ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کی قربتیں بڑھ گئیں،18ویں ترمیم کے خلاف دونوں متحد

ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کی قربتیں بڑھ گئیں،18ویں ترمیم کے خلاف دونوں متحد

ڈائری ۔ کراچی ۔ مبشر میر

ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کی سیاسی قربتوں میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ خاص طور پر وزیراعظم عمران خان کے ایم کیو ایم سے متعلق بیان نے مخالفین کو بولنے کا موقع دیا ہے ، لیکن ایم کیو ایم کی قیادت اور کارکن اس پر خوش ہیں۔ وزیراعظم نے کہا تھا کہ ایم کیو ایم میں بہت نفیس لوگ ہیں۔ ایم کیو ایم کے قائدین خاص طور پر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے تحریک انصاف کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے 18ویں ترمیم کے نقائص پر بات کی۔ ان کا خیال ہے کہ اس ترمیم سے جو امیدیں وابستہ کروائی گئی تھیں وہ پوری نہیں ہوئیں، چنانچہ دھوکہ دیا گیا ہے۔18ویں ترمیم اور این ایف سی دونوں تنقید کی زد میں ہیں۔ وفاقی حکومت دونوں میں ترامیم کی خواہشمند ہے، جدید جمہوریت میں مرکزی اختیارات بڑھانے یا صوبائی اختیارات میں اضافہ نہیں بلکہ بلدیاتی حکومتوں کو زیادہ فعال اور بااختیار بنانا ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں اگر اس نقطہ کو سمجھ کر آئین پر عمل اور ضروری قانون سازی کریں تو پاکستان کے عوام کا اس میں مفاد ہے۔

ایم کیو ایم نے مطالبہ کیا ہے کہ آئین کی شق 149 کے مطابق وفاقی حکومت کو مداخلت کرنی چاہیے اور صوبہ سندھ کے معاملات اپنے ہاتھ میں لینے چاہئیں۔ مسلم لیگ ف کے اہم راہنما سردار عبدالرحیم نے ایک انٹر ویو میں اسی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کا 149 کے تحت مداخلت کرنا قبل از وقت ہے۔ ان کے مطابق مسلم لیگ ن نے میاں نواز شریف کے وزیراعظم کے دوسرے دور میں سندھ میں مداخلت کی تھی اور آرٹیکل 149 کے تحت گورنر کو اختیارات دیئے تھے۔ لیکن ابھی ایسا کرنا مناسب نہیں ہے، ان کے خیال میں ابھی مسائل کی وجہ تحریک انصاف کی ناپختگی ہے۔ایم کیو ایم نے اپنی طاقت کے مظاہرے کیلئے 27 اپریل کو جلسہ عام کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پی پی پی کی صوبائی حکومت قانون و انصاف کی حکمرانی قائم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق رواں سال کی پہلی سہ ماہی (جنوری تا مارچ) میں کراچی میں 149 افراد قتل ہوئے، دس ہزار موبائل فونز چھینے گئے اور چھ ہزار موٹرسائیکلیں چوری ہوئی ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ وزیراعلی سندھ نے ملک میں مسائل کی وجہ تحریک انصاف کی حکومت کو قرار دیا ہے جبکہ وہ خود ایک پروگرام میں سندھ پولیس پر طنزیہ جملے کستے ہوئے نظر آئے ۔سندھ پولیس کے ایک سیمینار کو امریکن قونصلیٹ کراچی نے اسپانسر کیا تھا جس میں پولیس کے مسائل پر افسران نے کھل کر اظہار خیال کیا، لیکن کسی پولیس کانسٹیبل سے اس کے مسائل کے بارے میں دریافت نہیں کیا گیا۔ اسی دوران سندھ رینجرز کے ڈی جی میجر جنرل سعید احمد کی خدمات جنرل ہیڈ کوارٹرز کو منتقل کرنے کی خبریں بھی زیرگردش ہیں جبکہ ان کی جگہ میجر جنرل عمر احمد خان کا نام بھی لیا جارہا ہے۔ تاہم اس خبر کی متعلقہ اداروں نے تاحال تصدیق نہیں کی۔

سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں مزید پیشرفت ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ خاص طور پر یہ بات باعث حیرت ہے کہ جعلی اکاؤنتس جو پی پی پی کی قیادت پراستعمال کرنے کا الزام ہے انہی اکاؤنٹس کا تانا بانا مسلم لیگ ن کی قیادت سے بھی جڑا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کا اپنی ذاتی زندگی کے متعلق ایک ویب سائٹ کو دیا گیا انٹرویو زیربحث رہا۔ جس سے یہ ظاہر ہورہا ہے کہ وہ اب شادی کرنے میں سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں۔ سندھ میں بلدیاتی الیکشن کے لیے سیاسی جماعتوں نے تیاریاں شروع کردی ہیں۔ تحریک انصاف کے راہنماؤں کا خیال ہے کہ وہ بہت اہم سیاسی شخصیات کو پارٹی کا حصہ بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے اور زیادہ کامیابی حاصل کریں گے۔ پی ٹی آئی سندھ کی صوبائی قیادت اس لحاظ سے مضبوط دکھائی نہیں دیتی۔ اگر ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی نے مل کے الیکشن لڑا تو ہوسکتا ہے کہ شہری سندھ میں زیادہ نتائج ان کے حق میں ہوں۔

شہری سندھ اور دیہی سندھ کی خلیج اور بھی گہری ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ کیونکہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت سندھی مادری زبان کے حامل افسران کو زیادہ تر شہری علاقوں میں تعینات کرچکی ہے۔سندھ کی سیاست کو کوٹہ سسٹم کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ کوٹہ سسٹم کے خلاف سیاسی جدوجہد تو کی گئی لیکن اس کوٹہ سسٹم کی تشریح پارلیمنٹ یا عدلیہ سے کروانے کی کوشش نہیں کی گئی۔ اب وہ سندھی بھی اس سے استفادہ کرتے چلے آرہے ہیں، جنہوں نے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اندرون اور بیرون ملک تعلیم حاصل کی اور اعلیٰ سیاسی گھرانوں سے ان کا تعلق ہے۔ غریب، مزدور ، ہاری کا بیٹا یا بیٹی اس سے کس حد تک فائدہ حاصل کرپایا ہے، اس کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

کراچی سرکلر ریلوے کے مستقبل پر وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کھل کر اظہار خیال کیا ہے، انہوں نے بتایا ہے کہ اس کی ابتدائی تخمینہ رپورٹ بھی تیار نہیں ہے۔ وفاقی حکومت ، جاپان سے دوبارہ بات چیت کرنا چاہتی ہے۔وفاقی وزیر ریلوے، ریلوے کی زمینوں کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کبھی یہ نہیں بتایا کہ پاکستان ریلوے کی تمام زمینیں کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ کے ساتھ موجود ہیں یا نہیں، اور اس وقت کتنی زمین پر ناجائز قابضین ہیں ۔ ٹھٹھہ کے قریب جنگ شاہی کے مقام پر بم دھماکہ کی کوشش ناکام بنائی گئی۔ ر یلوے ٹریک کی حفاظت کا نظام بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔ ریلوے ٹریک کے ساتھ خاردار باڑ کئی جگہوں پر موجود ہی نہیں۔

کراچی کی لانڈھی جیل میں 521 بھارتی ماہی گیر قید تھے، جن میں سے خیرسگالی کے تحت ایک مرحلہ وار دو سو ماہی گیروں کو رہا کیا گیا ہے۔ایک سو مزید رہا ہوں گے۔ پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے ماہی گیر رہائی ڈپلومیسی پاکستان کی جانب سے اچھا قدم ہے، جسے عالمی سطح پر اجاگر کرنا چاہیے۔ اقوام عالم کو یہ بتانا چاہیے کہ پاکستان ان ماہی گیروں کے ساتھ کتنا اچھا برتاؤ کرتا ہے اور بھارتی جیلوں میں پاکستانیوں کو قتل کیا جارہا ہے۔

ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو مزید اقدامات کی تجاویز دی گئی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ سونا چاندی کے زیورات کہیں دہشتگردوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں، لہذا صرافہ بازار کو خرید و فروخت کا ریکارڈ رکھنے کا پابند کیا جائے۔ پاکستان میں سالانہ سوٹن سے زائد سونے کی تجارت ہوتی ہے۔ حکومت اس پر کروڑوں کی ڈیوٹی بھی حاصل ہوسکتی ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ایف اے ٹی ایف اور وفاقی حکومت کو اس بات کی فکر نہیں کہ پاکستان کے اسلحہ بازار میں کتنی خریدوفروخت ہوتی ہے۔ اسلحہ اور مختلف قسم کی گولیوں کی خریداری کا ڈیٹا بھی رکھا جانا چاہیے۔

مزید : ایڈیشن 1