کیا صدارتی نظام واحد حل ہے؟؟؟

کیا صدارتی نظام واحد حل ہے؟؟؟
کیا صدارتی نظام واحد حل ہے؟؟؟

  

اس وقت دنیا کےمختلف جمہوری ممالک میں پارلیمانی اور صدارتی نظام کامیابی سے چل رہےہیں،پارلیمانی نظام کا سب سے قدیم ماڈل برطانیہ ہے جبکہ کامیاب ترین صدارتی نظام کی مثالامریکہ ہے۔یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ دونوں ممالک کا نظام کامیابی سے ڈیلیور کررہا ہےتوپھر ہوسکتا ہے کہ آج پارلیمانی نظام کا برطانوی ماڈل پاکستان میں ناکام ہوگیاہے تو کل صدارتی نظام کا امریکی ماڈل بھی ناکام ہوجائے لہذٰا ہمیں دوسرے ممالک کی اندھی تقلید کی بجائے کچھ

ایسے خاص اقدامات کرنے ہوں گے جو ہمارے زمینی حقائق کے عین مطابق ہوں ۔

اس کےلیے سب سے پہلے ایک ایسا طرزِ انتخاب اختیار کرناہوگا جوکہ امیدواروں کی آرٹیکل 62, اور 63کے مطابق سکروٹنی کو ممکن بناسکے تاکہ بدعنوان سیاسی مافیا کےلیے عام انتخابات کےدروازے بند ہوسکیں۔اس طرح اہلیت اور قابلیت کی بنیاد پر پڑھے لکھے لوگوں کو پارلیمنٹ میں آنے کا موقع مل سکے گا۔ایسی پارلیمنٹ عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں پر مشتمل ہوگی اور پارلیمان ایک کامیاب مجلسِ قانون ساز بن کر ابھرے گی۔اس کے نتیجےمیں لامحالہ مقننہ کےمعاملات کی اصلاح احوال ہوجائے گی ۔ یہاں پر یہ یاد دہانی کروا دوں کہ ریاست کے تین اہم ستون ہوتے ہیں’’مقننہ , انتظامیہ اور عدلیہ‘‘ ۔ انتخابی اصلاحات کے ذریعے مقننہ کو فعال بنانےکے بعد ہمیں یہ دیکھنا ہوگاکہ انتظامیہ کی کارگردگی بہتربنانے کےلیے ہماری ضروریات کیاہیں؟؟؟ ۔

17 مارچ 2013 کو ڈاکٹرطاہرالقادری نے لیاقت باغ راولپنڈی میں ایک جلسہ عام سےخطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ ٹھیک ہے ہمارے ملک کا نظام پارلیمانی ہے اور میں یہ نہیں کہتا کہ اسے بدل کر صدارتی بناو , یہ نہیں کہتا ۔ پارلیمانی نظام رہے مگر اس میں ہمیں ایک مکسچر تیار کرنا ہوگا , صدارتی اور پارلیمانی نظام کی خوبیوں کو جمع کرکے پاکستان کے سیاسی حالاتکے مطابق ایک پاکستانی ماڈل تیار کرنا ہوگا، وہ کیسے ؟ صدر تو جو ہوتا ہے وہ ہوتا ہے مگروزیراعظم پاکستان کو پارلیمنٹ منتخب نہ کرے بلکہ پاکستان کے عوام براہِ راست اپنے ووٹ سےوزیراعظم کا انتخاب کریں , تمام امیدواروں کو ٹی وی پر لایا جائے , ان کی صلاحیتوں اور کردار کو پرکھا جائے، ان کے منشور پر بحث ہو, ان سے خارجہ پالیسی پر بحث کی جائے , امورِ دفاع پر بحث کی جائے , امور داخلہ پر بحث کی جائے , امورِ معیشت پر بحث کی جائے ،ریجنل اور جیو پولیٹکل پالیسی پر بحث کی جائے , پاک بھارت اور چین سے تعلقات پر بحث کی جائے اور ان کا ویژن دیکھا جائے،ساری قوم سنے اور سن کر فیصلہ کرے کہ وہ کسے منتخب کرناچاہتے ہیں؟ اورہرشخص براہِ راست ووٹ دے،نتیجتاً وہ وزیراعظم قائد ایوان نہیں ہوگا،اب ہمارا وزیراعظم لیڈر آف دی ہاؤس ہوتا ہے جبکہ میرے دئیے گئے نظام میں وہ لیڈر آف دی نیشن ہوگا اور میں وزیراعظم کو لیڈر آف دی نیشن بںانا چاہتا ہوں،وہ ووٹرز کے براہ راست ووٹ سے

جیتے تاکہ ہرشخص کا وزیراعظم سے براہ راست تعلق ہو‘‘۔

یہ ہی بنیادی فرق ہے ڈاکٹر طاہرالقادری اور ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کی تجویز میں کہ ڈاکٹر طاہر القادری امریکی ماڈل لینے کی بجائے زمینی حقائق کے مطابق صدارتی اور پارلیمانی نظام کی خوبیوں کو جمع کرکے ایک پاکستانی ماڈل لاناچاہتےہیں جبکہ ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم امریکی ماڈل کو اسلامک صدارتی نظام کےلیے مناسب خیال کرتے تھے ۔ اس کے علاوہ ریاست کے تیسرے ستون عدلیہ میں اصلاح احوال کی ضرورت بھی ہے۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے سب سے پہلے عدالتی اور قانونی اصلاحات کی تجویز پیش کی تھی،اُن کےبعد سابق چیف جسٹس آف پاکستان میاں  ثاقب نثار اور موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ دونوں ہی اس جانب توجہ دلا چکے ہیں ۔ یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ ملک کا نظامِ عدل اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اسی سسٹم کےتحت چلتے ہیں جوکہ ملکی مقننہ تشکیل دیتی ہے،اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ملک میں قانون کی حقیقی بالادستی قائم ہو , ملک میں معاشرتی انصاف قائم ہو , امیر اور غریب کو بلا تفریق فوری اور سستا انصاف ملے تو ہماری مقننہ کو ایک نیا نظام عدل اور قانونی ڈھانچہ متعارف کروانا ہوگا۔ آپ نے دیکھ لیا کہ الیکٹورل ریفارمز کے بغیر منتخب پارلیمان کےلیے یہ ذمہ داری ادا کرناکس قدر مشکل ہو چکا ہے۔ بدعنوان سیاسی مافیا اور الیکٹیبلز کا ملغوبہ یہ پارلیمان اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری نہیں پا رہی لہذٰا نظام کو بدلنے کی ابتداء انتخابی اصلاحات سے ہونا ضروری تھا۔عمران خان صاحب آج دیکھ لیں کہ شریفوں اورزرداریوں نےآپ کی ’’ریاست مدینہ‘‘ کی پارلیمان کومفلوج کرکےرکھ دیاہے ۔ آپ نے انتخابات قبل از انتخابی اصلاحات میں جاکر اقتدار تو حاصل کرلیا , اب اسے بچانے کےلیے فرسودہ نظام میں یکسر تبدیلی ناگزیر ہے،یہ میرا آپ کو مخلصانہ مشورہ ہے ۔

(عائشہ نور معروف بلاگر اور امور سیاست کو گہری نظر سے دیکھتی ہیں۔ملکی و عالمی حالات اور بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے بھی دسترس رکھنے والی سیاسیات کی طالبہ عائشہ نور سے رابطے کے لئے ان کی ٹویٹر آئی ڈی  AyeshaNoorPAK14@ کو فالو کریں)

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -