زندگی کی یہ اٹل حقیقت ہے کہ ہم بزدل، نااہل اور نالائق افراد کے نہ بت تراش سکتے ہیں نہ زیادہ تنخواہیں دے سکتے ہیں نہ ہی  تمغوں سے نواز سکتے ہیں 

زندگی کی یہ اٹل حقیقت ہے کہ ہم بزدل، نااہل اور نالائق افراد کے نہ بت تراش سکتے ...
زندگی کی یہ اٹل حقیقت ہے کہ ہم بزدل، نااہل اور نالائق افراد کے نہ بت تراش سکتے ہیں نہ زیادہ تنخواہیں دے سکتے ہیں نہ ہی  تمغوں سے نواز سکتے ہیں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ڈاکٹر ڈیوڈ جوزف شیوارڈز
ترجمہ:ریاض محمود انجم
 قسط:62
3:ہمت جرأت اور حوصلے کا مظاہرہ کیجئے:
زندگی کی یہ ایک اٹل اور ناگزیر حقیقت ہے کہ ہم بزدل، نااہل اور نالائق افراد کے نہ تو بت تراش سکتے ہیں نہ انہیں زیادہ تنخواہیں دے سکتے ہیں نہ ہی انہیں تمغوں سے نواز سکتے ہیں اور نہ ہی ان کی تعریف و توصیف کر سکتے ہیں۔ اس کی بجائے ہم ان لوگوں کی تعریف کرتے ہیں، ان لوگوں کے بت تراشتے ہیں انہیں زیادہ تنخواہیں دے سکتے ہیں، جو مشکل کام سر انجام دے سکتے ہیں ان میں اس قدر ہمت اور حوصلہ ہوتا ہے کہ وہ مصائب و مسائل کا مقابلہ کر سکیں۔ تمام مشکل مہمات، ان لوگوں کی قیادت میں سر ہوتی ہیں، جو مشکلات و مصائب او رناموافق حالات کا مقابلہ کرنے کی ہمت اور جرأت و حوصلہ رکھتے ہیں۔ ہماری قو م کے کچھ راہنما بے مثال جرات و حوصلہ کے مالک تھے اور اس کے لیے انہوں نے بے اندازہ قیمت ادا کی اور قربانی دی۔ ان حقائق کا ادراک آپ اعلان آزادی پر دستخط کرنے والے افراد کو دیکھ کر کر سکتے ہیں۔ اعلان آزادی پر دستخط کرنے والے افراد میں سے پانچ افراد کو برطانیہ نے غداروں کی حیثیت سے قید کر لیا۔ 56افراد میں سے ایک درجن افرا د کے گھر بار لوٹ لیے گئے اور جلا دیئے گئے۔ ان کے بیٹے جنگ میں مارے گئے۔ ایک اور فرد کے دو بیٹے پکڑے گئے۔ انقلاب امریکہ کے لیے بے شمار افراد نے کئی جنگوں میں حصہ لیا اور لاتعداد افراد زخمی ہوئے یا انہیں دوسری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ کس قسم کے افراد تھے؟ ان میں سے 25 وکیل یا قانون دان تھے، گیارہ تاجر پیشہ تھے، نو افراد یا تو کسان تھے یا پھر بڑے بڑے کھیتوں اور باغات کے مالک تھے۔ وہ خوشحال اور تعلیم یافتہ افراد تھے لیکن پھر بھی انہوں نے اعلان آزادی پر دستخط کر دیئے حالانکہ انہیں معلوم تھا کہ اگر وہ پکڑے گئے تو انہیں موت تک کی سزا دی جاسکتی ہے۔
جب ان باہمت، با حوصلہ اور جرأت مند افراد نے اعلان آزادی پر دستخط کر دیئے تو انہوں نے اپنی زندگیاں اپنی قسمت اور اپنی عزت و وقار، آزادی و خود مختاری کے لیے داؤ پر لگا دی۔
رچرڈ سٹاکٹن (Richard Stockton)، 1776 کے آخر میں نیو جرسی واپس لوٹ آیا تاکہ وہ دشمن کی طرف سے ہونے والے نقصان کا جائزہ لے سکے۔ اس نے اپنی بیوی کو تو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا لیکن خود پکڑا گیا۔ اس کا گھر، اس کی عظیم لائبریری، اس کی تحریر کردہ کتب، سب کچھ تباہ کر دیا گیا۔ جیل میں سٹاک ٹن کے ساتھ ایسا برا سلوک کیا گیا کہ اس کی صحت تباہ ہوگئی اور جنگ ختم ہونے سے قبل ہی وہ مرگیا۔
کارٹر بریکسٹن (Carter Braxton)، ایک دولت مند کاشتکار اور تاجر تھا۔ ایک ایک کرکے برطانوی بحریہ نے اس کے تمام بحری جہاز پکڑ لیے۔ اس نے امریکہ کی خاطر ایک خطیر رقم بطور قرضہ دی، لیکن یہ رقم اسے کبھی واپس نہ مل سکی۔ اس کے مالی حالات اس قدر خراب ہوگئے کہ اسے اپنے قرضے ادا کرنے کے لیے اپنے تمام کھیت، باغات اور دیگر جائیدادیں رہن رکھوانے پڑیں۔
برطانوی پولیس، تھامس میک کین (Thomas Mckean) کے پیچھے شکاری کتوں کی طرح لگی رہی اور تھامس اپنے اور اپنے خاندان کے بچاؤ کے لیے مسلسل ادھر ادھر چھپتا پھرا۔ اس نے کانٹی نینٹل کانگرس (Continental Congress) میں بلامعاوضہ کام کیا اور اپنے خاندان کو ایک خفیہ مقام پر چھپائے رکھا۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -