کامرہ ائیر بیس پر حملہ ناکام‘سارے دہشتگردمارے گئے

کامرہ ائیر بیس پر حملہ ناکام‘سارے دہشتگردمارے گئے

کامرہ کینٹ ( نمائند ہ پاکستان+ آن لائن+ این این آئی+ ثناءنیوز+ آئی این پی) پاکستان ائیر فورس کے زیر استعمال کامرہ کے منہاس ائیربیس پر ستائیسویں رمضان کی شب دہشت گرد حملے میں ایک اہلکار شہید اور 9حملہ آور ہلاک ہوگئے ۔جبکہ آپریشن کی کمان کرنے والے بیس کمانڈر ائیر کموڈور محمد اعظم اور دو سیکورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔حملے میں ایک طیارے کو نقصان پہنچا ۔ واقعے کے بعد بیس کے اطراف رہائشی علاقوں میں سرچ آپریشن کے دوران ایک حملہ آور اور 8مشکوک افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلی سطح کی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ پاک فضائیہ کے ترجمان گروپ کیپٹن طارق محمود کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے تقریبا ساٹھ کلومیٹر کی دوری پر واقع ضلع اٹک کے شہر کامرہ میں پاکستانی فضائیہ کے اڈے پر بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب دو بجکر 10منٹ پر پاک فضائیہ کے کمانڈوز کی یونیفارم میں ملبوس دہشتگردوں نے حملہ کیا۔ راکٹ پروپلڈ گرنیڈ (آر پی جی) سیون سمیت جدید ہتھیاروں اور دھماکا خیزمواد سے بھری جیکٹ پہنے حملہ آور پنڈ سلمان مکھن کی جانب سے ائیر بیس میں داخل ہوئے ۔ ملک دشمن عناصر کو بھرپور جواب دینے کے لیے پاک فوج کے کمانڈوز کو طلب کیا گیا۔ ایس ایس جی کمانڈوز اورسیکورٹی فورسز نے حملہ آوروں کو طیاروں کے ہینگرمیں گھسنے کی کوشش ناکام بنا کر قریب جانے سے روکا۔ دہشت گردوں اور فورسز میں مقابلہ تقریباً چار گھنٹے جاری رہا جمعرات کی صبح صورتحال پر قابو پا لیا گیا اور فائرنگ کا سلسلہ بھی تھم گیا ۔ذرائع کے مطابق ایس ایس جی کمانڈوز نے علاقے کو سیل کر کے کارروائی کی اور9 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا جبکہ ایک کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔حملے میں پاک فضائیہ کا ایک اہلکار شہید اور ایئرکمو ڈور محمد اعظم اور 2 سیکیورٹی اہلکار زخمی ہو گئے ۔ انہیں طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت اب بہتر ہے۔حملے سے ایک جہاز ساب - 2000کو نقصان پہنچا جو کہ نگرانی اور معلومات اکھٹا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ایک حملہ آور کا موبائل فون درست حالت میںمل گیا ہے۔ حملہ آوروں نے گولیاں چلانے کے ساتھ ساتھ دستی بموں سے بھی حملے کیے لیکن پاک فوج کے کمانڈوز اور ائر فورس کے جوانوں نے جواں مردی کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے صورت حال پر قابو پایا۔ ائر بیس پر چینی انجینئر بھی موجود تھے جو حملے میں محفوظ رہے۔علاقے میں مزید ممکنہ حملہ آوروں کے خلاف سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا اور اسلام آباد پشاور موٹر وے کو اٹک کے مقام پر بند کر دیا گیا ۔ایئربیس پرموجود طیارے F7P،Mirage 5 ROSE-IIاورJF-17 طیارے ہوتے ہیں جو محفوظ رہے۔ کمانڈوز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ پولیس، پیراملٹری فورسز اور قانون نافذکرنے والے دیگر ادارے کے اہلکاربھی علاقے میں پہنچ گئے ۔ بیس کے اطراف رہائشی علاقوں میں سرچ آپریشن کے دوران 8مشکوک افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ پی اے ایف حکام نے واقعے کی تحقیقات کے لئے انکوائری بورڈ تشکیل دے دیا ہے۔ ”بی بی سی“ کے مطابق عسکری ذرائع نے بتایا کہ حملہ آوروں کی تعداد11سے15کے درمیان تھی۔ حملہ آوروں نے پاکستانی فضائیہ کی وردیاں پہنی ہوئی تھیں اور یہ حملہ 2009ءمیں جی ایچ کیو پر ہونے والے حملے کی طرز پر کیا گیا۔ پاکستانی فضائیہ کے ترجمان گروپ کیپٹن طارق محمود نے بتایا کہ حملہ آوروں نے منہاس ائیر بیس کے جس حصے پر حملہ کیا تھا انہیں وہیں گھیر لیا گیا اور اس کارروائی میں فضائیہ کے کمانڈوز نے بھی حصہ لیا۔ وفاقی وزیر داخلہ نے تمام ائیر پورٹس اور ائیر بیس کے اطراف میں سیکیورٹی سخت کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے جبکہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں بھی سیکیورٹی سخت کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گرد رات ڈیڑھ بجے کے قریب کامرہ ایئر بیس کی دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہوئے۔ کامرہ ائیربیس پرحملے کے بعد پشاور کینٹ ایریا کے حساس مقامات کی سیکورٹی ہائی الرٹ کردی گئی۔ اے ایس پی کینٹ فیصل شہزاد نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ عید الفطر کے پیش نظر کینٹ ایریا میں پہلے ہی سیکورٹی ہائی الرٹ ہے۔ تاہم کامرہ سانحہ کے بعد کینٹ ایریا میں پولیس گشت میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صدر سمیت دیگر چیک پوسٹوں پر بھی تعینات اہلکاروں کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔فیصل شہزاد نے کہا کہ ائیرپورٹ کے باہر بھی پولیس کی نفری بڑھادی گئی ہے۔ پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل طاہر رفیق بٹ کی زیر صدارت ایک اعلی سطحی اجلاس ائیرہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پی اے ایف بیس منہاس کامرہ پر دہشت گردوں کے حملے اور سکیورٹی اہلکاروں کی بروقت جوابی کارروائی سمیت دیگر امور کا جائزہ لیا گیا۔ ذمہ دار ذرائع کے مطابق اجلاس میں پاک فضائیہ کی اس اہم ترین ائیر بیس پی اے ایف بیس منہاس کامرہ پر ایک بار پھر دہشت گردوں کے حملے اور اس کے نتیجے میں پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں پاک فضائیہ کی دیگر تنصیبات پر سکیورٹی انتظامات کو سخت تر کرنے کی ہدائیت جاری کی گئی جبکہ سکیورٹی کے انتظامات کا ازسر نو جائزہ لے کر مزید اقدامات کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

مزید : صفحہ اول