حملہ آور دستی بموں سے حملہ کرتے ہوئے ایک بیس میں داخل ہوئے

حملہ آور دستی بموں سے حملہ کرتے ہوئے ایک بیس میں داخل ہوئے

اٹک (شہزاد انجم بٹ، قاری لیاقت علی سے ) 27 رمضان المبارک کو دو سے اڑھائی بجے کے قریب نو مسلح افراد جن کے پاس ہینڈگرینڈ، خود کش جیکٹس، رائفلز اور کھانے پینے کے سامان کے ساتھ ائر فورس کی وردیوں میں ملبوس تھے پیدل کامرہ فیکٹریوں کے مغرب میں واقع ائرفورس پکٹ جو کہ پنڈ سلمان مکھن کی جانب سے کامرہ میں بنی ہوئی ہے آئے اور آتے ساتھ ہی دستی بم سے حملہ کرتے ہوئے کامرہ ائر بیس میں داخل ہو گئے اور سب سے پہلے انکا سامنا ڈی ایس جی کے آصف نے کیا اور مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا بعد ازاں دہشت گرد اند ر گھسے اور کامرہ میں موجود سیکیورٹی والوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا جو تقریباً تین گھنٹے سے زائد جاری رہا جس کے نتیجہ میں کچھ دہشت گرد مارے گئے اس دوران ہر طرف بذریعہ ٹیلی فون وائرلیس ائر بیس پر حملہ کے بارے آگاہ کر دیا گیا جس پر فوری طور پر ایکشن لیتے ہوئے رینجرز، آرمی اور ایس ایس جی اور کمانڈوز فورس بھی آگئی اور آ کر پوزیشنیں سنبھالتے ہوئے دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے لگے اس دوران ائر فورس کے ائر کموڈور محمد اعظم اپنے فرائض منصبی ادا کر رہے تھے کہ انہیں ایک گولی لگی جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے اور انہیں پی اے سی ہسپتال شفٹ کیا گیا لیکن جلد ہی انہیں بعد میں سی ایم ایچ اٹک میں شفٹ کر دیا گیا جہاں انکی حالت خطر ے سے باہر بتائی گئی اس دوران دہشت گردوں نے امریکی ساختہ دوطیارے جو کہ وہاں کھڑے تھے کو بھی نشانہ بنایا اس موقع پرمتعدد تھنڈر طیارے وہاں موجود تھے اور مشاق چھوٹے طیارے بھی موجود تھے تقریباً نو بجے کے قریب ایک زور دار دھماکہ سنائی دیا جو کہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ خود کش حملہ آور نے اپنی جیکٹ کو بلاسٹ کیا۔ اس تمام آپریشن میں رینجرز، آرمی، کامرہ سیکیورٹی اور دیگر فورسز نے حصہ لیا ایک ڈی سی جی کا جوان آصف شہید اور پانچ افراد زخمی ہوئے جبکہ دہشت گردوں کا ملیا میٹ کر دیا گیا اس دوران سیکیورٹی کے نوجوانوں نے پنڈ سلمان مکھن کو گھیرے میں لے لیا اور آپریشن کے دوران آٹھ مشتبہ افراد کو زیر حراست میں لے لیا۔ بعد آزاں آپریشن کے مکمل ہونے کے بعد کامرہ سے ملحقہ مارکیٹیں کھل گئی۔

مزید : صفحہ اول