نجی سکولز فیس کیس:لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ تضادات سے بھرا ہے، سپریم کورٹ

نجی سکولز فیس کیس:لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ تضادات سے بھرا ہے، سپریم کورٹ
نجی سکولز فیس کیس:لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ تضادات سے بھرا ہے، سپریم کورٹ

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں نجی سکولوں کی فیسوں میں اضافے سے متعلق کیس میں جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے ہیں کہ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ تضادات سے بھرا ہوا ہے،ہائیکورٹ نے ایک جملے میں کہا سکول فیسوں میں اضافہ ہو سکتا ہے،دوسرے جملے میں ہی کہہ دیا فیسوں میں اضافہ نہیں ہو سکتا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں نجی سکولوں کی فیسوں میں اضافے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں3 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر پنجاب حکومت کے وکیل نے دلائل دیئے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا حتمی طورپر ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ فیسوں میں اضافے سے صرف دو فیصد بچے متاثر ہونے کے باعث اضافہ نہیں ہو سکتا۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہائیکورٹ کہتی دو فیصد بچے متاثر ہونے کے باعث فیسوں کے اضافے میں فرق نہیں پڑتا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا رمضان میں حکومت اشیاءخوردونوش کی قیمتیں مقرر کرتی ہے۔اگر قیمتوں کا کنٹرول جائز قرار دیا تو پھر وکیلوں کی فیسوں پر بھی اصول لاگو ہو سکتا ہے۔اگر قیمتوں کا کنٹرول ناجائز قرار دیا تو پھر اشیا خوردونوش بھی کنٹرول نہیں ہو سکیں گی۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے میں بہت سی غلطیاں ہیں۔ لگتا ہے غلطیوں میں سارا قصور انگریزی کا ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا فیصلے میں آ رٹیکل 10 اے کا بھی ذکر ہے۔آرٹیکل 10 اے کا اطلاق صرف ٹرائل کیلئے ہوتا ہے ہر جگہ نہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ قانونی طور پر فیسوں میں اضافہ کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر ہی ہو سکتا ہے۔

پنجاب حکومت کے وکیل نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ میں کیس فیس مقرر کرنے کا نہیں تھا،فیس میں زیادہ سے زیادہ اضافے کی حد مقرر کرنا خلاف آئین نہیں ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا سال 2015 سے پہلے نجی سکولز مرضی سے فیس میں اضافہ کرتے تھے۔پنجاب حکومت نے قانون سازی کرکے پانچ فیصد اضافے کی اجازت دی۔قانون کے مطابق پانچ فیصد سے زائد اضافہ بلاجواز نہیں ہو سکتا۔ہائی کورٹ نے پانچ فیصد تک اضافے کی پابندی کو خلاف آئین قرار دیا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ سندھ میں نجی سکولز کی رجسٹریشن تین سال کیلئے ہوتی ہے۔رجسٹریشن کی تجدید کے وقت فیس سٹرکچر پر بھی نظرثانی ہوتی ہے۔پنجاب حکومت کے وکیل نے کہا پنجاب میں بھی تجدید کے وقت فیس سٹرکچر پر نظرثانی ہو سکتی ہے۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کیا تجدید کے وقت فیس سٹرکچر پر نظرثانی کی تشریح فریقین کیلئے قابل قبول ہوگی؟ فیس میں پانچ فیصد سے زائد اضافہ لائسنس کی تجدید کے وقت ہوگا؟

نجی سکول کے وکیل نے کہا 2020 میں گیس کی قیمت 80 فیصد تک بڑھ جائے گی۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا گیس کی قیمت بڑھنے سے سکول فیس میں 80 فیصد اضافہ نہیں ہوتا۔نجی سکول کے وکیل مخدوم علی خان نے کہا افراط زر کو مدنظر رکھتے ہوئے پانچ فیصد سے زیادہ اضافے کی اجازت ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا نجی سکولز کو فیس میں اضافے کا لامحدود اختیار نہیں دے سکتے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا فیس میں اضافے کی شرح کم سے کم ہونی چاہیے۔پانچ فیصد سے زیادہ اضافہ چاہیے تو مجاز اتھارٹی کو جواز پیش کریں۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق نجی سکولز بہت زیادہ منافع لیتے ہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا قانون میں سقم ہے تو پارلیمنٹ سے تبدیل کروا لیں۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد