ماہ رمضان میں اشیائے ضروریہ کی طلب ورسد پر گہری نظر رکھنا ہو گی: وزیراعظم

  ماہ رمضان میں اشیائے ضروریہ کی طلب ورسد پر گہری نظر رکھنا ہو گی: وزیراعظم

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ماہ رمضان میں گندم اور دیگر اشیائے ضروریہ کی طلب و رسد پر گہری نظررکھی جائے، ملک کے کسی حصے میں خوراک کی کمی درپیش نہ ہو، ماضی میں زرعی شعبے کو نظر انداز کیا گیا، زرعی شعبے میں ٹیکنالوجی اور جدید طریقوں کے فروغ کیلئے چین کے تجربات سے استفادہ کر رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی سید فخر امام سے ملاقات کے دوران کیا،ملاقات کے دوران گندم کی سمگلنگ کی روک تھام، ٹڈی دل کے خاتمے، آئندہ سال معیاری گندم کی پیداوار کیلئے بہتربیج کے استعمال سے متعلق تجاویزپربھی بات چیت ہوئی۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت خصوصاً گندم و دیگر اشیائے خوردونوش کی سمگلنگ کی مؤثر روک تھام کیلئے پرعزم ہے، یہی وجہ ہے کہ ذخیرہ اندوزی اور سمگلنگ کے تدارک کیلئے آرڈیننس متعارف کرایا جا رہا ہے۔وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آرڈیننس سے ذخیرہ اندوزی اور سمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانون کا اطلاق یقینی بنایا جاسکے گا۔انسدادکرونا وائرس کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کرونا وائرس سے متعلق درست ڈیٹا اور معلومات پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ صحیح اعدادوشمار پر مبنی ڈیٹا کی بنیاد پر حکمت عملی اختیار کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اموات کے حوالے سے اس امر کا تعین کیا جائے کہ آیا یہ کورونا کیس تھا یا کسی دیگر وجوہات کی بنیاد پر موت واقع ہوئی ہے۔معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اور فوکل پرسن برائے کرونا ڈاکٹر فیصل نے وزیرِ اعظم کو ملک بھر میں وائرس کی موجودہ صورتحال، ٹریکنگ، ٹیسٹنگ اور قرنطینہ میں منتقل کرنے کے حوالے سے حکمت عملی و دیگر امور پر بریفنگ دی۔چیئرمین این ڈی ایم نے کورونا وائرس کی روک تھام کے حوالے سے حفاظتی انتظامات اور خصوصاً ہسپتالوں میں حفاظتی سامان کی ترسیل کے بارے میں آگاہ کیا۔ اجلاس میں ماہ رمضان کو پیش نظر رکھتے ہوئے کرونا وائرس کی روک تھام کے حوالے سے حکمت عملی بھی زیر غور آئی۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ عام آدمی کی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت نے محدود کاروباری سرگرمیوں کی اجازت دی ہے لیکن اس ضمن میں ضروری ہے کہ ہر فرد اپنی ذمہ داری کا احساس کرے اور جہاں تک ممکن ہو سکے سماجی فاصلے کو یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں زیادہ افراد جمع ہوں وہاں ماسک اور دیگر تدابیر اختیار کی جائیں تاکہ وائرس کی ترسیل کو ممکنہ حد تک روکا جا سکے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کرونا وبا کے خلاف جاری اس جنگ میں پوری قوم ڈاکٹر، پیرا میڈکس اور دیگر میڈیکل سٹاف کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے جو اس وبا کے خلاف ہر اول دستہ بن کر اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ کورونا کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے میڈیا کا کلیدی کردار ہے جس نے نہ صرف درست معلومات عوام تک پہنچانی ہیں بلکہ منفی اور غلط پراپیگنڈے کا بھی مقابلہ کرننے میں بھی اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ وہ بہت جلد علمائے کرام سے ملاقات کریں گے تاکہ علمائے کرام کی رہنمائی سے ماہ رمضان کے حوالے سے حکمت عملی تشکیل دی جا سکے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اسلام آباد میں 250 بستروں پر مشتمل ایف ڈبلیو او کی جانب سے قائم کیے جانے والے وبائی امراض کے ہسپتال اور قرنطینہ سنٹر کی طرز پر ملک کے دیگر شہروں میں بھی اسی طرح کے سنٹر بنائے جائیں گے۔