وزیر اعظم سے ملاقات میں وزیر اعلیٰ کے گلے شکوے

وزیر اعظم سے ملاقات میں وزیر اعلیٰ کے گلے شکوے

  

گزشتہ ہفتے شائع ہونے والی ڈائری میں خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیروں، مشیروں کی صوبائی امور میں مداخلت کا سرسری تذکرہ کیا گیا تھا جس کے بعد یہ معاملہ اہم ایشو بن کر سامنے آیا ہے اور سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہا ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں ویورز اس پر کمنٹ کر رہے ہیں جبکہ سینکڑوں سابق و موجودہ بیورو کریٹس بھی اپنے اپنے رد عمل کا اظہار کرنے میں مصروف ہیں، یہ معاملہ اس حد تک طول پکڑ گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ محمود خان کو اس تناظر میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات بھی کرنا پڑی اور دونوں بڑوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وفاقی نمائندوں کو صوبائی امور میں مداخلت نہیں کرنا چاہئے۔ امید کی جاتی ہے کہ وفاقی وزیروں مشیروں کی طرف سے خیبر کے امور میں جو مبینہ مداخلت کی جا رہی ہے اور اس کے نتیجے میں جس کشیدگی نے جنم لیا ہے وہ جلد ختم ہو جائے گی۔ اس معاملے پر سوشل میڈیا پر جو بحث چل رہی ہے اس میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بنائے مخاصمت قرار دیئے جانے والے وفاق میں بیٹھے لوگوں کی ان فنڈز پر نظر ہے جو انضمام شدہ قبائلی علاقوں کے لئے مختص کئے گئے ہیں، مذکورہ وفاقی وزراء مشیران کی مبینہ طور پر ان فنڈز پر رال ٹپک رہی ہے اور صوبائی حکومت نے قبائلی اضلاع کے انچارج کے طور پر جس مشیر کو اپنا ترجمان مقرر کیا ہے اس کے ساتھ بھی ان وفاقی صاحبان اقتدار کا جھگڑا بھی اسی بنا پر ہے۔ فنڈز کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کا بڑا حصہ میڈیا کے ذریعے منصوبہ جات کی تشہیر پر خرچ کیا جائے گا اور ایک وفاقی مشیر کا مطالبہ ہے کہ تشہیری مہم کے فنڈز میری صوابدید پر دیئے جائیں۔ اس مشیر کے حوالے سے سوشل میڈیا پر یہ تحریر بھی دکھائی دی ہے کہ آج کل خیبر کے وزیر اعلیٰ ہاؤس پر جنات کا کنٹرول ہے اور اس مشیر کا کردار مانیٹر جن کا ہے جن کی اہلیہ کو حال ہی میں کلین گرین پاکستان پروگرام پشاور میں پانچ لاکھ روپے ماہوار پر بھرتی کیا گیا ہے یہ محترمہ کینیڈین شہریت کی بھی حامل ہیں اور کچھ عرصہ قبل تک ایک غیر ملکی قونصلیٹ میں ریسپشنسٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہیں تھیں۔

ایک اور اہم معاملہ ایک معزز قاری کی طرف سے بھجوایا جانے والا سوالنامہ ہے ، 33 نکات پر مشتمل اس سوالنامے میں 70 فیصد سے زائد سوالات خیبرپختونخوا کے حوالے سے ہیں، ہمارے قاری نے ان سوالات کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف اور ایوان اقتدار میں بیٹھے اس کے نمائندوں سے یہ موقف اختیار کرتے ہوئے درخواست کی ہے کہ مجھے ان سوالات کا جواب فراہم کیا جائے تاکہ میں پی ٹی آئی حکومت کا دفاع کر سکوں۔ میں یہاں یہ سوالنامہ کسی تبدیلی یا اضافے کے بغیر نقل کر رہا ہوں اور امید ہے کہ متعلقین اس کا کوئی نہ کوئی سیر حاصل جواب ضرور دیں گے۔

