڑا،عدالتِ عظمیٰ نے علاج کے لئے ضمانت پر رہائی کا حکم دیا، وہ اب زیر علاج ہیں اور ان کے ٹیسٹ جاری ہیں۔

اس اثناء میں قائد حزبِ اختلاف محمد شہباز شریف کو گرفتار کیا گیا اور لاہور ہائی کورٹ سے ان کی ضمانت ہوئی اورپھر ای سی ایل سے بھی نام نکال دیا گیا، وہ اپنے پوتے، پوتی کی عیادت اور اپنے میڈیکل چیک اَپ کے لئے لندن ہیں، ادھر ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز شریف کی طلبی ہوتی رہی،انہوں نے عدالت عالیہ سے حفاظتی ضمانت کرا رکھی ہے، اس اثناء میں نیب نے پولیس کے ساتھ ماڈل ٹاؤن جا کر حمزہ کی والدہ نصرت شہباز، ان کی ہمشیرگان مسز رابعہ عمران اور جویریہ کو دیئے جانے والے نوٹسوں کی تعمیل کرانے کی کوشش کی، اس پر بھی ہنگامہ ہوا اور الزام لگایا گیا کہ رہائش گاہ پر چھاپہ مارا گیا، نیب کی طرف سے جواب دیا گیا کہ طلبی کے نوٹس تعمیل کرانا مقصود تھا، حمزہ شہباز نے پریس کانفرنس کر کے احتجاج کیا تو نیب نے جواب دیا۔

اس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے نیب انچارج شہزاد اکبر، وزیر مملکت حماد اظہر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں منی لانڈرنگ اور کرپشن کے سنگین الزامات لگائے۔ مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے چیلنج کیا اور کہا الزام لگانے کی بجائے کرپشن ثابت کی جائے۔

اس سلسلے میں دلچسپ امر یہ ہے کہ نیب نے مسز نصرت شہباز، ان کی صاحبزادی مسز رابعہ عمران اور دوسری صاحبزادی جویریہ کو طلب کیا ہے، ان میں سے صرف جویریہ لاہور میں ہیں۔مسز نصرت شہباز مرحومہ کلثوم نواز کی بیماری کے دوران لندن گی تھیں، پھر واپس نہ آئیں، ان کے صاحبزادے سلمان شہباز بھی پہلے سے لندن ہیں جبکہ مسز رابعہ عمران اپنے شوہر عمران کے ساتھ ہی بیرون ملک چلی گئی تھیں۔ یہ نیب کی بے خبری جانی جا رہی ہے۔ اب گزشتہ روز نیب کے چیئرمین جسٹس(ر) جاوید اقبال نے لاہور نیب کا دروہ کیا، اور تمام انکوائریوں کے حوالے سے تفصیلات معلوم کیں۔خبر ہے کہ خواتین کو طلبی کی بجائے سوالنامے بھیجے اور ان سے ان کے جواب طلب کئے جائیں گے، خواتین کی طلبی پر احتجاج ہوا تھا۔

آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے سندھ میں جلسے کر کے کارکنوں اور پارٹی والوں کو گرمایا جا رہا ہے،خود زرداری اسلام آباد احتساب عدالت میں پیش ہو رہے ہیں۔انہوں نے اپنی اور اپنی ہمشیرہ فریال تالپور کی اسلام آباد ہائی کورٹ سے حفاظتی ضمانت منظور کرائی ہوئی ہے۔ نیب اسے ختم کرانے کے لئے پیروی کر رہی ہے اور اب تو اطلاع یہ ہے کہ مشہور وکیل اور تحریک انصاف کے سرگرم رہنما نعیم بخاری کو ریفرنسوں کی پیروی کے لئے وکیل مقرر کر لیا گیا ہے کہ نیب کے پراسیکیوٹرز پر پیروی کے حوالے سے عدم اطمینان ظاہر کیا گیا تھا۔ اپوزیشن کی طرف سے الزام لگایا گیا ہے کہ حکومت یہ سب اپنی نااہلی اور عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے کر رہی ہے۔

حکومت کی طرف سے پٹرولیم، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے اور ڈالر کی قدر بڑھنے سے مہنگائی کا جوطوفان آیا، اب اس میں رمضان المبارک کی آمد نے جھٹکا دینا شروع کر دیا ہے، جبکہ ایک جھٹکا اس وقت اور لگے گا جب آئی ایم ایف سے معاہدہ کے پیش نظر گیس اور بجلی کے نرخ مزید بڑھائے گئے اس وقت بکرے کا گوشت 1100روپے فی کلو، مرغی(برائلر)270 روپے فی کلو بک رہا ہے، جبکہ ڈبل روٹی تک90روپے کی ہو گئی ہے، عوام بلبلا رہے ہیں، ان کی سننے والا کوئی نہیں، کہا جا رہا ہے کہ یہ سب سابقین کا کیا دھرا ہے، صبر کرو۔

مزید : ایڈیشن 1