رشوت کا الزام، امریکی ملک پیرو کے سابق صدر نے خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کرلیا

رشوت کا الزام، امریکی ملک پیرو کے سابق صدر نے خود کو گولی مار کر زندگی کا ...
رشوت کا الزام، امریکی ملک پیرو کے سابق صدر نے خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کرلیا

  

لیما (ڈیلی پاکستان آن لائن) براعظم جنوبی امریکہ کے ملک پیرو کے سابق صدر ایلن گارشیا نے خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کرلیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق پیرو کے 2 بار صدر رہنے والے ایلن گارشیا کو پولیس رشوت ستانی کے الزام میں گرفتار کرنے ان کے گھر پہنچی تھی لیکن انہوں نے پولیس کو دیکھ کر خود کو گولی مار لی، انہیں فوری طور پر دارالحکومت لیما کے ہسپتال لے جایاگیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔ پیرو کے موجودہ صدر مارٹن وِزکارا کی جانب سے سابق صدر کی موت کی تصدیق کردی گئی ہے۔

ایلن گارشیا پر برازیل سے تعلق رکھنے والی کنسٹرکشن کمپنی سے رشوت لینے کا الزام تھا۔ پولیس کو انہیں اسی کیس کے سلسلے میں گرفتار کرنے کیلئے بھیجا گیا تھا ۔ پیرو کے وزیر داخلہ کارلوس موران نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جب پولیس سابق صدر کے گھر پہنچی تو انہوں نے ایک فون کال کرنے کی اجازت مانگی اور اپنے کمرے میں جا کر دروازہ بند کرلیا جس کے کچھ منٹ بعد گولی چلنے کی آواز آئی،پولیس دروازہ توڑ کر ان کے کمرے میں داخل ہوئی تو ایلن گارشیا ایک کرسی پر ڈھیر تھے جبکہ ان کے سر میں گولی لگی ہوئی تھی۔انہیں فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا جہاں ان کی سرجری کی گئی لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔

ایلن گارشیا پیرو کے 2 بار صدر رہ چکے ہیں، وہ پہلی بار 1985 میں صدر منتخب ہوئے اور 1990 تک صدر رہے جبکہ ان کی دوسری ٹرم 2006 سے 2011 کے دوران تھی۔تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ انہوں نے برازیلین کمپنی سے اپنی دوسری ٹرم کے دوران دارالحکومت لیما میں میٹرو لائن پراجیکٹ کے دوران رشوت وصول کی تھی۔ برازیلین تعمیراتی کمپنی نے بھی تفتیشی حکام کے روبرو اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے 2004 کے بعد سے اب تک پیرو میں مختلف ٹھیکوں کے حصول کیلئے 30 ملین ڈالر کی رشوت دی ہے۔ دوسری جانب ایلن گارشیا خود پر لگے الزام کو سیاسی انتقام قرار دیتے رہے، انہوں نے منگل کے روز اپنے ایک ٹویٹ میں بھی کہا تھا کہ ان کے خلاف مذکورہ کیس میں کوئی ثبوت نہیں ہے لیکن پھر بھی انہیں انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

مزید :

Breaking News -اہم خبریں -بین الاقوامی -