سوشل میڈیا ایک  خاموش قاتل 

سوشل میڈیا ایک  خاموش قاتل 
سوشل میڈیا ایک  خاموش قاتل 

  

کورونا وائرس کے آںے کے بعد سوشل میڈیا کےصارفین میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے، آئے روز نئے نئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے لوگوں کو مزید مصروف کرنے کے اپنے نئے فیچرز بنالئے ہیں،پاکستان اس وقت ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے نظرآرہا ہے۔یوں تو ٹیکنالوجی نے لوگوں کو  آسانیاں تو دی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ سست روی کا شکاربنا دیا ہے،ٹیکنالوجی کےاس دورمیں سوشل میڈیااپنامعاشرے میں پورا کردار ادا کر رہا ہے۔آن لائن کلاس سےلیکرکاروباری افرادکےلیےیہ کافی مفید ثابت ہورہاہے،ظلم زیاتی کےخلاف اگرآپ نےآواز اٹھانی ہےتو آپ کےسامنے ٹویٹر سب سے اچھااورمفید پلیٹ فارم ہےجہاں آپ بہت کم الفاظ میں اپنا مدعا بیان کرسکتے ہیں،اظہار خیال کے بعد اپنے بات اپنے متعلقہ لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں ۔ اسی طرح فیس بک جہاں آپ اپنی بات بول کر لوگوں آگاہ کرسکتے ہیں ۔ یوٹیوب کی الگ دنیا ہے جہاں پرآپ کو ایک الگ طریقے سے اپنی بات کی جاسکتی ہے ۔۔۔

اس کے ساتھ ساتھ بہت سارے  سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہیں جہاں آپ کی بات کہی جاتی ہےاورحکام تک پہنچ جاتی ہےاوروہ اس پر ایکشن لیتے ہیں ۔۔۔ یہ سوشل آپ کے حق کی مکمل آواز ہے۔۔ جہاں آپ نے اپنی آواز بلند کرنی ہے اور لوگوں تک پہنچانی ہے ۔۔۔  لیکن ہمارے آج کے اس بلاگ کا موضع کچھ حقیقت پر مبنی ہے۔۔۔ہر نئے آئے دن نت نئی سہولیات آتی جاررہی ہے ہیں۔۔۔ سوشل میڈیا کی جانب سے لوگوں کا  زیادہ وقت لینے کے لیے نئے نئے فیچرز متعارف کروائے جارہے ہیں۔۔ ۔ جس سے ہر شہری کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے مطالعہ کے مطابق زیادہ سے زیادہ مواد دیکھے  اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس نے بھی لوگوں کے شوق کے سمجھنا شروع کردیا ہے ۔۔۔ جہاں سےآپ کی ریسرچ ہسٹری کےمطابق آپ کےسامنے  مواد سامنے آئے گا۔۔۔ اکثر ایسابھی ہواہے کہ آپ نے دوست کی محفل میں کوئی  ایک بات کی ہے جس کے مطلق آپ کو اس چیز کا اشتہار آپ کے سوشل میڈیا پر نظر آرہا ہوتاہے۔۔۔ اسی طرح اگر آپ نے کسی جگہ کا وزٹ کیا ہے تو اس کو متعلعہ اشہار آپ کے موبائل یا لیب ٹاک پرجلوا گر ہوتا ہے ۔۔۔ یہ سلسلہ کافی دیر سے چلتا آرہا ہے۔۔۔ 

یہ ایک ایسا سسٹم بنتا جارہا ہے جہاں  محفوظ رہنا اب مشکل ہوتا جارہا ہے ۔ آپ کیا کھاتے ، کیا پسند کرتے ہیں یہ سوشل میڈیا پیلٹ فارم کو شاید معلوم ہے۔۔۔یوں توہر شعبے سے وابستہ لوگوں کیلئے تجربہ کار افراد کی رہنمائی صرف سرچ کے ایک کلک پر موجود ہے ۔ اگر پڑھنے کے شوقین ہیں مگر اتنے پیسے نہیں ہیں کہ کتابیں خرید سکیں تو پریشان نہ ہوں کیونکہ ہر موضوع پر ہزاروں لاکھوں کتابیں آپ کیلئے سوشل ویب سائٹس پر موجود ہیں،تعلیمی کورسز ہوں یا دینی و دنیاوی علوم جنہیں آپ جب چاہیں آن لائن یا ڈاؤن لوڈ کر کے پڑھ سکتے ہیں اور اگر پڑھنا نہیں چاہتے تو سن لیں۔۔۔ جب چاہے اپنے من پسند سکالر کو یوٹیوب پر سرچ کریں اور سنیں لیکن اس غیر محفوظ پلیٹ فارمز آپ کی آواز تو بن رہے لیکن سوال یہ ہے کہ یہی کیا ہم اب غیر محفوظ ہوتے جارہے ہیں چونکہ نظام زندگی نے اتنا مصروف کر دیا ہے کہ لوگوں کے  پاس وقت نہیں کہ وہ اپنے پیاروں کو وقت دے سکے۔سوشل میڈیا ایک ایسا سمندر بن گیا ہے جس پر ریسرچ کرناکافی مشکل ہوتاجارہا ہے ۔ 

 جیسا کہ ایک مشہور مقولہ ہے کہ” ہر چیز کی زیاتی نقصان دہ ہوتی ہے ” اسی طرح جہاں سوشل میڈیا کے بےشمار فائدے ہیں وہیں اگر اس کا غلط استعمال کیا جائے تو اس سے زیادہ تباہ کار کوئی شے نہیں ۔۔۔۔جہاں یہ معلومات کا آسان اور بڑا ذریعہ ہے وہیں یہ غلط اور نامناسب معلومات کے فروغ میں بھی ایک اہم ہتھیار ہے۔۔۔۔ بہت سے قتنے اور فسادات سوشل میڈیا کی وجہ رونما ہو رہے ہیں ۔۔۔اگر آپ سوشل میڈیا پر آن لائن شاپنگ کرتے ہیں تو جو آرڈر کیا ہوتاہے وہ ملنے پر کچھ الگ نظر آرہا ہوتا ہے ۔۔۔۔ سوشل میڈیا کے کسی پلیٹ فارم کو آپ کھول کر دیکھ لیں۔۔۔ آپ کو بہت سارے فیک اکاونٹس نظر آئیں گے جس سے معصوم شہریوں کو بلیک میلنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ 

سوشل میڈیا  آئے دن غیر محفوظ ہوتا جارہا ہے ۔۔۔پاکستان نے ٹیکنالوجی کے میدان میں بہتری دیکھانا شروع کردی ہے ۔۔۔ ٹیکنالوجی سے ہم ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتے ہیں۔۔۔اس ترقی کے دور میں ہمارے اپنے سوشل میڈیا سائٹس ہوں جہاں پر اپنا اظہار خیال کر سکے ، جہاں پر اپنی کاروباری کام کر سکیں اور کوئی فیک ہو تو اسکو رپورٹ کیا جاسکے۔۔ہمارے پاس اظہارخیال کے لیے ایک مکمل نظام موجود ہو جس سے ہم اپنی آواز لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں۔ 

اگر آپ سوشل میڈیا کو استعمال کرکے محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو پرائیوسی سیٹنگز چیک کرنا لازمی ہوگا کہ آپ کہیں آپ محظوظ ہیں ۔ جب آپ کوئی چیز آئن لائن شائع کردیتے ہیں تو اس پر آپ کا اختیار ختم ہوجاتا ہے۔ اور آپ کو یہ بار سمجھنی ہوگی کہ آپ کی کون سی معلومات حاصل کی جاری رہی ہے ۔ اور کون ان کا استعمال کس طرح ہوگا ۔ آپ روزانہ کی بناد اپنے سوشل میڈیا کے اکاؤنٹ کو لازمی بغور کثرت چیک کرتے رہا کریں،خاص طور پر اس وقت جب ٹرمز آف سروس اور پرائیوسی پالیسیز میں کچھ تبدیلیاں رونما ہوں ۔ 

یار رہے کہ اگر آپ اپنی اشتراک کردہ اشیاء کی وہ سٹینگز جس کے ذریعے آپ یہ انتخاب کرسکتے ہیں کہ کون اسے دیکھ سکتا ہے اور کون نہیں ،پھر بھی آپ کی تمام آن لائن معلومات سوشل میڈیا سرورز پر موجود رہے گی اور شاید ہمیشہ کے لیے موجود رہے ۔مفت سروس استعمال کرنے کا مطلب اس کے استعمال کرنے والے لوگ اس کی مصنوعات ہیں، آرٹیفیشل انٹیلیجنس ، سوشل میڈیا اور مارکیٹگ ایک کامل امتراج ہے ۔مارکیٹنگ کے شعبے سے تعلق والے افراد آپ کے آن لائن ہونے والی عادات سے متعلق آپ کو اشتہارات دیکھاتے ہیں ،جس کی بھی آپ نے آخری بار آن لائن کچھ معلومات دی ہوگی وہ آپ کو بار بار اس کے متعلقہ اشتہارات دیتے رہیں گے۔آپ کی چیک ان سے متعلق معلومات کو آپ کی دوسری ذاتی معلومات کے ساتھ شامل کر کے آپ کی زندگی اور عادات کودیکھتے ہوئے آپ کی پروفائل بنائی جاسکتی ہے، جس کے نتیجہ میں لوگ آپ کی معلومات چوری چھپے دیکھ سکیں گے اورہوسکتا ہے کہ کوئی ہراساں کرنے جیسا واقعہ بھی رونما ہو۔ مزید یہ کو آپ تصاویر اور ویڈیوز میں محل وقوع کی معلومات دیتے ہوئے خیال کیا کریں،بس یہی سمجھ کر چلائیں کو سوشل میڈیا کا استعمال میں صرف موبائل پر نہیں بلکہ ایک ایسے چوک پر کررہا ہوں جہاں پر مجھے لوگ دیکھ رہے ہیں ، میری ہر چیز کی معلومات ان تک ہے اور میری کی ہوئی بات ان تک کیسے اثر انداز ہوسکتی ہے؟۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -