قسمت کی تبدیلی

قسمت کی تبدیلی

 ہم نے آزادی کی 66ویں سالگرہ منائی اور دھوم دھام سے منائی۔نوجوانوں نے خوب ہلہ گلہ کیا۔آزادی کا دن خوشیوں سے لبریز ہوتا ہے،روح کو بالیدگی عطا کرتا ہے اور جذبوں کو تابندگی بخشتا ہے۔یہ دن اس بات کا بھی موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنی کامیابیوں اور نا کامیوں کی بیلنس شیٹ پر نظر ڈالیں۔ میں مایوسی نہیں پھیلانا چاہتا مگر یہ تو دیکھنا چاہئے کہ ہم نے آزادی کے برسوں میں کیا کھویا کیا پایا۔ہم نے عہد تو کیا تھا کہ پاکستان کو ایک جمہوری اور خوشحال مثالی مملکت بنائیں گے لیکن ہم نے ابتدا ہی غلط کی اور ملک سے جمہوریت کو رخصت کر دیا اور ملک کو آمریت کے سپرد کر دیا جس کی وجہ سے لوگوں کے بنیادی حقوق پر ضرب پڑی اور احساس محرومی نے جنم لیا اور یوں ملک دو لخت ہو گیا۔ باقی ماندہ ملک میں بھی بار بار کی آمرانہ حکومتوں نے ہماری جڑیں کھوکھلی کر دیں اور ہم ایک قوم کے بجائے مختلف گروپوں میں بٹ گئے۔مذہب، فرقہ، علاقہ، صوبہ، نسل اور زبان کے امتیازات ابھر کر سامنے آ گئے۔ہم نے ملک کے پہلے وزیر اعظم خان لیاقت علی خان کو شہید کیا، پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے کر شہید کیا اور پہلی خاتون وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کو بھی شہید کیا۔ہم نے دو تہائی اکثریت رکھنے والے وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت بھی ختم کی اور اسے پہلے قلعوں میں ڈالا اور پھر جلا وطن کر دیا۔ بد قسمتی یہ ہے کہ اگر کبھی جمہوریت بحال بھی ہوتی ہے تو ہم اس کے خاتمے کے لئے کوشاں ہوجاتے ہیں اور اس کا گلا گھونٹنے میں پیش پیش ہوتے ہیں۔آج بھی صدر مملکت نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ جو جمہوریت کی علامت اور نگہبان ہے، اس پر حملے جاری ہیں ، انہوں نے قوم کو ان خطرات سے ہوشیار رہنے کی تلقین کی ہے۔دوسری طرف وزیر اعظم نے اپوزیشن پر زور دیا ہے کہ وہ آئندہ الیکشن کے لئے نگران حکومت کی تشکیل کے مسئلے پر مذاکرات کرے۔کون نہیں جانتا کہ ملکی پارلیمنٹ کو بالادست اور خودمختاراور آزاد ہونا چاہئے اور اس کے معاملات میں کسی کو مداخلت نہیں کرنی چاہئے ، باقی ریاستی اداروں کی طرح پارلیمنٹ کی آزادی کو بھی آئین میں تحفظ دیا گیا ہے۔اور قانون سازی کے لئے اسے مکمل اختیارات حاصل ہیں۔موجودہ پارلیمنٹ شروع ہی سے خطرات کا مقابلہ کر رہی ہے اور اب اپنی ٹرم کے اختتام کی طرف رینگ رہی ہے۔پتہ نہیں کیوں ہم اپنی جمہوری آزادیوں کے خلاف بر سر پیکار ہیں اور سسٹم کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھنا چاہتے۔جمہوریت ہے تو آج ایک پارٹی کی حکومت ہے ، کل کسی اور کی باری آ سکتی ہے، اسی لئے وزیر اعظم نے اپوزیشن سے کہا ہے کہ وہ نگران ڈھانچے کی تشکیل پر بات کے لئے آگے بڑھے۔ ویسے تو ملک میں ایک غیر جانبدار اور شفاف الیکشن کمشن وجود میں آ چکا ہے ۔اب اگر نگران حکومت پر اتفاق رائے ہو جائے اور انتظامی مشینری سمیت تمام ادارے یہ عزم کریں کہ وہ الیکشن معاملات میں دخل نہیں دیں گے تو یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ جمہوریت کی گاڑی پٹڑی پر آگے بڑھتی رہے۔یہاں میں اپنی یہ تجویز دہراﺅں گا کہ اگر پارلیمنٹ کی میعاد چار سال کر دی جائے تو شاید ہم اپنی بے صبری کو کنٹرول میں رکھ سکیں ، اب تک تو یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی منتخب حکومت کو ٹکنے نہیں دیا جاتا اور عوام بہت جلد اس سے اکتا جاتے ہیں یا اپوزیشن اسے گھر بھجوانے کے لئے زور آزمائی شروع کر دیتی ہے۔ امریکہ میں بھی حکومت کی میعاد چار سال ہے ، اگر ہم بھی آئین میں اتفاق رائے سے یہ ترمیم کر لیں اور حکومت کی ٹرم ایک سال کر دیں تو جمہوری استحکام کو فروغ ملنے کی توقع پوری ہو سکتی ہے۔

یوم آزادی کے اگلے ہی روز اور شب قدر کے مقدس لمحات میں کامرہ ایئر بیس پر رات گئے دہشت گردی کی کاروائی سے ہماری آنکھیں کھل جانی چاہیئں ، ایک تو ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ہماری حفاظت کو یقینی بنانے والی مسلح افواج کو کمزور کرنے میں کس کا مفاد پوشیدہ ہے، پاکستان کے دشمنوں کی کوئی کمی نہیںاور ہم خود بھی اپنے دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیلنے لے لئے تیار رہتے ہیں۔بہر حال کامرہ دہشت گردی انتہائی قابل مذمت ہے، یہ ہماری دفاعی قوت پر ضرب کاری لگانے کی ایک کوشش تھی، ہمارے کمانڈوز نے جان پر کھیل کر اس واردات کو ناکام بنایا۔دہشت گردی اور انتہا پسندی کے عفریت نے ہماری رگوں سے بہت سا خون چوس لیا ہے۔ ہمیں اس مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہئے اور ان اسباب کودور کرنا چاہئے جوانتہا پسندی کو فروغ دے رہے ہیں ، ہماری پارلیمنٹ اس ضمن میں کئی قراردادیں منظور کر چکی ہے جن پر عملدرآمد سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے اسباب کو ختم کیا جاسکتا ہے، ان میں ڈرون حملے قابل ذکر ہیں جن میں بے گناہ افراد بھی مارے جاتے ہیں اور ان کا انتقام لینے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ ڈرون حملے پاکستان کی خودمختاری کا بھی منہ چڑاتے ہیں، اس لئے پاکستان کو بیک آواز امریکہ اورنیٹو سے مطالبہ کرنا چاہئے کہ وہ ہماری سرحدوں کا احترام کرے، ڈرون حملے بند کیے جائیں اور سلالہ کی طرح کے سانحے دوبارہ نہ دہرائے جائیں۔

آزادی کی سالگرہ مناتے ہوئے ہمیں یہ احساس جکڑ لیتا ہے کہ ہم صرف نام کے آزاد ہیں اور ہماری نکیل غیروں کے ہاتھ میں ہے۔یا ہم ان کی مالی امداد اور قرضوں کے مرہون منت ہو کر اپنی آزادی گروی رکھ بیٹھے ہیں۔ہم اپنی قسمت کے آپ مالک نہیں ہیں۔ حالات کا تقاضا یہ ہے کہ ایک زندہ اور متمدن قوم کی طرح ہمیں اپنی تقدیر اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرنی چاہئے اور اپنی قسمت کے فیصلے خود کرنے چاہئیں۔ہمیں دنیا کے ساتھ برابری کے تعلقات قائم کرنے چاہئیں۔بجا کہ امریکہ ایک سپر پاور ہے لیکن اس کے ہوتے ہوئے اگر باقی ممالک اپنی خود مختاری کا بھرم رکھنے میں کامیاب ہیں تو ہمارے راستے میں رکاوٹ کیا ہے، میرے نزدیک سب سے پہلے ہمیں اپنے اداروں کے استحکام پر توجہ دینی چاہئے تاکہ ہمارے پاﺅں مضبوطی سے زمین پر جم سکیں۔ ہمارے ریاستی اداروں کو ایک دوسرے کا احترام کرناچاہئے اور کسی کو نیچا دکھانے کی کوشش ترک کر دینی چاہیئے، یہی وہ طریقہ ہے جس پر عمل کرتے ہوئے ہم قوموں کی برادری میںدوسروں کو اپنے احترام پر مجبور کر سکتے ہیں، ہم ان کی ڈکٹیشن سے آزاد ہو سکتے ہیں اور اپنی قسمت کو تبدیل کرنے کے فیصلے خود کر سکتے ہیں۔66برس میں ہماری تیسری نسل جوان ہو رہی ہے اور وہ ہم سے ہوش مندی کا تقاضا کر رہی ہے، آیئے ، اسے مایوسی کے اندھیروں سے نکالیں اور ملک پر نئی نسل کے اعتماد کو مستحکم اور مضبوط کریں۔یوم آزادی منانے کا اصل تقاضا یہی ہے۔

مزید : کالم