کورونا کے ٹیسٹ کم ہونے سے کیسز زیادہ نہیں آرہے ہیں: وزیراعلٰی سندھ 

کورونا کے ٹیسٹ کم ہونے سے کیسز زیادہ نہیں آرہے ہیں: وزیراعلٰی سندھ 

  

سکھر(بیورو رپورٹ)وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہاہے کہ بڑی کوتاہی یہ ہوتی ہے کہ وقت پر کوئی فیصلہ نہ لیا جائے، کورونا کے ٹیسٹ کم ہونے سے کیسز زیادہ نہیں آ رہے، انسانی جانیں بچانے کیلئے لاک ڈاؤن بڑھایا، زیادہ تر راشن بیگز یوٹیلیٹی ا سٹورز سے بنوائے۔جمعرات کویہاں میڈیا سے بات چیت میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ کورونا کے حوالے سے سکھر فرنٹ لائن پر تھا، سکھر میں ابھی 6 متاثرین کا علاج جاری ہے، 2874 ٹیسٹ کیے جس میں سے 340 مثبت آئے، پہلے بھی کہتے تھے وائرس ہے مگر ٹیسٹ کم ہو رہے ہیں، 24 گھنٹے کے دوران مزید 16 افراد صحت یاب ہوگئے، سکھر قرنطینہ میں ڈاکٹر اور ورکر کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا، سکھر میں کورونا سے متاثر ڈاکٹر صحت یاب ہوگیا۔انہوں نے کہاکہ انسانی جان بچانے کیلئے مزید 14 دن لاک ڈاؤن بڑھایا، چاہتے ہیں جو بھی آنا چاہے وہ ایس او پیز کو فالو کرے، کسی سیکیورٹی اور پروٹوکول کی ضرورت نہیں، مارچ سے ہی سخت لاک ڈاؤن کرنا چاہیئے تھا، ہم متحد ہوں تو پولیس کو ناکوں کی ضرورت نہ پڑے۔انہوں نے کہاکہ ہم نے کوروناوائرس کے حوالے سے کافی فیصلے لیے ہیں، ہو سکتا ہے ان میں سے کچھ غلط ہوں مگر بڑی کوتاہی وقت پر فیصلے نہ لینا ہوتی ہے۔انہوں نے کہاکہ لاک ڈاؤن کے اثرات سے سب اچھی طرح واقف ہیں، پانچ بجے تک سکھر سے کراچی واپس جانا چاہتا ہوں تا کہ میں خود بھی لاک ڈاؤن پرعمل درآمد کر سکوں۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ کورونا وائرس سے بچنے کے لیے سماجی فاصلہ بہت ضروری ہے، میری گاڑی میں بھی دو افراد تھے، ہماری پہلی ترجیح اس وقت لوگوں کی صحت ہے۔انہوں نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں سے درخواست ہے کہ بلا ضرورت گھروں سے باہرنہ نکلیں۔سیدمراد علی شاہ  نے کہاکہ کورونا وائرس سے بچنے کے لیے سماجی فاصلے کے فارمولے کو مد نظر رکھتے ہوئے موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کی گئی ہے۔اس سے قبل وزیر اعلی سندھ نے گاڑی خود ڈرائیو کر کے شہر کا دورہ کیا اور راستے میں گاڑی روک کر پروٹوکول گاڑیاں واپس کر دیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ پروٹوکول نہیں چاہیے، مجھے شہر دیکھنے دیں، شہر میں فیومیگیشن چل رہی ہے مجھے دیکھنا ہے۔ وزیر اعلی نے دکانوں پر گاڑی روک کر دکانداروں کو سماجی فاصلوں کہ ہدایت بھی کی۔

مزید :

صفحہ اول -