سلطانیءجمہور کا آتا ہے زمانہ

سلطانیءجمہور کا آتا ہے زمانہ

 پاکستان کے آئین کے آرٹیکل نمبر2۔الف میں واضح طور پر تحریر ہے کہ پاکستان میں جمہوریت، آزادی،مساوات،برداشت اور سماجی انصاف کے اصولوں کے مطابق عمل درآمد کرایا جائے گا۔آئین پاکستان کے دوسرے باب میںانسانی و بنیادی حقوق بھی ضمانت شدہ ہیں۔پاکستان میں اس سال کے آخریا اگلے سال کے اوائل میں انتخابات کے انعقاد کی توقع کی جاتی ہے ۔

اس سے قبل ایک نگران حکومت بھی قائم کی جائے گی۔اب ملک کے ایک دیانت دار اور قابل قانون دان جناب جسٹس (ر)فخر الدین جی ابراہیم کو متفقہ طور پر چیف الیکشن کمشنر تعینات کیا گیا ہے ۔ملک کے عوام بجاطور پر توقع رکھتے ہیں کہ آئندہ انتخابات میں ان اصحاب کا انتخاب ہو،جو ملک میں موجود دہشت گردی،لاقانونیت، غربت، بے روزگاری،قومی دولت کی لوٹ کھسوٹ،بجلی کی شدید لوڈشیڈنگ،معاشرہ میںبے پناہ اونچ نیچ کے فرق، جہالت کے خاتمے کے لئے قومی امنگوں کو پورا کریں،غیر ملکی قرضوںپر انحصار کی لعنتیں، نیز ملک میں قومی اقتصادی خودکفالت کی پالیسی اور عدل و انصاف پر مبنی نظام قائم کریں۔

ان مقاصد کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ ملک کی موجودہ سیاسی جماعتوں کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے حالیہ فیصلے کے مطابق انتخابات کے شفاف اور غیر جانبدارانہ انعقاد کے لئے سپریم کورٹ کی سفارشات پر عمل کرنا ہوگا۔ اس کیس میں ممتاز قانون دان عابد حسن منٹو نے پیروی فرمائی،جس میں محنت کشوں کی قومی تنظیم پاکستان ورکرز کنفیڈریشن کے علاوہ کئی دیگر تنظیموں نے سپریم کورٹ میں اس مقصد کے لئے رٹ دائر کی تھی ۔ الیکشن کمیشن کو مروجہ قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرانا ہوگا،جس سے بوگس ووٹنگ نہ ہو، لیکن ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے :

1۔سپریم کورٹ نے بھی حالیہ فیصلے میں یہ سفارشات کی ہیں کہ انتخابی مہم میں حد سے زائد اخراجات پر پابندی کے علاوہ امیدواروں کو گھر گھر جا کر اپنا انتخابی منشور پیش کرنا چاہیے۔ریڈیو،ٹیلی ویژن کے ذریعے انتخابی مہم کی کارروائی کرنی چاہیے، جلسے اور جلوسوں سے عوام کا وقت اور پیسہ کا بے جا ضیاع نہیں کرنا چاہیے۔

2۔تمام سیاسی جماعتیںنعرے بازی اور ایک دوسرے کو بُرا بھلا کہنے کی بجائے عوام کی فلاح بہبود اور ملک کو درپیش سنگین مسائل کے حل کے لئے اپنا انتخابی منشور پیش کریں۔

3۔اس وقت ووٹوں میں اکثریت حاصل کرنے والا امیدوار کامیاب ہوجاتا ہے ،چاہے اسے کل ووٹروں کی 15فیصدکی حمایت حاصل ہو۔مثال کے طو رپر پشاور نیشنل اسمبلی کی سیٹ نمبر1پر صرف11فیصد اجتماعی ووٹوں کی تعداد حاصل کرکے اسمبلی کا رکن منتخب ہوگیا۔اس لئے یہ بھی ضروری ہے کہ الیکشن سے قبل دوسرے ممالک کی طرح عام ووٹروں کو لازمی طور پر ووٹ ڈالنے کاپابند کیا جائے۔

4۔اس وقت ووٹنگ کا طریقہ ہاں یا نہ میں ہوتا ہے ، لیکن ووٹروں کو یہ بھی حق دیا جائے کہ وہ موجودہ امیدواروں کی حمایت کانفی میں بھی اظہار کر سکیں۔

5۔سیاسی جماعتوںاور الیکشن کمیشن کا یہ بھی فرض ہے کہ ووٹ کی اہمیت اور قومی مسائل کے حوالے سے عوام کے سیاسی شعور کو بلند کرنے کے لئے اقدامات کریں، تاکہ جاگیردار، سرمایہ دار طبقہ اپنے ناجائز اثرورسوخ اور دولت کے بل بوتے پر الیکشن میں حصہ نہ لے سکے۔

5۔ووٹروں کی مدد کے لئے پولنگ سٹیشن زیادہ ہوں، نیزپولنگ کو پُرامن طور پر منعقد کرنے کے لئے موثر انتظامات کے لئے صوبائی و مرکزی حکومتوں کے ملازمین کے علاوہ فوج کے ارکان کی مدد لی جائے اور قانون کے مطابق امیدواروں اور سیاسی جماعتوں پر بے جا اخراجات کی پابندی پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔

آئندہ انتخابات میں سیاسی جماعتوں کا بھی فرض ہے کہ وہ انتخابات میں جاگیرداروں و سرمایہ داروں اور اپنے خاندان کے افراد کو انتخابی ٹکٹ دینے کے بجائے دانشوروں، محنت کشوں و کسانوں اور درمیانی طبقے کے محب وطن اصحاب کو اسمبلی کا ٹکٹ دیں، جو قومی و صوبائی اسمبلیوں میں جا کر اپنی لوٹ کھسوٹ کی بجائے ملک و قوم کی بہبود کے لئے خدمات سرانجام دیں....اللہ تعالیٰ ہمارے وطن عزیز پاکستان میں 18کروڑ عوام کی قسمت بدلنے کے لئے ان کی جدوجہد سے آئندہ انتخابات میں بہتر تبدیلی لانے میں کامیاب فرمائے،جس سے غریب عوام اور نوجوانوں کا مستقبل بہتر ہو سکے۔آمین!  ٭

مزید : کالم