شانگلہ سمیت بیشتر علاقوں میں احساس ایمر جنسی پروگرام میں غیر مستحقین کو شامل کرنے کا انکشاف

شانگلہ سمیت بیشتر علاقوں میں احساس ایمر جنسی پروگرام میں غیر مستحقین کو ...

  

الپوری(ڈسٹرکٹ رپورٹر)شا نگلہ سمیت بیشتر علاقوں میں احساس ایمرجنسی پروگرام میں غیر مستحقین کو شامل کرنے کا انکشاف،ضلعی انتظامیہ کے زیر نگرنی کئے گئے سروے میں غیر مستحق افراد کو شامل کیا گیا جبکہ متعددعلاقوں میں دیہاڑی مار مزدور وں اور ڈیلی ویجز ملازمین پروگرام سے محروم۔ پٹواریوں، سیکرٹریوں اور ممبران نے ویلج سطح پر محدود پیمانے پر سروے کیا اور لسٹیں تیار کرکے بھیجی جس میں غیر مستحق افراد بھی مستفید ہوئے۔ لاک ڈاون کے باعث بے روزگار ہونے والے مذدوروں اور ڈیلی ویجز ملازمین میں شدید بے چینی کی لہر دوڑ گئی اور انھوں نے حکومت سے براہ راست پیکج دینے کی اپیل کیا۔ یا د رہے کہ موجودہ حکومت نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید ہونے والے سرکاری ملازمین کے خلاف سخت کاروائی کی عندیہ بھی دیا ہے اور ذرائع نے بتایا کہ حکومت اس وقت جامع پالیسی بنا رہی ہے جس میں ان پروگرام سے فائدہ اٹھانے والے ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی کا امکان ہے۔ ملک بھر میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں چھ لاکھ سے زاائد غیر مستحقین کو بلاک کرنا خوش ائند ہے تاہم اب بھی بعض سرکاری ملازمین،مالدار غیر مستحقین بینیفشریز اس پروگرام کے رقوم لینے کا انکشاف۔بی ائی ایس پروگرام کو صاف وشفاف بنانے کیلئے حکومتی اقدامات قابل تحسین ہیں تاہم غیر مستحقین کے خلاف کارروائی میں تاخیر اس پروگرام کے شفافیت پر سوالیہ نشان بن رہا ہے اب بھی ایسے غیر مستحق لوگ یہ رقم لے رہے ہیں جو غیر مستحق ہیں لیکن وہ بلاک نہیں ہوئے۔غریب کا حق مارا جارہا ہے۔ایسے ظالم اور غاصب عناصر کے خلاف ریاست کو آہنی ہاتھوں سے نمٹنا چاہئے تاکہ ائندہ کوئی بھی غریب کا حق مارنے کی جرائت نہ کر سکیں۔ایسے لوگوں سے لیا گیا رقوم واپس لے کر مستحقین پر تقسیم کرنا چاہئے خواہ وہ سرکاری ملازم ہو یا بااثر سیاسی نمائندہ ہو بغیر کسی سیاسی دباؤ کے ایسے عناصر کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرکے ان کو نشان عبرت بنائیں۔اس میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس پروگرام سے غریب لوگ مستفید ہو سکیں۔ریٹیلروں کے خلاف کارروائی سے کافی بہتری ائی ہے اور اب بینیفشریزوالوں سے رقوم کے وصولی میں پانچ سو ہزار کی کٹوتی بند ہوگئی ہے۔حکومت غیر مستحقین بینیفشریز کے خلاف فوری کارروائی کرکے ان کی حوصلہ شکنی کی جائے اور متاثرہ خاندانوں کو براہ راست رقوم کی تقسیم کا عمل شروع کیا جائے۔ شانگلہ جو 2002سے مسلسل قدرتی آفات کے ذد میں رہنے والوں علاقوں میں شامل ہے ماضی میں انتظامی ملا بھگت سے مستحقین کو نظر انداز کرکے با اثر شخصیات اور اپنے جیبوں کو گرم کر دیا گیا تاہم موجودہ حکومت نے شفافیت سے مستحقین کو کو فائدہ پہنچانے کے لئے اقدامات اٹھائے اس میں بھی محدود حد تک خامیاں پائی گئی ہے اور سروے میں اصل مستحقین نظر انداز کیئے گئے۔ اس وقت لاک ڈاون کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال میں حکومت نے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام پر ایس ایم ایس سروس کا اجراء کر دیا جس میں ایک کروڑ بیس لاکھ خاندانوں کی کفالت ہو گی اور ہر خاندان کو بارہ ہزار روپے ملے گی۔ کیش پروگرام سے استفادہ حاصل کرنے کیلئے ایس ایم ایس سروس کااجراء کر دیا گیا ہے جو خوش ائند اقدام ہے تاہم حکومت کو ان میں مزید شفافیت بنانا چایئے تاکہ اس مشکل کے وقت میں غریب اور مستحق خاندان شامل ہوسکیں۔۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -