کرونا وائرس کے بعد متوقع منفی و مثبت اثرات

کرونا وائرس کے بعد متوقع منفی و مثبت اثرات

  

کوئی بھی قدرتی واقعہ جب رونما ہوتا ہے توبلا شبہ وہ ایک بڑی تبدیلی لے کر آتا ہے۔ تاریخ کے لیے وبائی امراض کا وقوع پذیر ہونا بالکل بھی کوئی انہونی بات نہیں ہے۔ دنیا میں جب کبھی بھی کو ئی موذی مرض پھیلا اس کے اثرات دنیا میں واضح تبدیلی لے کر آئے۔ جیسے کہ 14 ویں صدی کی بلیک ڈیتھ۔1350 میں یورپ میں پھیلنے والے طاعون نے آبادی کے تقریباً ایک تہائی حصے کو ختم کر دیا۔ طاعون سے مرنے والے افراد کی تعداد کا زیادہ تر حصہ کسانوں پر مشتمل تھا اس لیے مزدور کم ہوگئے اور مزدورں میں سودے بازی کی طاقت نے جنم لیا جس سے پرانا جاگیردانہ نظام دم توڑ گیا۔ اسی طرح سمندری سفرکو خطرناک سمجھا جاتا تھا لیکن جب لوگ طاعون سے گھر بیٹھے مرنے لگے تو دور دراز سفر کرنے پر آمادہ ہوگئے اور اس سے یورپی نوآبادیات کے نظام کو وسعت ملی اور مغربی یورپ کو دنیا کے ایک طاقتور ترین خطے میں شامل ہونے کی راہ ہموار ہوئی۔

اسی طرح امریکہ میں 15 ویں صدی کے آخر میں نوآبادیات نے بے شمار لوگوں کو ہلاک کیا جس نے دنیا کی آب و ہوا کو تبدیل کرکے رکھ دیا بہت سی اموات نوآبادیاتی نظام کے علمبرداروں کی طرف سے متعارف کروائی جانے والی بیمار یوں کی وجہ سے ہوئی جس میں خسرہ، انفلوئنزا، طاعون، ملیریا، ڈیپتھیریا ٹائفس اور ہیضہ شامل تھے۔ ان امراض کے باعث نہ صرف اس خطے کے لوگ مصائب کا شکار ہوئے بلکہ پوری دنیا کو اس کے نتائج بھگتنے پڑے۔ کم لوگ زندہ رہ جانے کی وجہ سے کھیتی باڑی کے لیے استمعال ہونے والی زمین کم پڑ گئی، جس کے نتیجے میں وسیع زمین، جنگلات کے ہجوم سے بھر گئی اور نتیجے کے طور پر کاربن ڈائی آکسائید میں کمی کے باعث دنیا کے بڑے حصوں کا درجہ حرارت گر گیا برف جمنے اور شمسی تبدیلوں کے باعث " لٹل آئس ایج " کا دور آیا۔ جس سے یورپ کی فصلیں متاثر ہوئیں اور شدید نقصان اور قحط کا دور شروع ہوا۔ اسی طرح ایک دور زرد بخار کا بھی آیا جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ تقریبا پچاس ہزار فوجی، افسر،ڈاکٹر، اور ملاح ہلاک ہوئے۔ یہ وبا فرانس کے شہر ہیٹی میں پھیلی اور فرانس کو شمالی امریکہ سے نکلنے کا موقع ملا۔ تاریخ میں اس زرد بخار کی بدولت ہیٹی میں فرانسیسی حکمرانی کا خاتمہ ہوا۔

تاریخ میں وبائی امراض کے وقوع پذیر ہونے والی بیماریوں اور ان کے نتیجے میں ہونی والی تبدیلیوں کی مد میں اگر دور حاضر کے وبائی مرض کرونا کو دیکھا جائے تو اس مرض کی شدت میں کمی ہونے کے بعد جہاں پوری دنیا کا ورلڈ آرڈر چینج ہو گا وہاں وطن عزیز (پاکستان) میں بھی بہت سی حقیقی مثبت اور منفی تبدیلیاں رونما ہوں گی، منفی تبدیلیوں کا تعلق تو پاکستان کی اکانومی سے ہے جو ابھی تنزلی کی جانب ہے۔ لیکن مثبت تبدیلی یہ ہے کہ ورلڈ بنک اور دیگر امدادی ادارے پاکستان کی مدد کریں گے قرضوں کی معافی کے ذریعے پاکستان کے قرض میں واضح کمی ہوگی۔ سرمایہ داروں کو اپنی کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کا احساس ہوگا۔ کیونکہ چھوٹے یا بڑے ہر ادارے کی کچھ کارپوریٹ سماجی ذمہ داریاں ہوتی ہیں جن کو پورا کرنے کا مرحلہ صحیح معنوں میں اب آیا ہے۔ ادارے نہ صرف اپنے ملازمین کے ساتھ ہمدردانہ رویہ رکھیں گے جس سے ملازمین اپنے اداروں کیساتھ مزید وابستگی کے ساتھ کام کریں گے،

