کورونا ویکسین کی تیاری کیلئے صنوفی اور جی ایس کے میں اشتراک

  کورونا ویکسین کی تیاری کیلئے صنوفی اور جی ایس کے میں اشتراک

  

کراچی (پ ر) صنوفی اور جی ایس کے نے اعلان کیا کہ انھوں نے کوویڈ19 کیلئے مددگار ویکسین کی تیاری کیلئے معاہدے پر دستخط کیے ہیں،جس کے تحت حالیہ وباء سے نمٹنے کیلئے دونوں کمپنیوں کی جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا جائے گا۔ صنوفی اپنی ایس پروٹین کوویڈ 19اینٹی جِن کا استعمال کرے گی، جو ری کبینینٹ ڈی این اے پر مبنی ہے۔ اس ٹیکنالوجی نے وائرس کی سطح پر پائے جانے والے پروٹینز کا جینیاتی میچ تیار کیا ہے، اور اس اینٹی جِن کو اِن کوڈنگ کرنے والے ڈی این اے تسلسل کو جوڑ دیا گیا ہے،جوبیکیولو وائرس کے پلیٹ فارم کا ڈی این اے ہے۔یہ امریکہ میں صنوفی کے لائسنس یافتہ ری کمبینینٹ انفلوئنزا مصنوعات کی بنیاد ہے۔جی ایس کے وبائی مرض سے متعلق اپنی ثابت شدہ ٹیکنالوجی میں شامل کرے گی۔یہ مدد وبائی صورتحال میں خاص اہمیت کی حامل ہو سکتی ہے کیونکہ اس سے ہر خوراک میں ویکسین پروٹین کی مقدار کم ہوسکتی ہے، جس کے باعث ویکسین کی زیادہ مقدار تیار کی جاسکتی ہے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کوبچایا جا سکتا ہے۔"چونکہ دنیا کو صحت کے اس بے مثال عالمی بحران کا سامنا ہے، یہ واضح ہے کہ کوئی بھی کمپنی اکیلے اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی ہے۔ '' صنوفی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، پال ہڈسن کہتے ہیں۔"یہی وجہ ہے کہ جی ایس کے کی طرح صنوفی اپنی مہارت اور وسائل ہمیں فراہم کر رہی ہے،اس مقصد کے پیشِ نظرکہ ویکسین کی خاطر خواہ مقدار تیار اور فراہم کی جا سکے جو اس وائرس کو روکنے میں معاون ثابت ہو گی۔ '' '' اس اشتراک سے دنیا کی دو بڑی ویکسین کمپنیوں کو اکٹھا کیا گیا ہے۔'' جی ایس کے کی چیف ایگزیکٹو آفیسرایما والمسلے کا کہنا ہے کہ '' ہمیں یقین ہے کہ ہماری سائنسی، مہارت، ٹیکنالوجیز اور صلاحیتیں کے امتزاج کی مدد سے ہم کوویڈ 19 سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کی حفاظت کے لئے ایک ویکسین تیار کرنے کی عالمی کوششوں میں تیزی سے اضافہ کریں گے۔ ''پروٹین پر مبنی اینٹی جن کا مجموعہ کار آمدہے اور آج کل دستیاب ویکسینز کی ایک بڑی تعداد میں استعمال کیا جاتا ہے۔ مدافعتی ردعمل کو بڑھانے کے لئے کچھ ویکسینز میں ایک مددگار جزو کو شامل کیا جاتا ہے اورجو ویکسین کے مقابلے میں انفیکشن کے خلاف زیادہ موثر اور دیرپا اثر کرتا ہے۔ اس طرح بڑے پیمانے پر موثر ویکسین کی تیارے کے امکانات میں بھی اضافہ ہو گا۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -