فیس بک اور واٹس ایپ کی اندرونی لڑائی پہلی بار منظر عام پر آگئی

فیس بک اور واٹس ایپ کی اندرونی لڑائی پہلی بار منظر عام پر آگئی
فیس بک اور واٹس ایپ کی اندرونی لڑائی پہلی بار منظر عام پر آگئی

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) فیس بک نے 2012ءمیں انسٹاگرام اور 2014ءمیں واٹس ایپ بالترتیب 1ارب ڈالر اور 19ارب ڈالر میں خریدیں، جس کے بعد ان دونوں کمپنیوں کے بانی کئی سال تک مارک زکربرگ کے ماتحت کام کرتے رہے اور پھر کمپنیاں چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ اب ان کے چھوڑنے کی وجوہات اور فیس بک کی انسٹاگرام اور واٹس ایپ کے ساتھ لڑائی کی اندرونی کہانی پہلی بار منظرعام پر آ گئی ہے۔

فیس بک سٹاف کے کئی انٹرویوز پر مبنی رپورٹ میں میگزین ’وائرڈ‘ (Wired)نے بتایا ہے کہ جب انسٹاگرام مقبولیت میں فیس بک سے آگے نکل گئی تو مارک زکربرگ بہت غصے میں آ گئے۔ انہوں نے اپنے سٹاف کو حکم دیا کہ وہ تمام طریقے ترتیب دے کر لائیں جن کے ذریعے فیس بک، انسٹاگرام کی معاونت کر رہا ہے۔ جب یہ طریقے ان کے سامنے لائے گئے تو انہوں نے ان پر عمل درآمد روک دیا اور انسٹاگرام کے ریسورسز ختم کر دیئے۔ مارک زکربرگ نے اس لڑائی میں ایسے اقدامات اٹھائے کے انسٹاگرام کے بانی کی زندگی اجیرن بنا کر رکھ دی اور وہ کمپنی چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔

فیس بک ملازمین نے اپنے انٹرویوز میں میگزین کو بتایا کہ انسٹاگرام کی طرح واٹس ایپ کے ساتھ بھی فیس بک کی لڑائی رہی اور مارک زکربرگ نے اس کا بھی ناطقہ بند کر دیا جس کی وجہ سے اس کا بانی بھی کمپنی چھوڑنے پر مجبور ہو گیا۔ ان دونوں لوگوں نے 2017ءاور 2018ءمیں اپنی ملازمتوں کو خیرباد کہا۔ اس سے قبل بھی میڈیا رپورٹس میں معلوم ہو چکا ہے کہ مارک زکربرگ ’ٹیک ڈکٹیٹرشپ‘ قائم کر چکے ہیں اور سرمایہ کاروں نے انہیں ہدایت کی ہے کہ وہ یہ ڈکٹیٹرشپ ختم کر دیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس