من موجی…… سعید اظہر

من موجی…… سعید اظہر
 من موجی…… سعید اظہر

  

9اپریل2020ء جمعرات کا دن میر ی زندگی کا بڑا تلخ دن تھا۔شب برأت کے روزے کا بھی دن تھا۔ میرے بزرگ اور صحافت میں سرپرست سعید اظہر کے اپنے موبائل نمبر سے ہمیشہ کی جدائی اور مغر ب کی نماز کے بعد چوبرجی کی جامعہ مسجد میں جنازہ کی اطلاع آئی۔ایس ایم ایس پرھتے ہی ماضی کی خوبصور ت اور حسین یادیں تازہ ہوتی گئیں۔علامہ سعید اظہر سے آخری ملاقات ان دِنوں سروس ہسپتال میں ہوئی تھی جب ہم اپنے ایک اور پیارے روزنامہ ”پاکستان“ کے راج دلارے جمیل قیصر کی عیادت کے لئے جناب جاوید اقبال کی قیادت اور ارشدمحمود،منظور ملک،کی رفاقت میں جمیل قیصر صاحب کے لئے پرائیویٹ کمرے کے حصول کی دوڑ میں ایمرجنسی میں گئے تو وہاں ہمارے محترم حفیظ اللہ نیازی ہمارے بزرگ ہمیشہ کے لئے جدا ہوجانے والے بھائی سعیداظہر کی چارپائی کے پاس کھڑے تھے اور ہماری بھابی محترمہ بھی سعید صاحب کے بیڈ کے ساتھ خاموش کھڑی طویل ماضی کی یادوں کی سکرین روشن کر رہی تھیں۔اس وقت ان کی کیمو تھراپی جاری تھی۔اپنے بڑے بھائی جیسے شفیق انسان سے یہ آخری ملاقات تھی۔ اللہ اُن کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام دے، سعید بھائی کی یادیں تازہ کرنے کی کوشش کررہاتھا تو سعید بھائی کے ایک درینہ ساتھی صحافتی زندگی کی طویل انگز کھیلنے والے اسد شہزاد کا فون آگیاکہ میاں صاحب آپ کا سعید اظہر سے بڑا تعلق رہا ہے ان کے حوالے سے کچھ لکھیں،مَیں نے فوری کہا میں اپنے من موجی سعید اظہر بھائی پر ضرور لکھوں گا۔انہوں نے مختصر لکھنے کی شرط عائد کردی۔

اس لئے طویل تعلق کی طویل کہانی پھر نہ لکھ سکا۔لاک ڈاؤن کی وجہ سے وقت کی فروانی ہے اس لئے سعید اظہر کے ایک اور درینہ ساتھی اور ان کے شاگر د، ہمارے محسن، عثمان یوسف صاحب کو فون کیا تا کہ یا دِماضی پر بات کی جائے۔ 1990ء میں پنجاب یونیورسٹی داخلے کے بعد صحافت سے دلچسپی ان انمول ہیروں سے ملاقات کا باعث بنی ان میں سعید اظہر اور عثمان یوسف شامل ہیں۔ میرے ایڈیٹر اور محسن ِصحافت محترم مجیب الرحمن شامی سے بھی ان کا قلبی اور روحانی تعلق آخر تک رہا ہے۔ گزشتہ 10سال سے زیادہ ملاقاتیں محترم شامی صاحب کے دفتر میں یا ان کے دفتر کی طرف جاتے ہوئے راہ داریوں میں ہی ہوئی ہیں۔ اپنے بڑے بھائی عثمان یوسف سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے سوال کیا، عثمان بھائی زیادہ لکھا جا رہا ہے وہ پیپلز پارٹی کے قریب تھے ساری عمر ان کے وکیل بنے رہے یہ سُن کر عثمان یوسف رنجیدہ ہوگئے روتے ہوئے فرمانے لگے ایسا بالکل نہیں ہے بہت کم لوگ جانتے ہیں عصر حاضر کی نامور شخصیت سید مودودیؒ سے ان کا بڑا تعلق رہا ہے،نظریاتی طور پر سید مودودیؒ کے بڑے قریب اور ان کے دیوانے تھے،اکبر بگٹی، نوابزادہ نصر اللہ سے ان کے بڑے گہرے مراسم تھے اکبر بگٹی جب لاہور آتے ان کی ملاقات ضرورہوتی۔عثمان بھائی فرمانے لگے آپ کو یاد ہے آپ سے تعلق بھی سعید اظہر صاحب کے ذریعے بنا۔

مَیں نے انہیں بتایا زمانہئ طالب علمی میں ہی میں اسلامیہ پارک میں ان کی رہائش گاہ اور ٹمپل روڈ پر ان کے ڈیر ے سے آگاہ ہوا۔صحافت کے ابتدائی رموز اور شوق انہوں نے ہی پیدا کیا۔عثمان صاحب فرمانے لگے مولوی سعید اظہر بہت بڑے انسان تھے ان کا تعلق بھی بڑے انسانوں کے ساتھ رہا ہے۔ سید مودودیؒ کی اچھرہ میں عصری نشستوں کا تو سب نے سنا ہے، پر کم لوگوں نے سناہوگا مولانا سید ابوالا مودودیؒ کے پاس وہ ظہر کے بعد ہی چلے جایا کرتے تھے۔مودودیؒ اپنا کام کرتے رہتے اور سعید اظہر وہاں بیٹھ کر ان کو کام کرتا ہی دیکھتے رہتے عصر کی اذان شروع ہونے پر سید مودودیؒ سعید اظہر صاحب کی طرف دیکھ کر کہتے ہیں اذان کی آواز سُن کر شیطان بھاگ جاتا ہے آپ ابھی تک اِدھر ہی ہیں یہ سن کر مولوی سعید اظہر اشارہ کرتے رکشے کا کرایہ نہیں ہے سید مودودیؒ اپنے سامنے پڑی صندوقچی سے 10روپے نکا ل کر دیتے تو وہ رکشہ جو ان کے ساتھ ساتھ ہی ساری زندگی چلتا رہا، کو دے دیتے۔

اسلامی جمعیت طلبہ اور جماعت اسلامی کے خلاف بات نہیں سنتے تھے، بھٹو کی پھانسی کے بعد پیپلزپارٹی کے قریب ہوئے اور پھر مرنے تک ان کے دبنگ وکیل رہے۔عثمان یوسف صاحب کو مَیں نے کہا میرے خیال میں من موجی سعید اظہر کی زندگی کی طویل اننگز میں بھابی کا بڑا کردار ہے، عثمان بھائی فرمانے لگے آپ نے درست کہا بھابی نے ان کی زندگی کو سلیقہ دیا اور بہترین ساتھی بن کردکھایا آخری سانسوں تک ساتھ نبایا۔

عثمان بھائی میری معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں جماعت اسلامی نے جب 1970ء کے قریب کوہستان اخبار خریدا اس وقت سعید اظہر صاحب ڈپٹی ایڈیٹر تھے مولانا مودودیؒ سے ان کی ملاقات ہوئی تو مولانا نے تجاویز اپنے سیکرٹری جنرل چودھری رحمت الٰہی کو دینے کا کہا۔صاف گو انسا ن تھے فرمانے لگے ان کو نہیں مولانا آپ کو تجاویز دوں گا پھر ایسا ہی کیا۔

ظہور عالم شہید کی شاگردی میں رہے ٹریڈ یونین کی روح رواں رہے اپنے ساتھیوں کے لئے ہمیشہ سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار رہتے تھے سید عباس اطہر، مجیب الرحمن شامی،عثمان یوسف، حفیظ اللہ نیازی، رؤف طاہر اور سینئر صحافیوں سے ان کا احترام کا تعلق رہا، آغا شورش کشمیری کے ہفتہ وار چٹان،نوائے وقت، روزنامہ پاکستان، روزنامہ جنگ،جہا ں نما،روز نامہ آزاد سمیت درجنوں رسائل میں ان کی یادیں ہیں۔

سعید اظہر کی یادیں تازہ کرتے عثمان یوسف صاحب بار بار رنجید ہ ہورہے تھے، مَیں نے کہا عثمان بھائی صحافت کے طالب علم کی حیثیت سے 25سال میں سفید پوشی کی تعریف مولوی سعید اظہر کی زندگی سے سیکھی ہے۔بیگم کی خواہش پر بیٹے کو بیرون ملک اور بیٹی کو لاہو ر میں اعلیٰ تعلیم دلانے میں بھی کامیاب رہے، خصوصی بچی کے لئے شفیق باپ کا کردار ادا کرتے رہے، اپنے پاس کچھ نہ ہونے کے باوجود بیٹے،بیٹی کی شادی کی ذمہ داری بھی پوری کی اور ہماری بہن کو کبھی دُکھ نہ دیا۔مولوی سعید اظہر ایسی انجمن تھے جن کے ممبر موٹر سائیکلوں سے گاڑیوں تک جاپہنچے وہ اسلامیہ پارک کی ایک گلی سے دوسری گلی میں 74برسوں میں منتقل ضرور ہوئے، آخری گھر بھی اسلامیہ پارک کے پیچھے میانی صاحب میں بنایا۔اللہ ان جیسا صبر سب کو دے، جو سب کے تھے مگر ان کی زندگی میں کم مگر فوت ہونے کے بعد بہت یا د کرنے والے ہیں۔ ان کے بعد صحافتی زندگی میں سعید اظہر جیسا سفید پوش شاید دوبارہ پیدا نہ ہو۔

مزید :

رائے -کالم -