کروناوائرس کو پھیلانے الزام، بھارت میں تبلیغی جماعت کے امیر پر ”قتل خطا“ کا مقدمہ درج

کروناوائرس کو پھیلانے الزام، بھارت میں تبلیغی جماعت کے امیر پر ”قتل خطا“ ...

  

ٍٍ ٍٍنئی دہلی (آئی این پی)بھارت میں پولیس نے کرونا وائرس کے پھیلا ؤکی وجہ بننے کے الزام میں تبلیغی جماعت کے امیر مولانا سعد کاندھلوی کے خلاف قتلِ خطا کا مقدمہ درج کرلیا۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ مولانا سعد کاندھلوی نے 2مرتبہ نوٹس بھجوانے کے باوجود کرونا کے پھیلا ؤکے پیش نظر نئی دہلی میں نظام الدین ایریا کے تبلیغی مرکز میں ہونے والا اجتماع منسوخ نہ کیا۔پولیس کے مطابق 13مارچ کوشروع ہونے والا اجتماع 24 مارچ کو ملک بھر میں لاک ڈاؤن کے اعلان کے باوجود بھی ختم نہیں ہوا۔پولیس کے مطابق 17ریاستوں میں سامنے آنے والے ایک ہزار سے زائد کرونا کے کیسز کا تعلق اس اجتماع سے بنتا ہے اور یہ سب مبینہ طور پر بیرون ملک سے آنے والے تبلیغی ارکان سے متاثر ہوئے ہیں۔دوسری جانب تبلیغی جماعت کے امیر مولانا سعد کاندھلوی اور تبلیغی جماعت نے تمام الزامات کی تردید کردی۔تبلیغی جماعت کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے 22 مارچ کو ملک گیر کرفیو کے اعلان کے فوری بعد مرکز میں تمام سرگرمیاں معطل کردی گئی تھیں اور تمام افراد کو گھروں کو چلے جانے کا کہہ دیا گیا تھا۔تبلیغی جماعت کا مزید کہنا ہے کہ حکومت نے 2 دن بعد اچانک لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا اور ریاستی سرحدیں بند ہونے سے بیشتر لوگ پھنس کر رہ گئے، ایسے میں مرکز کے پاس ان افراد کو پناہ دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا البتہ ان سب کو تمام حفاظتی اقدامات کے تحت ٹھہرایا گیا تھا۔مرکز نظام الدین کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اس دوران وہ پولیس کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے جبکہ یہاں آنے والے طبی عملے کے ساتھ بھی مکمل تعاون کیا گیا تھا۔

مقدمہ درج

مزید :

صفحہ اول -