برما ‘فسادات میں سکیورٹی فورسز نے مسلمانوں کو نشانہ بنایا‘نوی پلے

برما ‘فسادات میں سکیورٹی فورسز نے مسلمانوں کو نشانہ بنایا‘نوی پلے

لندن (اے پی پی) انسانی حقوق کے لیے اقوامِ متحدہ کی مندوب نوی پلے نے کہا ہے کہ برما میں مسلم کش فسادات کے دوران بدامنی پر قابو پانے کےلئے بھیجی جانے والی سکیورٹی فورسز نے مسلمانوں کو نشانہ بنایا ہے ۔ذرائع ابلاغ کے مطابق انہوں نے اس معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارہ یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ علاقے میں تشدد کی وجہ سے 80 ہزار افراد کو اپنا گھربار چھوڑنا پڑا ہے۔دریں اثناءبرما میں ہونے والے حالیہ فسادات کے دوران مسلم آبادی کے 10ہزار مکانات تباہ کر دیے گئے۔ برما میں رخائین کے مسلم اکثریتی علاقے کے شہر ستوو کا دورہ کرنے کے بعد صحافیوں نے بتایا کہ انہیں کئی ماہ تک شہر میں داخلے کی اجازت نہیں ملی۔ رپورٹ کے تیاری کے دوران انہوں نے ایک ایسے علاقے کو فلمبند کیا جہاں دس ہزار مکانات اب ملبے کی شکل میں موجود ہیں۔علاقے میں پرتشدد واقعات کا سلسلہ رواں برس مئی میںشروع ہوا تھا ۔بعدازاں تشدد کا سلسلہ پوری ریاست میں پھیل گیا ۔اس وقت ستوے کے رہائشی زیادہ تر روہنگیا مسلمان عارضی کیمپوں میں قیام پذیر ہیں۔ برما کی حکومت نے تشدد کے واقعات کے بعد علاقے میں ہنگامی حالت نافذ کر دی تھی اور غیرملکی میڈیا کو علاقے کا دورہ کرنے سے روک دیا تھا۔برطانوی چینل فور کی ٹیم ستوے میں نارزی نامی علاقے کا دورہ کرنے میں کامیاب ہوئی۔ یہ علاقہ مسلم روہنگیا آبادی کی اکثریت کا ہے۔جب ٹیم علاقے میں پہنچی تو مقامی بودھ تباہ شدہ مکانات کا ملبہ اٹھا رہے تھے۔ وہاں موجود ایک شخص نے چینل فور کے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مسلمانوں نے خود اپنے مکانات کو آگ لگائی ہے۔

مزید : عالمی منظر