برطانیہ میں 2008 ءسے 2010 ءکے درمیان 1 ہزار افراد کی خودکشیاں

برطانیہ میں 2008 ءسے 2010 ءکے درمیان 1 ہزار افراد کی خودکشیاں

لندن (مرزا نعیم الرحمان سے) کساد بازاری اور بیروزگاری میں اضافے سے انگلینڈ میں 2008 ءاور 2010 ءکے درمیان ایک ہزار سے زائد افراد نے موت کو گلے لگالیا ایک اندازے کے مطابق 846 مردوں اور 155 عورتوں نے اس عرصہ کے دوران خودکشی کی ، مردوں کی خودکشی میں 1.4 فیصد اضافہ ہواخودکشی کرنے والے بیروزگار مردوں میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے سائنس دانوں نے تاریخی ریکارڈ کا موازنہ کرتے ہوئے خودکشی کے اضافی واقعات کو کساد بازاری سے منسلک کیا ہے خودکشی کا ڈیٹا 93 انگلش رینجز کا ہے جو نیشنل کلینیکل اینڈ ہیلتھ آوٹ کمس ڈیٹا بیس سے لیا گیا رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں مردوں میں مجموعی بیروزگاری 25.6 فی صد بڑھی اور اسے خودکشی کی ایک وجہ قرار دیدیا گیا خودکشی کرنے والے بے روزگار مردوں کی تعداد 3.6 فی صد بڑھی اور یہ تعداد 329 رہی تحقیق کے سربراہ اور یونیورسٹی آف لیورپول کے بین بار نے کہا کہ حالیہ کساد بازاری میں انگلینڈ میں خودکشی کرنے والے بیروزگاروں کی تعداد 40 فی صد رہی ڈپارٹمنٹ آف ہیلتھ کے ایک ترجمان نے کہا کہ اس طرح سے پیاروں کو کھونا انتہائی تکلیف دہ اور تباہ کن ہوتا ہے ہم لوگوں کو مناسب اور درست سپورٹ فراہم کرکے ان کو خودکشی سے بچانے کی ہرممکن کوشش کررہے ہیں ہم جلد اپنی خودکشی سے بچا سٹرٹیجی شائع کررہے ہیںرپورٹ کے مطابق انگلینڈ میں خودکشی کی شرح تاریخی طور پر کم ہے اور 2005 کے بعد سے اس میں تبدیلی نہیں آئی۔

مزید : صفحہ آخر