وزیراعظم کیخلاف اظہار وجوہ نوٹس کیس کی سماعت ستمبر تک ملتوی کرنے کی حکومتی درخواست مسترد

وزیراعظم کیخلاف اظہار وجوہ نوٹس کیس کی سماعت ستمبر تک ملتوی کرنے کی حکومتی ...

اسلام آباد(آئی این پی)سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل عرفان قادر اوروزیرقانون فاروق ایچ نائیک کی استدعاپر این آراوعملدرآمد نظرثانی کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کرتے ہوئے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف اظہار وجوہ کے نوٹس کیس کی سماعت ستمبرتک ملتوی کرنے کی حکومتی درخواست مستردکردی ۔جبکہ اٹارنی جنرل نے عدالت کویقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت عدالتی حکم پر عمل کرنے میں پوری طرح سے سنجیدہ ہے عدالتی آبزرویشن کی روشنی میں معاملہ حل کرنے کے لیے تیارہیں وقت دیاجائے۔جمعرات کو جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجربنچ نے ایک بارپھر این آراوعملدرآمد نظرثانی کیس کی سماعت کی ۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کوآگاہ کیا کہ انہوں نے گزشتہ روزوزیراعظم اوروزیرقانون سے ملاقات کی اور وہ عدالتی آبزرویشن کی روشنی میں معاملہ حل کرنے کوتیارہیں۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دئیے کہ ہماری آبزرویشن صرف این آراوعملدرآمد فیصلے کے پیراگراف 177 اور178 تک محدود تھی اس پرعمل درآمد کیا جائے۔ عرفان قادر نے کہاکہ وزیرقانون فاروق ایچ نائیک اس وقت کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔ یہ حکومت کی اس کیس میں سنجیدگی کا ثبوت ہے ،عدالت ان سے کچھ پوچھنا چاہے توپوچھ سکتی ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ انہیں روس کے پراسیکیوٹرجنرل کی دعوت پرروس جانا ہے لہذا سماعت عید کے بعد تک ملتوی کی جائے، فاروق ایچ نائیک کی بھی خواہش ہے کہ معاملہ عید کے بعد تک لے جایا جائے۔عدالت کے بولنے کی اجازت ملنے پر وزیرقانون فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ہم جمہوریت کی بقا چاہتے ہیں، اداروں میں تصادم نہیں۔ درخواست ہے کہ سماعت یکم ستمبرتک ملتوی کی جائے تاکہ معاملات کوبہترانداز میں حل کرنے کا مناسب وقت مل سکے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ وزیراعظم کی توہین عدالت کا معاملہ آج زیربحث نہیں، اس لیے 27 اگست کی تاریخ تبدیل نہیں کرسکتے۔ وزیراعظم کامعاملہ موخرکرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ 27اگست کوہی ہوسکے گا، ہم صرف عدالتی احکامات پرعمل چاہتے ہیں۔ حکومت آئندہ سماعت پرمثبت پیش رفت کے ساتھ آتی ہے توہم بھی سہولت دیں گے ورنہ قانون اپنا راستہ خود نکالے گا۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آپ فیصلے میں لکھیں کہ التوا بامعنی پیش رفت کے لیے نہیں مشاورت کے لیے دیا گیا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دئیے کہ یہ التوا آپ کومشاورت کے لیے نہیں، مشاورت توپچھلے تین سال سے ہورہی ہے ہم بامعنی پیش رفت چاہتے ہیں اسی لیے التوا دے رہے ہیں۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ ہم اٹارنی جنرل کی کانفرنس تباہ نہیں کرنا چاہتے، 27اگست کی تاریخ صرف وزیراعظم کواظہاروجوہ کے نوٹس کا جواب دینے کےلئے ہے۔ جسٹس اعجازافضل نے استفسارکیاکہ آپ نظرثانی درخواست واپس کیوں نہیں لے لیتے؟ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ کچھ وقت دے دیں، یقین ہے حکومت نظرثانی درخواست واپس لے لے گی۔ اٹارنی جنرل اوروزیرقانون کی درخواست پراین آراوعملدرآمد پرنظرثانی کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت کےلئے ملتوی کردی گئی۔

مزید : صفحہ اول