(1)عمران خان نے 350 ڈیمز کا وعدہ کیا تھا مجھے کوئی PTI والا دوست بتائے کہ وہ 350 ڈیم کہاں ہیں ۔ (2) کے پی کے میں 70 یونیورسٹیز کا وعدہ کیا گیا تھا مجھے حکومت کے 5 سال میں ایک نیو یونیورسٹی دکھادی جائے۔ (3) کے پی کے میں حکومت نے کتنے کالج بنائے کالج کا نام اور جگہ بتادی جائے۔ (4) کے پی کے میں کوئی ایک نیا ہا سپیٹل بنایا گیا ہو اس کا نام اور جگہ بتائی جائے۔ (5) کے پی کے میں 16 گرلز کالجز کو پچھلے پانچ سال میں کیوں بند کیا گیا۔ (6) کے پی کے میں 355 پرائمری اور مڈل سکول کو یہ کہہ کر نہیں کہ ختم کیا گیا یہ خزانے پر بوجھ ہیں ؟ (7) پشاور میٹرو بس 8 ارب میں بننے والی تھی، 97 ارب تک پہنچ گئی اور 6 اسٹیشن مکمل ہونے کے بعد پتہ چلا کہ بس اسٹیشن کے اندر جا ہی نہیں سکتی، اب نئی لاکت 122ارب ہو گئی۔ (8) ملتان میٹرو بقول عمران کے 64 ارب کی بنی، اب حکومت نے اس کی شفافیت کی رپورٹ دیتے ہوئے خود کہا کہ میٹرو میں کرپشن نہیں ہوئی 27 ارب کی بنی۔ (9) پی ٹی آئی رہنماء نذر گوندل پر سرکاری خزانے سے 82 ارب کی کرپشن کا کیس تھا انہیں کس میرٹ کہ تحت پارٹی میں لیا گیا اور کیس کا کیا بنا؟ (10) بابر اعوان کی نندی پور پروجیکٹ میں 284 ارب کی کرپشن پر کیا بنا ؟ (11) علیمہ نیازی کے پاس 140 ارب کہاں سے آئے ؟ (12) عمران خان کے خلاف کے پی کے ہیلی کاپٹر کا بے جا استعمال کیس کا کیا بنا ؟ (13) مالم جبہ کیس میں وزیر اعلی خیبرپر 34 ارب کی کرپشن کے الزام کا کیا ہوا۔ (14) سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور ان کے بھائی پر کرپشن کے الزامات کا کیا بنا۔ (15) کے پی کے میں پچھلے 5 سال سے پی ٹی آئی کی حکومت تھی اس کا خزانہ کیسے خالی ہو گیا۔ (16) خیبر بینک کے ڈوبنے کا ذمہ دار کون ہے اس کی انکوائری کیوں بند کی گئی۔ (17) کے پی کے نیب کی اصلاحات پر 80 کروڑ قوم کے خرچ کر نے کے باوجود منصوبہ کیوں بند کیا گیا۔ (18) کے پی کے نیب آفس کو تالا کیوں لگایا گیا۔ (19) قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر کی ملیکت اسلام آباد میں 35 کروڑ کا بنگلہ کدھر سے آیا اور اس پر انکوائری کہاں پہنچی۔ (20) پہلی حکومتوں میں ڈالر بڑھنے سے نقصان تھا اب فائدہ کیسے کہا جا رہا ہے۔ (21) پہلے تھر کے کوئلے سے آلودگی پھیلتی تھی اب وہ تھر کا کوئلہ کیسے تقدیر بدلے گی۔ (22) وزیر اعظم عمران خان نے الیکشن کمیشن میں اپنے اثاثے 2 ارب 34 کروڑ نقد ، 322 کنال بنی گالہ ہاؤس اور لگژری گرینڈ حیات ہوٹل اسلام آباد میں اپنے 28 فلیٹ شو کیے جبکہ ٹیکس صرف ایک لاکھ 5 ہزار کیوں دیا۔ (23) سابقہ حکومتوں میں قرضہ بھیک تھا مگر آج یہ پیکج کیسے ہو گیا۔ (24) اگر موجودہ حکومت سابق حکومتوں کا قرض واپس کرنے کے لیے قرض لے رہی ہے تو قرضے میں کمی کیوں نہیں آ رہی۔ (25) اس مرتبہ حکومت سالانہ ٹیکس جمع کرنے میں ناکام کیوں ہوئی۔(26) جی ڈی پی کم کیوں ہوا۔ (27) پی آئی اے اور اسٹیل ملز کی نجکاری کیوں کی جا رہی ہے جبکہ کچھ دن پہلے وزیر خزانہ کہہ رہے تھے کہ پی آئی اے کا خسارہ کم ہوا ہے۔ (28) علیمہ نیازی نے ابھی تک FBR کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے باوجود جرمانہ کیوں نہیں ادا کیا۔ (29) عمران کی دوسری بہن سعدیہ نیازی کے پاس 40 ارب کہاں سے آئے۔ (30) حکومت کے 7 ماہ کے دوران اشیائے ضروت میں سے کوئی 3 چیزیں بتائیں جو سستی ہوئی ہوں اور عوام کو ریلیف ملا ہو۔ (31) بقول حکومت کے کے ملک میں 12 ارب روپے کی کرپشن تھی جسے روک لیا گیا تو پھر قرض کی کیا ضرورت پڑی ۔ (32) وزیر خزانہ اسد عمر کہتے ہیں کہ (ن) لیگ نے ہمیں خزانے میں 18 ارب ڈالر دیے تھے جبکہ بعض وزراء کا موقف ہے کہ خزانہ خالی ہے ان میں درست موقف کس کا ہے۔ (33) ٹیکس چوری کرنے والا صادق و امین رہ سکتا ہے؟

مزید :

ایڈیشن 1 -