فصل اچھی اور بھرپور تھی، بارشوں نے گندم سمیت آم کی فصل کو بہت نقصان پہنچایا

فصل اچھی اور بھرپور تھی، بارشوں نے گندم سمیت آم کی فصل کو بہت نقصان پہنچایا

  

ملتان کی سیاسی ڈائری

شوکت اشفاق

اچھی اور بھرپور فصل کیلئے زمانہ قدیم سے تین بنیادی اصول کارفرما ہوتے رہے ہیں اچھا بیج، قدرت کا موافق ہونا اور کسان کی محنت، لیکن لگتا ہے کہ اس مرتبہ دو اصولوں پر قدرت مہربان نہیں ہے اس حوالے سے کئی روایات بھی چلی آرہی ہیں کہ جب وقت کے حکمران بدنیت ہوجائیں تو پھر اچھا بیج اور محنت کو نظر لگ جاتی ہے وطن عزیز خصوصاً جنوب پنجاب میں ایسا ہی دیکھنے کو مل رہا ہے جہاں اس مرتبہ گندم کی فصل کم رقبہ پر کاشت ہونے کے باوجود اس کی اٹھان بہت اچھی اور بہترین تھی زرعی ماہرین توقع کررہے تھے کہ کم کاشت کے باوجود فصل کا مطلوبہ ٹارگٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے مگر امسال موسم نے غیر متوقع طورپر ایسی انگڑائی لی ہے کہ گندم کی تیار فصل تو درکنار سبزیوں کی فصل کو بھی سخت نقصان پہنچا ہے ۔ خصوصاً آم کے پودے اس وقت بور اٹھارہے تھے جو جنوبی پنجاب کے تقریباً تمام اضلاع میں غیر متوقع بارشوں شدید ژالہ باری اور آندھی کی نظر ہورہے ہیں گندم کی تیار فصل جو کٹائی کے مراحل میں تھی خراب ہورہی ہے جس سے ایک طرف تو گندم کا مطلوبہ ہدف پورا ہوتا نظر نہیں آرہا ، دوسری طرف آم اور خصوصاً سبزی کی فصل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے کسان پریشان ہے اور اس مرتبہ گندم کی وافر مقدار میں دستیابی تو درکنا ر سبزیوں کے حصول کیلئے بھی مشکل ہوگی ۔ بلکہ ماہرین تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ گزشتہ کئی سالوں سے ضرورت سے زیادہ گندم پیدا ہورہی تھی اور سرکاری طو رپر اسے ذخیرہ کیا جارہا تھا اس ذخیرہ کو ملکی اور غیر ملکی منڈی میں فروخت کردیا گیا ہے اور کچھ کسان کو تحفہ میں دے دیا گیا ہے اب ہوسکتا ہے ملکی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے گندم درآمد نہ کرنی پڑ جائے ۔حکومت جو پہلے ہی درآمدات کی حوصلہ شکنی کررہی ہے اس کیلئے ایک بڑاا قتصادی چیلنج ہوسکتا ہے کیونکہ اس میں کثیر زرمبادلہ درکار ہوگا ۔ اب اس پر حکومت کیا حکمت عملی اپناتی ہے اس کیلئے ابھی تو کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں ۔

زبانی جمع خرچ اور ایک دوسرے کی وزارت میں مداخلت عروج پر ہے شنید ہے کہ ایک مرحلے پر نہ صرف پنجاب میں وزراء کی تبدیلی ہوسکتی ہے بلکہ وفاق میں بھی متعدد وزراء کے قلمدان بدل سکتے ہیں کیونکہ اس وقت زیادہ پریشر وزیر خزانہ اسد عمر پر ہے جو کسی بھی قومی پالیسی کو نظرا نداز کرتے ہوئے ایسا بیان داغ دیتے ہیں جس سے ملکی معیشت کی چولیں بری طرح ہل جاتی ہے جو پہلے ہی کھسکی ہوئی ہیں اوپر سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے توقیری روز بروز ترقی کررہی ہے افواہ سازی کا بازار گرم ہے سٹاک مارکیٹ بہت ہی برے طریقے سے کریشن کررہی ہے اور خوف کے مارے سرمایہ کار اپنا پیسہ دھڑا دھڑانکالنے کی کوشش میں ہے جس سے بہتر ی کی گنجائش نہیں، لیکن آفرین ہے حکومتی عہدیداروں بشمول وزیراعظم عمران خان کے جو فکر مند ہونے اور اسباب ڈھونڈکر بہتری کی گنجائش لانے کی بجائے ابھی تک اس بات مصر ہیں کہ یہ تمام اقتصادی نقصانات سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی وجہ سے ہیں مان لیتے ہیں کہ جو وہ کہہ رہے ہیں وہ درست ہے مگر اب تو انہیں حکومت سنبھالے دس ماہ ہونے والے ہیں اس عرصہ میں تو بہت کچھ ہوسکتا تھا اور کچھ نہیں تو کم از کم ان دونوں ’’نااہل حکمرانوں کی مہنگائی ‘‘ کی سطح کوہی برقرار رکھا لیا جاتا پھر تو بات بھی سمجھ میں آتی تھی مگر یہ کیا انہوں نے تو کرپٹ عناصر کی چیخیں نکلواتے نکلواتے غریب کا ہی بھرکس نکال دیا ۔ کیا اب ڈالر ،پٹرولیم مصنوعات ،ادویات ، گیس اور بجلی سمیت اشیائے ضرورت کی تمام اشیائے بھی اب تک وہی مہنگی کررہے ہیں کیا آپ کا اقتصادیات اور شماریات کا عالم فاضل وزیر خزانہ کا ’’علم‘‘ ختم ہو گیااور شاید یہی وجہ ہے کہ اس وقت وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی بھی انہیں وزارت سے زیادہ اقتصادی امور پر رائے زنی فرمارہے ہیں شاید اس لئے کہ وہ پنجاب کے وزیر خزانہ اور پلاننگ رہ چکے ہیں اور انہیں اس حوالے سے کافی تجربہ حاصل ہے اس کا کیا فیصلہ ہوتا ہے یہ تو جمعرات کو کابینہ کے اجلاس میں معلوم ہوجائے گا

مخدوم شاہ محمود قریشی نے بھی جہانگیر ترین سے اختلافات کو اب پس پشت رکھ چھوڑا ہے اور خود جہانگرین ترین اسے گھر کا معاملہ قرار دے چکے ہیں اور ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی سنادی ہے کہ ملتان کو میٹرو پولٹین شہروں میں شامل کرلیا گیا ہے اور اس سے ملتان کی ترقی کے حوالے سے متعدد مسائل حل ہوں گے انہوں نے کاشتکاروں کو بھی تسلی دی کہ وہ انہیں گندم کا بین الاقوامی ریٹ دلوائیں گے ۔ او ر ایکسپورٹ کیلئے طورخم بارڈر کو 4گھنٹے اضافی طو رپر کھول دیا ہے انہوں نے ملک میں سیاسی عدم استحکام کی تردید کی اور اپوزیشن پر تنقید کی کہ وہ اکٹھا ہونے کی کوشش کرتی ہے مگر ہو نہیں سکتی اب جہانگیر ترین کی یہ بات کہا ں تک درست ہوتی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن ایک بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ اس وقت بین الاقوامی مارکیٹ میں گندم کا ریٹ کم ہے اور اب اگر یہی ریٹ کسان کو ملا تو ان کا کیا بنے گا یہ سوچ کر ہی پریشانی ہی پریشانی ہورہی ہے ادھر ایم کیو ایم پاکستان کے مرکزی رہنما فاروق ستا نے تجویز دی ہے کہ ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کا وسیع تر اشتراک عمل میں آنا ضروری ہے جس میں حکومت اور اپوزیشن کے ساتھ ساتھ ریاستی ادارے ، فوج اور عدلیہ کی بھی شامل کیا جائے تاکہ سیاسی کے ساتھ معاشی استحکام بھی آسکے انہوں نے وزیراعظم عمران خان کی حکومت پر سخت تنقید کی اور بتایا کہ تحریک انصاف 90فیصد اپنے منشور سے پیچھے ہٹ چکی ہے بلکہ ناکام ہوچکی ہے صرف 10فیصد گنجائش باقی جو وسیع البنیاد اشتراک عمل سے پوری ہوسکتی ہے انہوں نے یہ بھی اشارہ کیا کہ نیب کی پکڑ میں سب آئیں گے تاہم ضروری ہے کہ وزیراعظم عمران خان سرائیکی صوبے کا وعدہ پورا کرین اور سندھ سمیت باقی صوبوں میں انتظامی یونٹ قائم کئے جائیں کیونکہ اب یہ ملک مزید نئے یا پرانے تجربات کا متحمل نہیں ہوسکتا اور خانہ جنگی کا خطرہ موجود ہے اس صدارتی نظام یا ان ہاؤس تبدیلی سے کوئی فرق نہیں لڑے گا انہوں نے سابقہ انتخابات کو بھی انجینئرڈ قرار دیا تاہم انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ اس کے باوجود حکومت کو 5سال پورے کرنے چاہیے ۔

مزید :

ایڈیشن 1 -