سری لنکا: تین مسلمان میتوں کے شعلے

سری لنکا: تین مسلمان میتوں کے شعلے
سری لنکا: تین مسلمان میتوں کے شعلے

  

ادھر ہمارے ذرائع ابلاغ اور ناقابل برداشت حد تک حب الوطنی کے دعوی داروں نے پاکستان کے اہم محل وقوع کے بارے میں وہ وہ افسانے تراش رکھے ہیں کہ توبہ ہی بھلی محل وقوع کی بات ہو تو زمین کا نقشہ دیکھ لیجئے۔ ایک سے ایک اہم ملک ہے جسے دنیا میں غیرمعمولی اہمیت حاصل ہے۔ نہر سویز کو دنیا کے نقشے سے مٹا کر زندگی متصور کریں۔ براعظم شمالی امریکہ اور جنوبی امریکہ کا سینہ چیر کر وسیع و عریض بحرالکاہل اور بحر اوقیانوس کے پانیوں کو ملاکر بحری تجارت کی کایا پلٹ دینے والی نہر پانامہ کی بحری وجغرافیائی اہمیت کی اپنی ایک تاریخ ہے۔یمن کی خانہ جنگی کو لوگ سعودی ایران آویزش قرار دیتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں عدن کی بندرگاہ اور اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث یہ معصوم سا ملک چین امریکہ دنگل میں بری طرح پس رہا ہے۔

ایسی ہی جغرافیائی اہمیت کا ایک چھوٹا سا ملک سری لنکا بھی ہے۔ یہ ملک طویل خانہ جنگی اور تامل علیحدگی پسندوں سے نمٹ کر کسی ڈھب پر چڑھنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔ لیکن نا دیدہ قوتیں اپنے کسی ایک مہرے کے پٹ جانے سے نئی چال چلنے میں ذرا تاخیر نہیں کرتیں۔ آپ کو چند سال پہلے سر ی لنکا میں بدھوں کے مسلمانوں پر حملے یاد ہوں گے۔ ذرائع ابلاغ کی خبریں جوڑ کر پڑیں تو آپ کو بھارت کے تمام پڑوسی ممالک میں ایک سے ایک افراتفری ملے گی۔ یہ حقیقت کس سے پوشیدہ ہے، اب تو ساری دنیا جان گئی ہے کہ تین چار عشروں پر پھیلی سری لنکا کی خانہ جنگی کی ہر چال، ہر نقل و حرکت اور ہر سازش کے پیچھے بھارتی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ انالیسسز ونگ یعنی را ہی کا ہاتھ رہا ہے۔ مقصد وہی سری لنکا کی جغرافیائی اہمیت، جسے بھارت اپنے جنوب میں آباد تامل نسل اور سری لنکن تامل آبادی پر مشتمل نئی ریاست قائم کرکے اس ننھے سے ملک کو اپنی گرفت میں رکھنا چاہتا ہے کیونکہ سری لنکا چین کے ساتھ تجارتی و سفارتی اور اور تزویراتی تعلقات بڑھا کر بھارت کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔

بھارتی سرپرستی میں چلنے والی تامل علیحدگی پسند تحریک سے سری لنکا نے بڑے صبر اور حوصلے سے چھٹکارا حاصل کیا ہی تھا کہ اس ملک میں صدیوں سے آباد مسلمانوں پر اگلے ایک دو سالوں کے اندر چند متشدد قسم کے بدھوں نے حملے کرکے ملک کا امن تہہ و بالا کرنے کی کوشش کی جسے سری لنکا نے بڑی حکمت اور بصیرت سے ناکام بنادیا۔ بدھ مت کی شناخت رکھنے والے اس چھوٹے سے ملک میں مذہبی منافرت کی تجارت ہندوستان کے لیے لوہے کا چنا ثابت ہوئی۔ اس ملک کی آمدنی اور معیشت کا انحصار بڑی حد تک سیاحت پر ہے اور سیاحت کا فروغ سیاسی سکون اور رواں زندگی ہی میں ممکن ہوتا ہے۔رواں زندگی اتھل پتھل ہو تو خارجہ تعلقات میں بھی کجی آجاتی ہے۔اور سری لنکا میں یہی کجی ہندوستان کا ہدف رہا جس کے لیے اس نے اس ننھے سے ملک میں چھتیس سال تک معصوم آبادی کا بے دردی سے خون بہایا۔

طریق کار وہی مکتی باہنی والا جو بنگلہ دیش میں کامیاب ہوچکا تھا۔سری لنکا میں یہ حربہ ناکام ہوا تو بدھ مسلم فسادات کرادیئے، ایک ایسے ملک میں بدھ مسلم فسادات جو مذہبی رواداری کی ایک روشن مثال رہا ہے۔ لیکن سری لنکا کی دانش مند قیادت نے ا س چال کو بھی بڑے تدبر سے نمٹا دیا۔

اب ذرا کرونا کی طرف آئیے جس کی مدد سے ہندوستانی خفیہ ایجنسی را اس ملک میں افراتفری کا ایک نیا ناٹک تصنیف کر رہی ہے۔ برطانیہ میں مسلمان صرف سات فیصد ہیں۔ امریکہ میں بمشکل دو فیصد ہوں گے۔ اٹلی میں پانچ فیصد ہیں۔ اسپین میں تو اس سے بھی کم تین فیصد ہوں گے۔ جرمنی میں مسلمانوں کا تناسب محض پانچ فیصد ہے۔ کسی مغربی یورپی ملک میں اگر سب سے زیادہ مسلمان آبادی ملتی ہے تو وہ فرانس ہے جہاں دس تا پندرہ فیصد مسلمان آباد ہیں۔ باقی مغربی یورپ، آسٹریلیا, کینیڈا اور نیوزی لینڈ ان تمام ملکوں میں مسلمانوں کا تناسب مذکورہ بالا فیصد سے کم اور بعض صورتوں میں بے حد کم ہے۔ یہ تمام ممالک آج کے دن تک مجموعی طور پر اپنی ایک لاکھ سے زائد کی آبادی کرونا کی نذر کر چکے ہیں۔ اس طرح اگر ایک لاکھ اموات میں سے مسلمانوں کا تناسب نکالا جائے تو کم از کم سات آٹھ ہزار مسلمانوں کی اموات یقینی ہے۔

لیکن ان تمام ممالک میں سے کسی ایک ملک کی کوئی ایک خبر پڑھنے سننے کو نہیں ملی کہ مسلمانوں کی کسی ایک میت کو جلا دیا گیا ہو۔ یہ "اعزاز" حاصل ہوا تو براہمنی سامراجی ملک اور بزعم خود مسلمانوں کے دشمن ہندوستان سے بھی پہلے دس فیصد مسلم آبادی کے ملک سری لنکا کو حاصل ہوا ہے۔ حیدرآباد دکن کے اردو اخبار اعتماد مورخہ 14 اپریل کی ایک خبر ملاحظہ ہو: "سری لنکا حکومت نے کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے تمام مریضوں کی نعشوں کو جلانے کو لازمی قرار دیتے ہوئے ہدایات جاری کی ہیں کہ مرنے والوں کی نعش کو صرف جلایا جائے گا امریکہ سے لے کر برطانیہ تک کی حکومتوں نے عالمی ادارہ صحت اور ملکی ماہرین کی تجاویز کے مطابق کورونا کی وبا سے ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کو دفنانے یا انہیں جلانے کے لیے خصوصی طریقہ کار وضع کیا۔ تاہم سری لنکا کی حکومت نے تمام مذاہب کے لیے ایک ہی طریقہ کار وضع کرکے کرونا سے ہلاک ہر شخص کی نعش کو جلانا لازمی قرار دے دیا۔ کولمبو حکومت کے متنازعہ فیصلے پر وہاں کی سب سے اہم اور بڑی اقلیت مسلمانوں کو اعتراض ہے اور وہ احتجاج بھی کر رہے۔" اور حد تو یہ ہے کہ اب تک ہلاک ہونے والوں میں سے مسلمان صرف تین ہی ہیں،صرف تین۔ کیا سری لنکاکی سرزمین اپنے صرف تین مسلمان باشندوں کی میتیں دفنانے کے لیے بھی تنگ پڑ چکی ہے۔

سری لنکا کے ہمارے اپنے پڑوسی ملک ہونے اور مذہبی رواداری کی مثال ہونے کے باعث مجھے اس ملک سے نسبتا زیادہ دلچسپی اور محبت رہی ہے۔ اگر ذرا کھل کر بات کی جائے تو سری لنکا کے کسی فوجی افسر یا ان کے دفترِ خارجہ کے کسی اعلی افسر سے گفتگو کر کے اندازہ کرلیجیے۔ آپ کو پتا چل جائے گا کہ اس ملک کو خانہ جنگی سے بچانے کے لیے پاکستان کا کیا کردار رہا ہے۔ میں خود اپنے کئی افراد سے واقف ہوں جو اس عمل میں شریک رہے ہیں۔ اس ننھے سے ملک میں ہندوستانی ایجنسی را کا عمل دخل اتنا زیادہ ہے کہ وہ کسی وقت کچھ بھی کرسکتی ہے۔ سری لنکا حکومت کے کرونا سے ہلاک مسلمان میت جلانے کے حالیہ فیصلے کے پیچھے نہ تو سری لنکا کے عوام میں سے کسی طبقے کی خواہش ہے، نہ وہاں کی پارلیمنٹ اتنی بڑی مہم جوئی کی متحمل ہو سکتی ہے۔ بالخصوص کہا جائے تو بدھ جیسی پر امن،معصوم اور اللہ لوک قسم کی آبادی بحیثیت مجموعی کسی کو اس قسم کی ایذا دینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی۔

اندازہ کیجیے کہ معاشی و سیاسی لحاظ سے انتہائی مضبوط اور طاقتور ممالک میں سے اس بابت کسی نے سوچا تک نہیں کہ جن کے ہاں ہزاروں مسلمان میتیں خوش اسلوبی سے دفنا دی گئیں۔ خاصے طویل مطالعے اور کڑیاں جوڑنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ سری لنکا میں صرف تین مسلمان میتوں کو جلانے کا عمل اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے کہ جس سے قبل بدھ مسلم فسادات کرائے گئے اور اس سے بھی قبل اس ملک میں تامل علیحدگی پسندوں کے ذریعے خانہ جنگی کرائی گئی۔ مسلمان میتوں کو جلانے کا عمل کوئی ایسا فعل نہیں ہے جسے سری لنکا تو کیا، سری لنکا سے باہر کے مسلمان بھی ٹھنڈے پیٹوں برداشت کریں گے۔ ہماری بدقسمتی کہ اس کام کے لیے را نے ایسے وقت کا انتخاب کیا کہ جب ہر اخبار، ہر ٹیلی ویڑن چینل کرونا کے باعث مکمل طور پر اپنے اپنے ملک کی خبروں کے ہجوم میں ہے۔ عام حالات میں کیا یہ خبر سننے کے بعد دنیا کے مسلمان خاموش بیٹھ جاتے؟

میں تصور بھی نہیں کرسکتا کہ سری لنکا کی پارلیمنٹ یا اس کے عوام مسلمانوں کی دل آزاری میں اس حد تک چلے جائیں گے. فیصلہ حکومت کا ہے اور حکومت میں ہر طرح کی لابیاں اور ففتھ کالمسٹ موجود ہوتے ہیں۔ یہ فیصلہ انہی کا ہے جس کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ سری لنکا کے مسلمان اس سرزمین پر خود کو اجنبی متصور کریں۔ ایک دفعہ یہ راستہ کھل گیا تو بدھ مسلم فسادات کراکر سری لنکا کو کسی نئی خانہ جنگی میں دھکیلنا بھارتی خفیہ ایجنسی کے لیے ذرا مشکل نہیں ہوگا۔چین کے ساتھ سری لنکا نے کروڑوں ڈالر کے وہ معاہدات کیے ہیں جو ہندوستان کو ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ یہی صورت حال عدن کی بندرگاہ کے حوالے سے ہے۔ ان حالات میں چین کو نیچا دکھانے کی خاطر امریکہ اور مغربی ممالک کو ہندوستان کندھا پیش کرنے میں کبھی تامّل نہیں کرتا۔

سری لنکا کی حکومت سے درخواست اور امید کی جاتی ہے کہ وہ اپنے اس فیصلے پر فوری نظرثانی کرے گی جس کا نہ تو کوئی جواز ہے اور نہ اس باب میں دنیا کا کوئی اور ملک اس کا ہمنوا ہے۔ اس وقت دنیا کی ایک چوتھائی آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ اپنے ملک کے اقتدار اعلی کا احترام ہر مذہب کے لوگ کرتے ہیں۔ لیکن کیا اقتدار اعلی میں اپنی ہی آبادی کی دل آزاری اور ان کو زندہ درگور کرنے کا عمل بھی شامل ہے۔ طبی لحاظ سے ابھی تک دنیا کے کسی حصے سے کوئی اطلاع نہیں آئی کہ کرونا کے جراثیم قبر سے نکل کر دوسرے مذاہب پر حملہ آور ہوتے ہوں۔ ایسے ہوتا تو یورپ اور مغربی ممالک اس بارے میں پہل کرتے۔ لیکن وہ ملک اپنے فیصلے خود کرتے ہیں۔ ان کے ہاں پڑوسی ممالک اور دوسروں کا عمل دخل نہیں ہوتا۔کیا سری لنکا کی حکومت کو یہ احساس نہیں ہے کہ وہ کیا مہم جوئی کر گزری ہے۔مہم جوئی جس کے خلاف خود اس کے اپنے ملک میں انسانی حقوق کی تنظیمیں احتجاج کر رہی ہیں۔ کرونا کا یہ ہیجان ایک نہ ایک دن ختم ہو کر رہے گا۔ تب آزاد دنیا کو جب سری لنکا حکومت کی اس وحشیانہ اور دلوں کو کرچی کرچی کر دینے والی حرکت بارے سوچنے کا موقع ملے گا تو مسلم ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی؟ یہ سوچنا سری لنکا حکومت کا کام ہے۔اس کام میں جتنی تاخیر ہوگی، مسلمانوں کے ساتھ اس کے تعلقات میں بگاڑ پیدا ہو چکا ہو گا۔ امید کی جاتی ہے کہ سری لنکن حکومت اپنا یہ غیر انسانی فیصلہ فورًا واپس لے گی۔

مزید :

رائے -کالم -