سائنسدانوں نے کورونا وائرس کی 2 مزید ابتدائی علامات بتادیں، لوگوں کو خبردار کردیا

سائنسدانوں نے کورونا وائرس کی 2 مزید ابتدائی علامات بتادیں، لوگوں کو خبردار ...
سائنسدانوں نے کورونا وائرس کی 2 مزید ابتدائی علامات بتادیں، لوگوں کو خبردار کردیا

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) مسلسل کھانسی اور تیز بخار کورونا وائرس کی حتمی علامات ہیں تاہم یہ علامات اس وقت ظاہر ہوتی ہیں جب کورونا وائرس پوری طرح مریض کو جکڑ چکا ہوتا ہے۔ اب چینی سائنسدانوں نے دو ایسی ابتدائی علامات بھی بتا دی ہیں جس سے آدمی کو حتمی علامات ظاہر ہونے سے پہلے ہی پتا چل سکتا ہے کہ وائرس اس کے جسم میں پہنچ چکا ہے۔ چین کے شہر ووہان کی ’ہوا ژونگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی‘ کے سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ سر درد اور ذہنی دھندلاہٹ یا سر چکرانا کورونا وائرس کی ابتدائی علامات ہیں۔

اس تحقیق میں سائنسدانوں نے کورونا وائرس کے 214مریضوں میں ابتدائی علامات کا تجزیہ کیا۔ انہوں نے مریضوں سے ابتدائی علامات کے متعلق سوالات کیے۔ ان میں سے 36فیصد مریضوں نے بتایا کہ انہیں ابتداءمیں سردرد، ذہنی دھندلاہٹ یا چکر آنا، پٹھوں میں انفلیمیشن اور اعصابی درد لاحق ہوا۔ان میں سے 13فیصد مریضوں نے سردرد اور 17فیصد مریضوں نے چکر آنا ابتدائی علامات بتائیں۔ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ لنگ ماﺅ کا کہنا تھا کہ ”کئی لوگ ان ابتدائی علامات کے ساتھ ہسپتال آئے اور ان میں وائرس کی تصدیق ہو گئی۔ جبکہ کئی ان علامات کے بعد کھانسی اور بخار جیسی حتمی علامات ظاہر ہونے پر ہسپتال آئے۔“واضح رہے کہ اس سے قبل سائنسدان یہ بھی بتا چکے ہیں کہ ذائقے اور سونگھنے کی حسیں متاثر ہونا بھی کورونا وائرس کی ابتدائی علامات میں شامل ہیں۔

مزید :

کورونا وائرس -