چین میں کورونا وائرس کے بعد کے اثرات سامنے آنے لگے،معیشت کو 30 سال میں پہلا بڑا جھٹکا

چین میں کورونا وائرس کے بعد کے اثرات سامنے آنے لگے،معیشت کو 30 سال میں پہلا ...
چین میں کورونا وائرس کے بعد کے اثرات سامنے آنے لگے،معیشت کو 30 سال میں پہلا بڑا جھٹکا

  

بیجنگ (ڈیلی پاکستان آن لائن)قیمتی جانیں نگلنے والے کوروناوائرس کے مزید خوفناک نتائج سامنے آنے لگے۔ دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین کئی دہائیوں بعد سکڑنے لگی۔ صرف تین ماہ میں چین کی مجموعی قومی پیداوار میں سات فیصد کے قریب کمی دیکھنے کو ملی ہے۔

بی بی سی کے مطابق جمعے کو جاری کیے جانے والے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ میں چین کی مجموعی قومی پیداوار میں 6.8 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔یہ 30 سال میں شاید پہلا موقع ہے کہ چین کی قومی پیداوار میں کمی آئی ہو۔

کورونا وائرس کے دنیا کی دوسری بڑی معیشت پران اثرات نے دنیا کی دیگر ریاستو ں کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔ چین دنیا بھر میں سامان اور خدمات کی فراہمی کا ایک بڑا ذریعہ ہے 1992 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ چینی معیشت کو اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

اس صورتحال میں کئی چھوٹی کمپنیاں دیوالیہ ہوئی ہیں جبکہ بڑی تعداد مٰیں لوگ بے روزگار ہوئے ہیں۔

اس کمی کا حساب پچھلے سال کی کارکردگی کے تناظر میں لگایا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ 2020 کے پہلے 3 ماہ میں چین کی معاشی کارکردگی 2019 کے پہلے 3 ماہ کے مقابلے میں کم ہے۔

لیکن گذشتہ سال کے آخری تین ماہ سے اگلے تین ماہ کا موازنہ کیا جائے تو صورتحال اور بھی گمبھیر ہے: چین کی معیشت میں 9.8 فیصد کی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔لیکن گذشتہ سال کے آخری تین ماہ سے اگلے تین ماہ کا موازنہ کیا جائے تو صورتحال اور بھی گمبھیر ہے: چین کی معیشت میں 9.8 فیصد کی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

مزید :

کورونا وائرس -