بلکہ ادارے سوسائٹی کی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے امدادی چیکس حکومت کو بھی دیں گے۔ جس سے ان کی نہ صرف ملازمین میں قدر ہو گی بلکہ مشکل کی اس گھڑی میں ان کے اس عمل کو سراہا اور یاد رکھا جائے گا۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام ادارے جو اس پاکستان سے کروڑوں کماتے ہیں اس مشکل گھڑی میں پاکستانی عوام کی امداد کریں۔ یہاں حکومت کی ذمہ داریاں کچھ اور بھی بڑھ جائیں گی۔ کیونکہ ایک حکومت ہی ہے جوصیح طریقے سے غریبوں تک امداد کی فراہمی پہنچا سکتی ہے کیونکہ جہاں کچھ لوگ نیک نیتی سے یہ کام کریں گے وہاں کچھ لوگ صرف اپنی سیاست کو چمکانے اور اپنے ذاتی مفاد کے لیے شوبازی بھی کریں گے۔ غریب تک غریب کا حق پہنچانے کے لیے حکومت اور فوج کی منصوبہ بندیاں ہی برو ے کار لائی جا ئیں تو زیادہ بہتر ہے۔

شعبہ صحت میں واضع مثبت تبدیلیاں رونما ہوں گی، لوگوں کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہو چکا ہے کہ جدید آلات اور ہسپتال بنانا کس قدر ضروری ہے اب کی بار شاید شعبہ طب کیلیے زیادہ بجٹ مختص کیا جائے گا جس سے صحت کے امور میں ترقی ہوگی۔ لوگوں کے دماغ میں میڈیکل سٹاف کا امیج بہتر ہو گا۔ ڈاکٹرز اور نرسز جن کو دن کے چور اور رات کے ڈاکو کہا جاتا تھا اب ان کو عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا جس کا اندازہ ہمیں اس بات سے ہو رہا ہے کہ کس طرح آرمی، دیگر ادارے اور عوام ان کو سلیوٹ کر رہے ہیں۔ شعبہ صحت سے منسلک لوگ بھی اپنی سماجی ذمہ داریاں پوری کررہے ہیں جو کہ قابل ستائش ہیں۔

شعبہ تعلیم میں ہم نے دیکھاکہ کس طرح یونیوسٹیز اور کالجز اپنے طلبہ کو ورچوئلی مصروف رکھے ہوئے ہیں اور ان حالات میں جب موت کے سائے منڈلا رہے ہیں پھر بھی محترم اساتذہ اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور طلبا کو ریسرچ اور سماجی ذمہ داریوں کا درس دے رہے ہیں۔ اسی طرح پولیس اور فوج کس طرح منظم اور متحرک ہے اور اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی سب کا فوکس صرف اور صرف عوام کو اس بیماری سے بچانا ہے۔ شعبہ صحافت بھی سرگرم عمل ہے اور لمحہ بہ لمحہ میڈیا کی آگاہی مہم ہمیں اس وقت بھی باہر کی ایک ایک خبر توثیق کے بعد ہم تک پہنچا رہی ہے جب ہم سماجی دنیا سے کٹ کر اپنے اپنے گھروں میں مقید ہیں۔

بحیثیت قوم ہمیں اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہمیں اب فکرانگیزی کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے شاہانہ طرز زندگی کو ترک کر کے اس ملک کو تباہ کرنے کے بجائے اس کا معمار بننا ہو گا اور اپنی اپنی استطاعت کے مطابق حصہ ڈالنا ہوگا۔ ہمارا تعلق کسی بھی شعبے سے ہو ہمیں اپنی سماجی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہو گا۔ کیونکہ ملکوں کی استقامت اس کے لوگوں سے ہے اور ان کی بہتر زندگی اور صحت ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ دنیا اب فیزیکل وار سے نکل کر سائیکلوجیکل وار کی جانب بڑھ رہی ہے کرونا وارئرس اس کا ایک عملی نمونہ ہے اور ہمارے سوئے ہوئے ضمیروں پر ایک دستک بھی۔پیشتر اس کے کہ ہم مزید کسی وار کا شکار ہوں ہمیں غیر روایتی سوچ اپنانے کی ضرورت ہے ہمیں اپنے رویوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے تاکہ ہم آگے آنے والے کسی بھی طوفان کا مضبوطی سے مقابلہ کر سکیں۔ اللہ ہمیں اس کی توفیق دیں اور اس مشکل گھڑی سے نبرذآزما ہونے کی ہمت بھی۔ آمین

مزید :

رائے -کالم -