مقبوضہ کشمیر، انجینئر رشید کی بانڈی پورہ کے ایڈیشنل ایس پی کی تنزلی کے فیصلے کی مذمت

مقبوضہ کشمیر، انجینئر رشید کی بانڈی پورہ کے ایڈیشنل ایس پی کی تنزلی کے فیصلے ...

سرینگر(آ ئی اےن پی ) مقبوضہ کشمےر کے ممبر اسمبلی لنگیٹ انجینئر رشید نے بانڈی پورہ کے ایڈیشنل ایس ، پی وسیم قادری کو سچ کہنے کی پاداش میں تنزل کر نے کے فیصلے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جموں کشمیر میں سچ بولنا کتنا مشکل کام ہے اور اہل کشمیر کذشتہ 23 برسوں سے کن کن دل دوز سانحوں کے چشم دید گواہ ہونے کے باوجود خاموشی اختیار کر نے پر مجبور ہیں۔ گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں انجینئر رشید نے کہا ” اگر ایک فرض شناس پولیس افسر کو ذرا سا سچ بولنے پر اتنی بڑی سزا دی جا سکتی ہے تو بھلا فوج اور دیگر سکیورٹی ایجنسیوں کے کالے کرتوتوں کا پردہ فاش کر نے والے لوگ کہاں محفوظ ہیں۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ریاستی سرکار متعلقہ افسر کی حوصلہ افزائی کر تی لیکن اس کی تنزلی کے احکامات دے کر ریاستی سر کار نے اپنی بے بسی کا گویا اعلان کر دیا۔ “ انہوں نے کہا کہ فوج کے دباﺅ میں ا?کر وسیم قادری کو سچ بولنے کے عوض تنزل کرنے کا معاملہ انتہائی سنگین ہے اور اس بات کو ثابت کر تا ہے کہ یہاں نہ صرف عملاََ فوجی راج ہے بلکہ فوج کی مرضی اور منشا کے بغیر سرکار یہاں گاس کا تنکہ بھی نہیں کاٹ سکتی۔ نیز اخوانیوں کو فوج کی بھر پور اشیرواد اب بھی حاصل ہے۔انجینئر رشید نے کہا کہ بجائے اس کے کہ فوج بانڈٰ پورہ کے ہلال احمد کے قتل کے بعد نادم ہو تی اور اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر دھیان دیتی اس نے اپنی کالی کرتوت پر دہ ڈالنے کے لئے ایک فرض شناس پولیس افسر کو نام نہاد قومی مفاد کی بھینٹ چڑھایا۔مذکورہ واقع سے متعلق مذکورہ افسر کو سزا دینے سے دراصل ریاستی پولیس میں ایماندار اور قوم پرست کشمیری پولیس افسروں کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ وہ ا?گے کبھی فوج اور دیگر ایجنسیوں کے کالے کرتوتوں پر سے پردہ اٹھانے کا خیال ذہن سے نکالیں۔ انہوں نے کہا کہ وسیم قادری کے خلاف اٹھائے گئے قدم سے فوج اور سرکار کے ان دعوﺅںکے پول کھلتی ہے کہ وہ کچھ چھپانا نہیں چاہتی اور یہ کہ انسانی حقوق کی خلادرزیوں کے خلاف وہ زیرہ ٹالرنس دکھانے کے پابند ہیں۔

مزید : عالمی منظر