”معیشت کے حوالے سے خبر سن کر۔۔۔“ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دل کی بات کہہ دی

”معیشت کے حوالے سے خبر سن کر۔۔۔“ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تقریب سے خطاب ...
”معیشت کے حوالے سے خبر سن کر۔۔۔“ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دل کی بات کہہ دی

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ) چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ سب برا نہیں، انصاف کے شعبہ میں اچھے کام بھی ہو رہے، ملک کو معاشی وسماجی مشکلات کے چیلنج کا سامنا ہے،سوچنا ہوگا درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے موثر حکمت عملی اختیار کی جارہی ہے، سپریم کورٹ میں اب زیر التوا مقدمات کی تعداد 38 ہزار رہ گئی ہے۔

منگل کو چیف جسٹس پاکستان نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے عشائیے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو معاشی وسماجی مشکلات کے چیلنج کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ معیشت کے حوالے سے خبریں سن کر بھی مایوسی ہوتی ہے۔ لا اینڈ آرڈر کے حالات بھی سب کے سامنے ہیں، معاشرے میں سب برا نہیں۔ ہزارہ برادری کو احتجاج کرتے دیکھتے ہیں لیکن کوئی انکی نہیں سنتا۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کو معاشی وسماجی مشکلات کے چیلنج کا سامنا ہے۔ سوچنا ہوگا درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے موثر حکمت عملی اختیار کی جارہی ہے؟

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ پولیس اصلاحات کمیٹی میں جانے مانے ماہرین شامل کیے گئے۔ شہریوں کے حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ عدلیہ سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین ماہ میں دو لاکھ مقدمات نمٹائے، جنوری میں سپریم کورٹ زیرالتوا مقدمات کی تعداد 40 ہزار سے زائد تھی۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آج سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد 38 ہزار رہ گئی ہے۔ جبکہ عدالت عظمی میں 2019 میں دائر ہونے والی فوجداری اپیلوں کی سماعت ہو رہی ہے اور فوجداری مقدمات کی تمام زیرالتوا اپیلیں نمٹائی جا چکی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت سپریم کورٹ میں صرف 581 فوجداری اپیلیں رہ گئی ہیں جبکہ کراچی رجسٹری میں کوئی فوجداری اپیل زیر التوا نہیں تاہم سرکاری ملازمین کے ہزاروں مقدمات زیر التوا ہیں۔جیف جسٹس نے کہا کہ سروس مقدمات کیلئے سپیشل بنچ تشکیل دیا جائے گا۔ نظام انصاف کا حصہ قانونی چارہ جوئی کرنیوالے سائلین ہیں۔ دیکھنا ہوگا کیا ہم ان کیلئے وہ سب کر رہے ہیں جو کرنا چاہیے۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد