ہمارے کزن نے اپنے لیے تخلص ”انجم“ چن لیا، اس کے ابا کے منہ پر یہ نام چڑھتا نہیں تھا اس لیے انھوں نے سیدھا ”انجمن“ ہی کہنا شروع کر دیا 

ہمارے کزن نے اپنے لیے تخلص ”انجم“ چن لیا، اس کے ابا کے منہ پر یہ نام چڑھتا ...
ہمارے کزن نے اپنے لیے تخلص ”انجم“ چن لیا، اس کے ابا کے منہ پر یہ نام چڑھتا نہیں تھا اس لیے انھوں نے سیدھا ”انجمن“ ہی کہنا شروع کر دیا 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:244
مقصود احمد
مقصود، طالب کا چھوٹا بھائی ہے، اس کا ہلکا سا ذکر پہلے آ چکا ہے، یہ وہی لڑکا ہے جو بچپن میں نہر پر جیپ کی’گڑ گونج“ سن کر سب کو گھیر گھار کر اس کی طرف لے جایا کرتا تھا۔ فطرتاً تنہائی پسند اور کم گو ہے، اس لیے دوستیاں بھی کم ہی پالی ہیں۔ عام حالات میں کسی کی بات میں دخل نہیں دیتا لیکن جب دیتا ہے تو پھر پورا پورا دے دیتا ہے۔ شرمیلا اس قدر ہے کہ اگر کسی کے گھر میں مہمان بن کے گیا ہے تو اس کو جہاں بٹھا دیا جاتا ہے، ٹنگی ہوئی تصویر کی طرح وہ شام تک وہیں بھوکا پیاسا بیٹھا رہتا ہے۔ اس دوران وہ جسم سے روح کا رشتہ قائم رکھنے کی خاطر محض سانس لیتا ہے، جہاں تک کہ اس کامیزبان وہاں پہنچ کر اس کو اس اذیت سے نجات نہیں دلا دیتا۔کافی عرصہ سعودی عرب میں گزار کر اب مستقل پاکستان آگیا ہے، وہاں اس کی ویلڈنگ کی ورکشاپ تھی اپنے شرمیلے پن کی وجہ سے یہ اسی وقت کام کرتا تھاجب کوئی اس کو ہلا جلا کر ایسا کرنے کو کہتا کہ”بھائی صاحب کچھ کام کروانا ہے آپ سے“۔ پیسے طے نہیں کرتا۔ ملنگ بندہ ہے جتنے کسی نے تھما دیئے صبر شکر کر کے لے لیے۔ یہ ہمارے گروپ کا مستقل مگر قدرے تساہل پسند رکن تھا۔ تاہم ہر مہم پر وہ ہمارے ساتھ ضرور ہوتا تھا۔سعودی عرب جانے والے گوریلوں میں غالباً یہ پہلا اور آخری بندہ تھا جس نے اپنی محنت کی کمائی کو ضائع نہیں کیا اور انتہائی ذمہ داری سے اسے اپنے اور اپنے خاندان کی بہتری کے لیے استعمال کیا۔مقصود اپنے تمام دنیاوی فرائض سے فارغ ہو کر ایک پر سکون زندگی گزار رہا ہے۔
عبدالشکور انجم
شکور چھوٹے ماموں غلام باری کا سب سے بڑا بیٹا ہے۔ نام صرف عبدالشکور تھا، بعد میں اسے نہ جانے کیا سوجھی کہ زمانے اور علاقائی رسم و رواج کے مطابق اس نے نام کے ساتھ کوئی لاحقہ لگانے کا سوچا اور اپنے لیے کسی قدر نسوانی سا تخلص ”انجم“ چن لیا۔ ماموں کے منہ پر یہ نام ٹھیک طرح سے چڑھتا نہیں تھا اس لیے انھوں نے اسے سیدھا سیدھا”انجمن“ ہی کہنا شروع کر دیا جو اس زمانے کی ایک خوبصورت مگر انتہائی صحت مند فلمی ہیروئن بھی ہوا کرتی تھی۔ یہ اپنی تعلیمی سرگرمیوں کی وجہ سے ہمارے چھاپہ مار گروپ کا مستقل اور سرگرم رکن تو نہیں رہا تاہم جز وقتی حاضری ضرور لگوا لیتا تھا۔ جب اس روز میں اپنی بندوق سمیت نہر میں گرنے کے عمل سے گزر رہا تھا تو یہ پہلا بندہ تھا جو دوسرے کنارے پر کھڑا بھیانک قہقہے لگا کر ماحول کو گرما رہا تھا۔ اس وقت تو یہ مجھے شفقت چیمہ کا بچپن ہی لگا تھا۔
اگر تاریخ کے اوراق میں تھوڑا اورپیچھے چلے جائیں تو چند چشم کشا راز ضرور افشا ہوں گے۔ چونکہ اس وقت کے سارے بچوں میں یہ سب سے چھوٹا بلکہ نو زائیدہ تھا اس لیے ہم سب ”بڑوں“ کی آنکھوں کا تارا تھا۔ ہم اسے اس کی امی کی گود سے اچک کر باہر لے جاتے اور اس کی خوب مت مارتے تھے، کبھی چٹکیاں کاٹ کر رلاتے تو کبھی گدگدیاں کر کے ہنساتے۔ بسا اوقات ہم سب ڈاکٹروں کا روپ دھار لیتے اور پھر بات اس کے تفصیلی طبی معائنے تک جا پہنچتی تھی، ایسے حالات میں بچے عموماً بے بسی کے عالم میں رونے لگتے ہیں لیکن وہ ایسا اُچکا تھا کہ ایسے ناگوار حالات میں بھی حس مزاح قائم رکھتا اور سب کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرتا رہتا۔ شاید یہ جولانی طبع اسے ورثے میں ملی تھی۔ قد تھوڑا چھوٹا رہ گیا تھا لیکن اس کمی کو اس نے اپنی غیر معمولی دماغی صلاحیتوں سے متوازن کر لیا تھا۔ ذرا بڑا ہوا تو مکمل چھلاوا بن گیا جو ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو جاتا اور سب دیکھتے ہی رہ جاتے تھے۔ اپنے ابا کی ہی طرح بہت شرارتی تھا اور اکثر اسے کسی نہ کسی جگہ کوئی الٹا کام کرکے بھاگتا ہوا دیکھا جا سکتا تھا۔
  (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -