جو وبا سے بچ گئے وہ موٹاپے سے مارے جائیں گے!

جو وبا سے بچ گئے وہ موٹاپے سے مارے جائیں گے!
جو وبا سے بچ گئے وہ موٹاپے سے مارے جائیں گے!

  

کرونا وائرس کی وجہ سے ہر شخص خوف و ہراس کا شکار ہے ۔ماہرین کہتے ہیں کہ قوت مدافعت جس قدر بہتر ہو اتنا ہی انسان اس وبا کے حملے سے محفوظ رہ سکتا ہے البتہ ساتھ ساتھ تمام حفاظتی اقدامات کرنا بھی ضروری ہے ۔ لیکن کھابوں کے شوقین لاہوری گھر میں طبی قید کا سارا غصہ کھانا کھانے پر نکال دیتے ہیں۔ اس بات کا اندازہ مجھے تب ہوا جب ایک دن دفتر سے چھٹی ملی اور مجھے بھی گھر رہنا پڑا۔ صبح دیر سے اٹھنے کے بعد ناشتے میں پراٹھے بنے ۔ پیٹ بھر کر ناشتے کے بعد دوپہر کا کھانا سوچنے سے پہلے ہی دہی بھلے کھائے گئے ۔ اس کے کوئی ایک گھنٹے بعد ہی سب کو ایسے بھوک لگی جیسے ناشتے میں صرف دو رس ہی کھائے تھے۔خیر روٹی کھانے کے بعد تھوری دیر قلولہ ہوا اور بس پھر شام پڑتے ہی سنیکس ٹائم یاد آگیا۔

ویڈیو گیم کھیلتے ہوئے ڈرائنگ روم سے بھائی کی آواز ائی "سلانٹی ہی بنا دیں " بس پھر ابلتے تیل میں فرائی ہوتی سلانٹی کی آواز میرے کمرے تک سنائی دی ۔ اس کے بعد پھر چائے پی گئی اور دو گھنٹے بعد ٹی وی دیکھتے ہوئے ابا کو یاد آیا کہ کھانا کھا لینا چاہئیے،،کھانا کھایا گیا پھر چائے پی گئی اور پھر ٹی وی اور وٹس ایپ میمز پر بحث شروع،،،رات کے دوسرے پہر میں بھی ایک بار چائے بنی اور ہاں اس کے ساتھ چھوٹی نے بوریت ختم کرنے کے لئے چپس بھی بنائے تھے ۔۔میں بڑا پریشان ہوئی غور سے دیکھنے پر معلوم ہوا کہ ان سب کی توند بھی نکل آئی ہے ۔اگلے دن دفتر میں ایک شخص کو داستان سنائی تو قہقہہ لگائے وہ کہنے لگے ہمارے ہاں بھی یہی صورتحال ہے ۔ ایک دو اور لوگوں سے پوچھا تو تعجب ہوا کہ ہر گھر میں یہی ترتیب چل رہی ہے۔

پھر سوچا ماہرین سے مشورہ کروں تاکہ اس مسئلے کا کوئی حل نکل سکے۔۔۔لیپوسکوپی سرجن ڈاکٹر معاذ حسن نے ہر سوال کا تسلی بخش جواب دیا۔ ڈاکٹر معاز کے مطابق ان دنوں میں موٹاپا بڑھنے کے امکانات بہت بڑھ گئے ہیں جو قوت مدافعت پر منفی اثرات مرتب کرسکتے ہین۔ بے وقت کھانا کھانے سے سستی ہوتی ہے اور پھر چونکہ آجکل لوگ شام کی سیر اور ورزش نہیں کر رہے تو ہر وقت کھانا کھانا بہت نقصان دہ ہے۔ڈاکٹر صاحب نے مزید بتایا کہ سبزیاں اور پھل کھانا بہترین غذا ہیں۔دالیں بھی آپ کے لئے فائدہ مند ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ایسے بہت سے ورزش کے طریقے ہیں جو گھر میں ایک صوفے پر بیٹھے کئے جا سکتے ہیں ۔ سانس کو تین سیکنڈ روک کر چھورنے کی ورزش ان دنوں میں بہترین ہے۔میرے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ اس وبا کو جانے میں دو سے تین ماہ لگ سکتے ہیں مگر اگر لوگوں نے کھانا کھانے کی عادت کو سنجیدہ نہ لیا تو وبا تو چلی جائے گی لیکن تمام بیماریوں کی جڑ موٹاپا آپکے لئے جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔ڈاکٹر معاذ 612کلو وزنی بچے کا آپریشن بھی کر چکے ہیں،اُنہوں نے پاکستانیوں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر لوگ صحت کے بنیادی اصولوں کا یونہی مذاق اڑاتے رہے تو موٹاپے سے مرنے والوں کی تعداد بھی زیادہ ہوجائے گی ۔ڈاکٹر صاحب سے ملاقات تو مثبت رہی لیکن باہر نکلتے ہی میں نے بھی خود سے وعدہ کیا کہ بے ہنگم عادتوں کو ترک کرنے کی پوری کوشش کروں گی کیونکہ جان ہے تو جہان ہے ۔آپ بھی زبان کے چسکے کو لگام دیں اور صحت مند رہیں۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -