آج کی عدلیہ ملک کو متحداور مربوط رکھنے کی سب بڑی قوت ہے :چیف جسٹس

آج کی عدلیہ ملک کو متحداور مربوط رکھنے کی سب بڑی قوت ہے :چیف جسٹس

اسلام آباد(آن لائن)چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ ۔ آج کی عدلےہ جو کہ ملک کو متحد اور مربوط رکھنے کی سب سے بڑی قوت ہے ۔ عوام اور اداروں کے بنےادی حقوق کو آئےن سے ماوراءاقدامات کے بر خلاف حفاظت کرنے جےسی اپنی بنےادی ذمہ داری سے بخوبی آگاہ ہے ۔ ےہ آئےن کے دائرہ کار مےں رہتے ہوے اپنے امور انجام دے رہی ہے ۔ جمہوری نظام مےں عدلےہ آئےن کی بالا دستی اور قانون کی حکمرانی کا دفاع کرنے کی وجہ سے حکومت کے باقی دو اعضاءےعنی انتظامےہ اور مقننہ کے مقابلے مےں برابر مقام رکھتی ہے ۔ ملک کے تمام اداروں کو عدلےہ کی آزادی کی رواےت جس کا آئےن پاکستان کی تمہےد مےں بھی ذکر کےا گےا ہے ، کا احترام کرنا چاہئےے۔ تمام جدےد جمہورےتوں مےں بہتر طرزِ حکومت، کرپشن اور بد عنوان عوامل کو روکنے ، تشدد اور دہشت گردی کو ختم کرنے اور انسانی حقوق کی حفاظت کے لئے اعلیٰ عدالتوں کا کردار نہاےت ضروری ہے ۔ اسی وجہ سے تمام جدےد جمہوری رےاستوں کی آئےنی دستاوےزات مےں عدالتی فےصلوں کو نہاےت احترام دےا گےا ہے ۔پاکستان اپنی تارےخ کے نازک ترےن دور سے گزر رہا ہے ۔ اغواءبرائے تاوان، اغواء،ٹارگٹ کِلنگ جبری غائب کرنے، توانائی کا بحران، بد عنوانی اور اقربا پروری کے، روز بروز کے واقعات نے سماجی و معاشی ترقی کو اپاہج بنا دےا ہے اور متعلقہ حکام پر سے عوام کا اعتماد اٹھ گےا ہے ۔ ےہ وقت کی ضرورت ہے کہ جمہوری نظام کو ان سماجی برائےوں کی وجہ سے تباہی سے دو چار ہونے سے بچانے کے لئے متعلقہ حکام سخت جدوجہد کرےں۔ انہےں، ملک مےں ہم آہنگی اور امن لانے کے لئے قابل عمل تراکےب کی تشکےل اور جمہورےت کی اعلیٰ اقدار کو اپنانا چاہئےے۔ مےں پر امےد ہوں کہ قانون کی حکمرانی، صاف گوئی، احتسابی عمل، شفافےت اور آئےنی بالا دستی کے اصولوں کی پےروی کرتے ہوئے پاکستان کو حقےقت مےں اےک فلاحی رےاست مےں ڈھالنے کی مشترکہ منزل کے حصول کے لئے رےاستی ادارے ا ور سماج، ہاتھوں مےں ہاتھ دےں گے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے جسٹس شاکراللہ جان کی ریٹائرمنٹ پر فل کورٹ ریفرنس کے موقع پر اپنے خطاب میں کیا۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی ادارے مےں اپنے رےٹائر ہونے والے ساتھی کو الوادع کہنے کا وقت مشکل ترےن ہوتا ہے اور خاص طور پر اس ساتھی کو جو اپنی وفا داری، سخت محنت اور لگن کی وجہ سے نہ صرف اپنے لئے بلکہ مجموعی طور پر ادارے کے لئے باعث شہرت ہو۔ اس مےں شک نہےں کہ مےاں شاکر اللہ جان مےرے اُن ساتھےوں مےں سے اےک ہےں جس نے عدلےہ کے ادارے کو اپنی غےر معمولی صلاحےتوں، قانونی ادراک، قانون کو گہرائی سے سمجھنا ،صبر، دانشمندی، شفاف اور غےر جانبدار فےصلوں جےسی عظےم خدمات سے نوازا ہے ۔ پشاور کے معزز اور شرےف گھرانے سے تعلق رکھنے والے جسٹس جان نے 1973ءمےں اپنے قانونی سفر کا آغاز کےا۔ اور سخت محنت اور لگن سے اپنے اس پےشے مےں کافی عرصہ تک پرےکٹس کی ۔ جسٹس جان نے اپنے پورے قانونی اور عدالتی پیشہ میں عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی کی خدمات سر انجام دینے کی کوششیں کی ۔ وہ ان ججوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے 2007ءمیں فوجی آمر کے سامنے حلف لینے سے انکار کیا اور انہےں کام سے رُوک دیا گیا۔ بحالی کے بعد جسٹس جان نے سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے مقدمہ میں لارجر بنچ کا ممبر ہونے کی حےثےت سے تاریخی فیصلہ دےا، جس نے نظریہ ضرورت کو دفن کر دیا اور ممکنہ آرمی حکومتوں کے مستقبل میں دروازے بند کر دیے۔ وہ ڈاکٹر مبشر حسن کے مقدمے میں بھی بنچ کے رکن رہے، جس میں عدالت عظمیٰ نے قومی مصالحتی آرڈیننس (NRO)کو ختم کیا اور ہدایت دی کہ پاکستان میں احتسابی عدالتوں میںناجائز طرےقے سے حاصل شدہ رقوم سے متعلق زیرِ التوا مقدمات کو دوبارہ کھولا جائے۔ مجھے ےہ کہتے ہوئے فخر محسوس ہوتا ہے کہ باوجود کئی رکاوٹوں کے پاکستان کی عدالتےں آئےن اور جمہورےت کو بچانے کے لئے اپنی آئےنی ذمہ دارےوں سے با خبر ہےں، اور نچلی سطح پر انصاف مہےا کرنے مےں کامےاب و کامران ہوئی ہےں۔اےک غےر جانبدار آزاد اور قابل مواخذہ عدالتی حلقہ بنےادی انسانی حقوق کی حفاظت، تنازعات کے منصفانہ حل، مضبوط معاشی اور سےاسی ترقی کے لئے بہت ضروری ہے انصاف کی فراہمی مےں غےر جانبداری کو اسلام اور قرآن پاک مےں تسلےم کےا گےا ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہےں:”اے اےمان والو! انصاف پر قائم رہو اور اللہ کے لئے سچی گواہی دو خواہ ےہ تمہارے اپنے خلاف ےا تمہارے ماں باپ اور رشتہ داروں کے خلاف ہی ہو۔ اگر کوئی امےر ہے ےا غرےب تو اللہ ان دونوں کا خےر خواہ ہے پس تم خواہش نفس کے پےچھے چل کر عدل کو نہ چھوڑ دےنا اگر تم لگی لپٹی بات کہو گے ےا سچائی سے پہلو تہی کرو گے تو جان رکھو اللہ تمہارے کاموں سے واقف ہے “۔ آج کی عدلےہ جو کہ ملک کو متحد اور مربوط رکھنے کی سب سے بڑی قوت ہے ۔ عوام اور اداروں کے بنےادی حقوق کو آئےن سے ماوراءاقدامات کے بر خلاف حفاظت کرنے جےسی اپنی بنےادی ذمہ داری سے بخوبی آگاہ ہے ۔ ےہ آئےن کے دائرہ کار مےں رہتے ہوے اپنے امور انجام دے رہی ہے ۔ جمہوری نظام مےں عدلےہ آئےن کی بالا دستی اور قانون کی حکمرانی کے دفاع کرنے کی وجہ سے حکومت کے باقی دو اعضاءےعنی انتظامےہ اور مقننہ کے مقابلے مےں برابر مقام رکھتی ہے ۔ ملک کے تمام اداروں کو عدلےہ کی آزادی کی رواےت جس کا آئےن پاکستان کی تمہےد مےں بھی ذکر کےا گےا ہے ، کا احترام کرنا چاہئے۔ پوری دنےا مےں حکومتی مفاد کے بجائے، عوامی حقوق کے تحفظ کے لےے ماتحت عدالتےں اور رےاستی ادارے اعلیٰ عدالتوں کے فےصلوں کی پےروی کرتے ہےں اور ان پر عمل درآمد کرتے ہےں۔بلاشبہ قانون کی تشریح عدلیہ کا کام ہے ۔ تا ہم قانون کا نفاذ اور عدالتی فےصلوں پر عمل درآمد کروانا انتظامےہ کی ذمہ داری ہے ۔ عدلےہ کے کردار کو محض اس وجہ سے حزب اختلاف کا کردار نہےں گردانا جا سکتا کہ وہ سختی سے قانون کے مطابق فےصلے کرتی ہے ۔ خود مختار عدلےہ کا وجود اور عدالتی فےصلوں کا احترام، انصاف کی فراہمی کے لئے کسی بھی رےاست کے لئے ناگزےر ہےں۔ اب اپنے پےارے بھائی جسٹس جان کی طرف آتے ہوئے جو آج رےٹائر ہو رہے ہےں،اُن کا اور ان کے اہل خانہ کے لئے نےک خواہشات کا اظہاراپنی طرف سے اور دےگر برادران کی طرف سے کرتا ہوں۔

مزید : صفحہ اول