علاوہ ازیں وزیر اعظم عمران خان سے معروف عالم دین مولانا طارق جمیل نے ملاقات کی جس میں وزیراعظم نے مولانا طارق جمیل کی جانب سے کرونا وائرس کے خلاف عوامی آگاہی مہم کو سراہتے ہوئے کہا کہ کرونا کی وباء سے نمٹنے کیلئے علمائے کرام کا تعاون درکار ہے اوربہت جلد علمائے کرام سے ملاقات کر کے مشاورت سے رمضان کیلئے لائحہ عمل مرتب کیا جائیگا۔انہوں نے کہاکہ حکومتی کوششوں کا مقصد عوام کو ایک ایسی وبا سے محفوظ رکھنا ہے جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ انہوں نے کہاکہ علمائے کرام نے ہر موڑ پر اور ہر مشکل کی گھڑی میں حکومت کی رہنمائی کی ہے۔وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا نے وزیراعظم عمران خان سے اہم ملاقات کی وفاقی وزیر نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان سے موجودہ صورت حال پر بات چیت کی، وفاقی وزیر نے کہاکہ سندھ کی سیاسی صورتحال اور صوبے کے اہم معاملات پر گفتگو کی۔وزیرِ اعظم عمران خان سے معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے ملاقات کی۔ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے وزیرِ اعظم کو احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ ملاقات میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی غرض سے احساس کے تحت دیگر پروگراموں کی پیش رفت پر بھی بات بات چیت کی گئی۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں حکومت عوام خصوصاً کمزور طبقے کو ریلیف کی فراہمی کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات پرخوشی ہے کہ احساس ایمرجنسی کیش پروگرام مکمل طور پر شفاف، میرٹ پر مبنی اور کسی سیاسی وابستگی کو ملحوظِ خاطر لائے بغیر ملک کے دور دراز علاقوں میں غریب عوام کو ریلیف فراہم کر رہا ہے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ اس پروگرام سے مستفید ہونے کے لئے عوام کو موثر طریقے سے آگاہی فراہم کی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد اس پروگرام سے استفادہ کر سکیں۔صوبائی وزیر صنعت پنجاب میاں اسلم اقبال کی وزیر اعظم سے کی ملاقات میں کرونا وائرس کی صورتحال کے صنعتی عمل پر اثرات اور حکومت کی جانب سے مختلف صنعتیں کھولے جانے اور مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔وزیرِ اعظم عمراان خان نے کہا ہے کہ حکومت کرونا وائرس کی روک تھام کیلئے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کیلئے پرعزم ہے،ہمیں ملک میں غربت اور کاروباری سرگرمیاں بند ہونے سے ملکی معیشت خصوصاً کم آمدنی والے افراد، محنت مزدوری کرنے والے طبقے اور سفید پوش افراد پر پڑنے والے منفی اثرات کا بھی مکمل ادراک ہے۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت نے جن صنعتوں کو کھولنے کی اجازت دی ہے ان کیلئے جامع ایس او پیز بھی صوبوں کے ساتھ شیئر کیے ہیں تاکہ کارخانوں میں کام کرنے والے محنت کشوں اور ورکرز کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ وزیرِ اعظم نے صوبائی وزیرِ صنعت کو ہدایت کی کہ وہ کاروباری برادری اور چیمبرز سے مکمل رابطے میں رہیں تاکہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایس او پیز کا اطلاق یقینی بنایا جا سکے۔

وزیراعظم عمران خان

مزید :

صفحہ اول -