وزیراعظم کی حیثیت کمزور کرنے سے نظام اورملک کمزور ہوگا، قمر زمان کائرہ

وزیراعظم کی حیثیت کمزور کرنے سے نظام اورملک کمزور ہوگا، قمر زمان کائرہ

ؒٓؒٓٓلاہور(نمائندہ خصوصی( وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ ملک کی رٹ کو چےلنج کرنے والے کے بدخواہ جہاں بھی ہوں گے ان کے خلاف کارروائی کریں گے اس کے لئے ہمےں کسی کی ڈکٹےشن کی ضرورت نہیں،جمہوری ادارہ صرف پارلےمان ہے اس کے علاوہ کوئی ادارہ جمہوری نہیں کہلا سکتااور نہ ہی کوئی بھی فرد ادارہ کی حیثےت نہی رکھتا ہے ،تمام ادارے پارلےمان کو جواب دہ ہےں،جمہوریت کا نمائندہ فورم پارلیمینٹ ہے اور کوئی ادارہ اپنی ساخت میں جمہوری نہیں ہوتا،داروں کو ایک دوسرے پر ترجیح دینے سے مسائل حل نہیں ہونگے، سوئس حکام کو خط لکھنے سے انکار نہیں کیا لیکن صدر کے عہدے کو آئینی استثنیٰ حاصل ہے، وزیراعظم کی حیثیت کمزور ہونے سے نظام اور ملک کمزور ہوگا، انقلاب کا نعرہ لگانے والی جماعتیں الیکشن کےلئے ےقےنی جےتنے والے امیدواروں کو ڈھونڈ رہی ہیں۔صحافےوں کے اعزاز مےں جمعرات کو لاہور میں افطار ڈنر مےں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ عدالت نے جب ہمیں بلایا ہم عدالت میں پیش ہوئے ،عدالتی فیصلوں پر تحفظات کے باوجود انہیں قبول کیا ہے اور عدالتی فیصلوں پر عمل کیا ہے، ہمارے ہاں مباحثوں کا عمل رک گیا، آج جو نظریہ اور مباحثہ جاری ہے اس میں طاقت اور گولی کی زبان کے ذریعے سب کچھ مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ملک میں اب جمہوریت کی ضرورت پر سوال اٹھنے لگے، اس میں سوال کرنے والے وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کا ماضی جمہوریت سے نہیں بلکہ آمریت سے جڑا تھا، وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ملک میں بار بار آمریت آنے اور جمہوریت کے خاتمہ سے گورننس خراب ہوئی ہے، ہم نے ملک میں اداروں اور سماج کو درست کرنا ہے، جمہوریت صرف آئین و قانون بنانے سے نہیں آتی۔ وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ ایوب خان کے دور میں بہت زیادہ ترقی کا واویلا کیا جاتا ہے لیکن ان کی معاشی ترقی کی خوشحالی ٹرین بہاولپور سے آگے نہیں جا سکی اور ملک دولخت ہوا، ہمارے قائدین نے ملک کو دوبارہ اپنے پاﺅں پر کھڑا کر کے ایک جمہوری اور وفاقی ملک بنانے کی کوشش کی ، 1973ءکا آئین بنایا، ملک میں پھر ایک آمریت آ گئی، اس نے ملک کی بنیاد پر حملے کئے، پاکستان کو مذہبی طور پر چلانے کی کوشش کی جس سے ملک کمزور ہوا۔ قمر زمان کائرہ نے کہا کہ قوم آج تک ضیاءالحق کے 1985ءکے غیر جماعتی انتخابات کے نتائج بھگت رہی ہے، یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے، آج سیاسی جماعتیں کمزور اور شخصیات، قبیلے مضبوط ہوئے ہیں۔

مزید : صفحہ اول