یہ بھی ایک سزا ہے

یہ بھی ایک سزا ہے
 یہ بھی ایک سزا ہے

  

گذشتہ کئی ماہ سے پاکستان کےحالات و واقعات ، سانحات بشمول احتساب کا شور و غُل کو مدنظر رکھتے ہوئے پرنٹ میڈیا اور الیکٹرنک میڈیا میں جنگ چھڑی ہوئی ہے ہرکوئی ایک دوسرے پرسبقت لے جانے کی کوشش میں سرگرداں ہے تجزیہ نگار ،کالم کار سب اپنے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اورسیاسی پارٹیوں کیطرح کوئی لچک نہیں دکھاناچاہتے ایسے تجزیہ نگار جنکی وابستگی کسی سیاسی پارٹی سےہے وہ بیچارے تومجبور ہیں اگر وطن کےلیے سچ کی بات کرتے ہیں تو پارٹی ناراض ہوتی ہے اوراگر پارٹی کےلیے جھوٹ بولتے ہیں تو وطن ناراض ہوتا ہے پاکستان اسوقت جس نازک مرحلے سےگذر رہا ہے وہاں اپنی اپنی رائے نہیں بلکہ اجتماعی رائے اور فیصلوں کی ضروت ہے فوج کے تمام زمہ دارافسران تمام سیاسی پارٹیوں کے لیڈران مذہبی رہنماوءں ، تجزیہ نگاروں اور کالم کاروں کوسر جوڑنے اور ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت ہے اپنی جھوٹی اناوءں کو پس پشت ڈال کرپاکستان اور اسکے عوام کو شدید بحران سے نکالنے کی ضرورت ہے اور اس سے متعلق جو بات ہو وہ بیانگ دہل اور سب کے سامنے ہو ۔جو عوام ووٹ دےکر اپنے پسندیدہ سیاستدانوں کو ایوانوں میں بھجواتے ہیں وہ یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ انکے پیارے حکمران ملکی سلامتی عوام کے تحفظ اور انک مراعات کےلیے کیاکررہے ہیں یہ بھی درست ہے کہ ملکی امور سے متعلقہ کچھ راز پوشیدہ بھی رکھے جاتے ہیں اور اسکےلیے حکمران خفیہ مقام پر بیٹھ کر فیصلے کرتے ہیں جنہیں وقت آنے پر عوام کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے تاکہ عوام نہ صرف اس بارے میں جان سکیں بلکہ اپنے حکمرانوں کے فہم و ادراک کی داددے سکیں ۔بند کمرے میں یا تو عبادت ہوتی ہے یا گناہ ،اگر تو سب حکمران صدق دل سے وطن کے لیے مخلصانہ فیصلہ کرنے کی غرض سے کمرے میں بند ہیں ، وطن اور عوام کےلیے کچھ کرگزرنے کے جذبہ سے سرشار ہیں تو یقیناً عبادت کے زمرے میں آتا ہے اور اگر بدنیتی ، منافقت اور اپنی غلطیوں پر پردہ پوشی کےلیےکمرے میں بند ہیں تو یہ صریحآ گناہ ہے جسکی سزا ربّ  العزت سے ضرور ملےگی جناب میاں محمد نواز شریف صاحب اپنے گذشتہ دور حکومت میں کھلم کھلا عوام میں گھومتے تھے جہاں من چاہتا ہیلی کاپٹر اتار لیتے ، غریب مزدوروں کے ساتھ دیر تک کھڑے رہتے ، اکلیے مال روڈ پر گاڑی ڈرائیو کرنے کالطف اٹھاتے ، تھانوں اور ہسپتالوں میں پہنچ جاتے مگر کیا اب ایسا ممکن ہے " یہ بھی ایک سزا ہے " کیا جناب آصف علی زرداری صاحب بغیر سیکورٹی خود ڈرائیو کرتے ہوےء شاپنگ کرنے کسی عام سے بازار میں جاسکتے ہیں کیا وہ اپنے بچوں کے ساتھ کسی فوڈ سٹریٹ میں بغیر پروٹوکول اور سیکورٹی لذیز کھانوں کامزہ لے سکتے ہیں ہرگز نہیں کیونکہ " یہ بھی ایک سزا ہے " اور اگر موجودہ حکمران بھی انہی کے فٹ پرنٹس پر چلے تو وہ بھی اسی ضبطِ تحریر کا حصہ ہونگے جبکہ گذشتہ ادوار کے حکمران بھیس بدل کر اپنی رعایا کے دکھ اور تکلیف جاننے کی کوشش کرتے ۔کیا آجکے حکمران ایسا کرسکتے ہیں ، جن حکمرانوں کی رسائی اپنی عوام تک نہ ہو وہ اسطرح سخت سیکورٹی میں بے اثر اوربے نتیجہ اجلاسوں میں شرکت کرتے ہیں وہ عوام کاسامنا کرنے سے گھبراتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ انکے پاس کہنے کو کچھ نہیں " یہ بھی ایک سزا ہے " جہاں پہلے ہی موت سستی ہے وہاں موت کا مزید سٹاک منگوانے کےلیے کچھ لوگ جنگ جنگ کھیلنے کامشورہ دیتے ہیں کیا جنگیں خالی پیٹ اور خالی خزانے سے لڑی جاتی ہیں معاشی طور پر بے حال قوم کو جنگ کامشورہ دیا جارہا ہے ویسے تو ابھی قوم بننے میں ہی جانے کتنا وقت درکار ہے کیونکہ اگرہم قوم ہوتے تو یہ سب ہمارے حکمران نہ ہوتے ، اگر ہم قوم ہوتے تو آج دنیا میں اس قدر بدنام نہ ہوتے ، اگر قوم ہوتے تو آج اتنے بدحال نہ ہوتے چلئیے مان لیجیے کہ جنگ کےلیے بھرے پیٹ اوربھرے خزانے کی بھی ضرورت نہیں مگرجنگ کےلیے دماغ کی تو ضرورت ہے اور اب سوچیئے کہ اگر ہمارے حکمران دماغ سےکام لینےکی صلاحیت رکھتے تو اس وطن میں کس کی کمی ہوتی ۔ دماغ ٹھیک کام کرے تو ضمیر تابع ہوتا ہے ضمیر تابع ہوتو خواہشات اور نفس تابع ہوتا ہے اور ویسے بھی پرائی آگ اور پرائی جنگ سے اپنا گھر نہیں جلایا جاتا اور پھر بھی اگر کوئی ایسا کرے تو " یہ بھی ایک سزا ہے ۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